روضہ منوره حضرت امام علی رضاؑ کی ویب سائٹ

1397/10/8 شنبه

اَسمائے حُسنیٰ کے معانی اور خواص؛ امام علی رضاؑ کے کلام کی روشنی میں

.
اَسمائے حُسنیٰ کے معانی اور خواص؛ امام علی رضاؑ کے کلام کی روشنی میں

اَسمائے حُسنیٰ کے معانی اور خواص؛ امام علی رضاؑ کے کلام کی روشنی میں

تحریر: اُلفت حسین جوئیہ

’’اَسماء حُسنیٰ‘‘ خداوندِ متعال کے حَسین و جمیل، خوبصورت اور پیارے ناموں کے معنی میں ہے۔ اَسماء حُسنیٰ کا لفظ قرآنِ کریم میں چار مرتبہ آیا ہے۔[1] ’’اَسماء حُسنیٰ‘‘ وہی اَسماء و صفات ہیں جو خداوندِ متعال میں منحصر ہیں اور انسان کے خدا کے ساتھ رابطے کا ذریعہ ہیں؛ یعنی انسان اِن اَسماء و صفات  کے ذریعے ہی خدا کی معرفت حاصل اور اُس سے رابطہ قائم کر سکتا ہے۔

اگرچہ بعض روایات میں اسماءِ الٰہی کی ایک خاص تعداد (ننانوے) کی طرف اشارہ کیا گیا ہے لیکن بعض محققین کے مطابق قرآنِ کریم کی آیات میں اَسماء حُسنیٰ کی تعداد محدود کرنے پر کوئی دلالت نہیں ہے، بلکہ محققین نے خداوندِ متعال کے ایک سو ستائیس (۱۲۷) اَسماء شمار کیے ہیں۔[2]

بعض روایات میں ائمہ اطہار علیہم السلام کو اَسماء حُسنیٰ کے مصداق کے طور پر بیان کیا گیا ہے، جیسا کہ مولائے کائنات حضرت امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’ہم ہی وہ اَسماء حُسنیٰ ہیں جن کے ذریعے جب بھی خداوندِ متعال سے سوال کیا جائے تو وہ جواب دیتا (اور عطا فرماتا) ہے۔‘‘[3]

بعض علماء کا کہنا ہے کہ متعدّد روایات کی روشنی میں سورۂ اعراف کی آیت نمبر ۱۸۰ میں ﴿وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا ...﴾؛ ’’کہ خدا کے لیے اَسماء حُسنیٰ ہیں پس انہیں کے ساتھ اُسے پکارو۔‘‘ خدا کو پکارنے سے مراد حضرت محمد مصطفیٰ اور آپؐ کے اہل بیتِ اطہار علیہم السلام سے توسُّل ہے۔[4] اِس سلسلے میں حضرت امام علی رضا علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جب بھی تمہیں کوئی مشکل پیش آئے تو ہم سے مدد مانگو اور ہمارے وسیلے سے خدا سے اپنی مشکلات کا حل چاہو، جیسا کہ خداوندِ متعال فرما رہا ہے: ﴿وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا[5]

خداوندِ متعال کے اَسماءِ گرامی اور ان کے معانی کے سلسلے میں حضرت امام علی رضا علیہ السلام ایک طویل حدیث میں ارشاد فرماتے ہیں: ’’خداوندِ متعال نے کچھ ناموں کے ساتھ اپنی توصیف کی ہے اور مخلوق کو دعوت دی ہے کہ اُسے اُن ناموں کے ساتھ پکارے، پس اُس نے سمیع، بصیر، قادر، قائم، ناطق، ظاہر، باطن، لطیف، خبیر، قوی، عزیز، حکیم، علیم اور اِن جیسے چند اور اَسماء کے ساتھ اپنے آپ کو متّصف کیا ہے ...۔‘‘ اِس کے بعد امامؑ اِن اَسماء کے معانی بیان فرماتے ہیں۔ ہم اختصار کے پیشِ نظر چند اَسماء کے معانی کو ذکر کیے دیتے ہیں۔ آپؑ فرماتے ہیں: ’’خداوندِ متعال کو ’’عالِم‘‘ جو کہا جاتا ہے تو اس لیے کہ وہ ہر چیز سے آگاہ ہے اور کسی بھی چیز سے ناآگاہ نہیں ہے ... اُس کا ’’لطیف‘‘ ہونا اِس معنی میں ہے کہ (اُس کی قدرت اور اُس کا علم) تمام اَشیاء میں نفوذ رکھتا ہے اور وہ قابلِ رؤیت (دکھائی دینے والا) اور قابلِ توصیف اور قابلِ ادراک نہیں ہے ... اُس کے ’’خبیر‘‘ ہونے سے مراد یہ ہے کہ کوئی بھی چیز اُس پر پوشیدہ نہیں ہے ... اُس کے ’’ظاہر‘‘ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ تمام اَشیاء پر غالب، مسلّط اور قادر ہے اور ’’ظاہر‘‘ ہونے کا دوسرا معنی یہ ہے کہ وہ ہر اُس شخص کے لیے ظاہر ہے جو اُسے طلب کرے (اور خدا کے لیے بھی ہر چیز ظاہر ہے) اور اُس پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے ...۔ پس کوئی بھی ظاہر خدا سے زیادہ ظاہر اور روشن نہیں ہے اس لیے کہ جہاں بھی دیکھو اُس کی صنعت و خلقت موجود ہے اور تمہارے اپنے وجود (جسم) کے اندر اُس کے بہت سے آثار موجود ہیں ... خداوندِ متعال کے ’’قاہر‘‘ ہونے سے مراد یہ ہے کہ اُس کی تمام مخلوقات اُس کے سامنے ذلّت و خواری کا لباس پہنے ہوئے ہیں، خدا اُن کے بارے میں جو بھی ارادہ کرے وہ اُس سے سرپیچی (اور انکار) کی طاقت نہیں رکھتی ہیں اور پلک جھپکنے کے برابر بھی اُس کی حکومتِ ’’کُنْ فَیَکُونُ‘‘ سے باہر نہیں نکل سکتی ہیں۔‘‘[6]

خداوندِ متعال کے اَسماء حُسنیٰ کے خواص کے بارے میں حضرت امام رضا علیہ السلام سے متعدّد روایات نقل ہوئی ہیں، جن میں آپؑ نے اِن اَسماء کے خاص تعداد یا خاص انداز میں پڑھنے کے اَثرات بیان فرمائے ہیں؛ منجملہ آپؑ ارشاد فرماتے ہیں: ’’جو شخص ہر روز تیس (۳۰) بار ’’یَا تَوَّابُ‘‘ کہے تو اُس کا دل وسوسوں سے پاک ہو جائے گا اور اُس کی توبہ قبول ہو گی۔ جو کسی سخت بیماری میں مبتلا ہو تو روزانہ ایک سو ایک (۱۰۱) بار ’’یَا وَاحِدُ‘‘ پڑھے۔ گمشدہ چیز کے ملنے یا ہر سخت کام کے لیے چالیس (۴۰) شب ہائے جمعہ، ہر شبِ جمعہ کو ہزار بار ’’یَا اَوَّلُ‘‘ پڑھے۔ روز مرّہ پریشانیوں کی دُوری اور اہم کاموں کی انجام دہی کے لیے ہر روز صبح کی نماز کے بعد کوئی دُنیوی کام یا بات کرنے سے پہلے سات (۷) بار پڑھے: ﴿... فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ[7]۔ اگر ہر شبِ جمعہ سو (۱۰۰) مرتبہ ’’اَلْبَارِیُ‘‘ کا ورد کرے تو خدا اُسے قبر میں تنہا نہیں چھوڑے گا اور اُس کے لیے ایک مونس و ہمدم بھیجے گا۔ کثرت کے ساتھ ’’اَلْعَلِیُّ‘‘ کا وِرد کرنے والا معاشرے میں عزّت و احترام پائے گا اور اگر غریب الوطن ہے تو عزّت کے ساتھ وطن پلٹے گا۔‘‘[8]

’’بیمار کی صحت و سلامتی کی نیّت سے ایک سو اکتیس (۱۳۱) بار اُس کے سرہانے ’’اَلسَّلَامُ‘‘ پڑھیں تو وہ شفایاب ہو جائے گا۔ جو خَلوتوں میں کثرت سے ’’اَلصَّمَدُ‘‘ پڑھے تو وہ کسی سے نہیں ڈرے گا۔ جو کثرت سے ’’یَا قَهَّارُ‘‘ کا ورد کرے تو خدا اُس کے دل سے دُنیا کے رنج و اَلم اور غم و اندوہ کو برطرف فرمائے گا اور وہ اپنے نفس پر غالب آئے گا۔ جو ہر روز نوّے (۹۰) بار ’’اَلْمَلِکُ‘‘ پڑھے تو مخلوق سے بےنیاز ہو جائے گا اور اُسے دنیا و آخرت کی دولت نصیب ہو گی۔ جو شخص ہر روز زوال کے وقت ایک سو ستّر (۱۷۰) مرتبہ ’’اَلْقُدُّوْسُ‘‘ کہے تو اُس کا دل پاک و صاف ہو جائے گا اور وہ نفس اور شیطان کے شرّ سے محفوظ رہے گا۔ جو نماز سے فارغ ہونے کے بعد ہاتھوں کو بلند کر کے سات (۷) بار ’’اَلْوَهَّابُ‘‘ پڑھے اور پھر حاجت طلب کرے تو اس کی وہ حاجت پوری ہو جائے گی۔ ’’حَیُّ قَیُّومُ‘‘ کا ورد کرنے والے کی عمر دراز اور مراد پوری ہو گی۔ ’’اَلْمُقِیْتُ‘‘ کو سات (۷) بار آبِ جاری یا آبِ باران پر پڑھ کر بچے کو پلائیں تو وہ خوش اخلاق اور ذہین ہو گا، وہ جو بھی پڑھے گا اُسے یاد ہو جائے گا[9] اور میاں بیوی کے درمیان اُلفت و محبت کے لیے سیاہ منقّیٰ یا ان کے کھانے پر ایک ہزار ایک (۱۰۰۱) بار ’’اَلْوَدُوْدُ‘‘ پڑھ کر انہیں کھلا دیں تو ان کے درمیان مہر و محبت پیدا ہو جائے گی۔‘‘[10]

 

[1]. ملاحظہ فرمائیں: سورۂ اعراف، آیت۱۸۰؛ سورۂ اِسراء (بنی اسرائیل)، آیت۱۱۰؛ سورۂ طہ، آیت۸ اور سورۂ حشر، آیت۲۴

[2]. Fa.wikishia.net

[3]. بحار الاَنوار، علامہ محمد باقر مجلسیؒ، ج۳۷، ص۳۹

[4]. لمعات در شرح دعاء سمات، دہکردی اصفہانی، ص۲۵۔۲۸، بحوالۂ سائٹ: Fa.wikishia.net

[5]. الاختصاص، محمد ابن محمد ابن نعمان (شیخ مفیدؒ)، ص۲۵۲، طبع اوّل، سال اشاعت: ۱۴۱۳ھ ق، ناشر: المؤتمر العالمی لاَلفیۃ الشیخ المفیدؒ، قم المقدّسہ

[6]. مسند الامام الرضا علیہ السلام، علامہ عزیز اللہ عطاردیؒ، ج۱، ص۱۲، کتاب التوحید، باب۳، حدیث۵

[7]. سورۂ بقرہ، آیت۱۳۷

[8]. ملاحظہ فرمائیں: www.aghigh.ir

[9]. ملاحظہ فرمائیں:  www.qudsonline.ir

[10]. ملاحظہ فرمائیں: www.imamreza_fa.blogfa.com

دوروں کی تعداد : 53

 
امتیاز دهی
 
 

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر

اس بارے میں پڑہیں:
قرآن کریم میں عیسیٰؑ کی تعلیمات اور موجودہ عیسائیت
مجلہ شمس الشموس 20
زبان
  • 2018.12.23 воскресенье زبان
    انسان کے جسم میں بعض اعضاء بڑے ہیں اور بعض ان کے مقابلے میں چھوٹے ہیں لیکن ہر ایک اپنی جگہ پہ ایک الگ اہمیت کا حامل ہے، انہیں اعضاء میں سے ایک عضو زبان ہے،
    قرآن و عترت
حضرت علی علیہ السلام اور دنیا
امام رضاؑ کی زیارت کی فضیلت
[Part_khabar]

امام رضا علیہ السلام کی ملکوتی بارگاہ ایک ایسا دروازہ ہے جوخدا کی طرف کھلتا ہے۔ یہ ملکوتی بارگاہ ہر اس شخص کے لئے پناہ گاہ ہے جو رازونیاز کرنے کے لئےاس کی طرف دوڑا چلا آتا ہے، امام علی ابن موسیٰ الرضا علیہ السلام نے اپنی آغوش رحمت کو اپنے چاہنے والوں کے لئے پھیلا رکھاہے اور توس کی سرزمین پر اپنے وجود کی خوشبوسے اپنے زائرین اور مجاورین کی روح اور جان کو محبت اور رأفت سے نوازتے ہیں۔ لیکن ایسے آسمانی اور ملکوتی گوھر کا مہمان اور میزبان ہونا بھی کوئی آسان کام نہیں ہے ۔اور ایک ایسی فضا اورماحول کو جو امام ھمام کی شأن و منزلت کے مطابق ہو ایجاد کرنے کے لئے مسئولیت کا قبول کرناایک مھم اور مشکل کام ہے ۔ اس مھم کام کی ذمہ داری ادارہ ’’آستان قدس رضوی‘‘ کے اوپر ہے۔ ’’آستان قدس رضوی‘‘ رسمی طور پر ایک ایسے مجموعہ ہے جو حرم امام رضا علیہ السلام  اور اس کی موقوفات اور جتنے بھی اس کے متعلقات ہیں ان کی سرپرستی اور مدیریت کرتا ہے۔ یہ ادارہ اپنی تمام تر تلاش کو بہ روئے کار لاتے ہوئے امام رضا علیہ السلام کے زائرین اور مجاورین کی ضروریات کو نذورات اور زائرین کی موقوفات پر تکیہ کرتے ہوئے پوری کرتا ہے۔ حریم مقدس حرم کی نوسازی ومرمّت  اور اس کی حفاظت اور زائرین کی میزبانی کے لئےمتبرک مقامات کی آمادہ سازی، معرفت اور آسانی سے زیارت کرنے کے لئے مختلف امکانات کا مھیا کرنا، زائرین کی راھنمائی اور۔۔۔ یہ چند ایک آستان قدس رضوی کی ایسی خدمات ہیں جن کو پہلی نگاہ میں مشاھدہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن آستان قدس رضوی کی فعالیتوں کی حد و حدود ،حرم مطہر کے وسیع وعریض ابعاد سے بھی فراتر ہے۔ میوزیم، لائبریریز، یونیورسٹیاں اور مدارس، میڈیکل سینٹر اور ہسپٹلز اور انڈسٹریز سینٹرز،آستان قدس رضوی کی چند ایک دوسری فعالیتیں ہیں۔ اس ادارے کے مھم اھداف سےمزید آشنا ہونے کے لئے آپ آستان قدس رضوی کی بیس سالہ کی گئی پلاننگ کے مجوزات کو دیکھ سکتے ہیں۔