روضہ منوره حضرت امام علی رضاؑ کی ویب سائٹ

1397/10/1 شنبه

اسلام میں تعلیم و تبلیغ کی اہمیت

.
اسلام  میں تعلیم و تبلیغ کی اہمیت

اسلام  میں تعلیم و تبلیغ کی اہمیت

حجۃ الاسلام عالیجناب مولانا سید شاہد جمال رضوی صاحب قبلہ، گوپالپوری

          انبیاءاور آسمانی رہبروں کی بعثت کا فلسفہ اور ان کی کتابوں کا واقعی ہدف" لوگوں کی ہدایت ورہبری اور تبلیغی مسائل کا نفاذ"تھا؛اس لئے کہ بنی نوع انسان کی ترقی او رتکامل اسی امر میں پوشیدہ ہے۔ اگر اس مقدس دینی اور اجتماعی امر کو اٹھا لیا جائے تو معاشرہ درہم برہم ہوکر حیوانیت کی شکل میں ظاہر ہوجائے گا۔

          یہی وجہ ہے کہ آنحضرت کو ان کی رسالت کے ابتدائی ایام میں خداوند عالم کی جانب سے"انذار" کا حکم دیا گیا چنانچہ بے دین، گنہگار اور منحرف افراد کے حولے سے ان کی ذمہ داری واضح و آشکار ہوئی اور وہ ان کی تبلیغ و ہدایت پر مامور ہوئے۔

          اسی سلسلے میں حضرت نوح علیہ السلام اپنی الہٰی رسالت کے نو سو پچاس؍۹۵۰ سال تک شب و روز لوگوں کی تبلیغ میں مشغول رہے اور خلوت و جلوت اور خصوصی و عمومی کسی موقع پر اس انسانیت ساز امر سے دست بردار نہیں ہوئےاور دنیا کو اپنے ثبات قدم سے مبہوت کردیا۔در اصل قرآن مجید نے اس اہم ترین اجتماعی ذمہ داری کو ایک اجتماعی ضرورت شمار کیا ہے،اسے ایک انسانی اور ایمانی امتیاز سے تعبیر کیا ہے۔(سورۂ توبہ؍۷۱)اور مجموعی طور پر اسلامی معاشرے کی سعادت و خوش بختی کو ثبات قدم اور تبلیغی مسائل کے نفاذ سے مربوط و وابستہ قرار دیا ہے۔(سورۂ آل عمران؍۱۱۰)

تبلیغ کی ضرورت؛قرآن کی روشنی میں

یہاں طولانی بحثوں سے اجتناب کرتے ہوئے قارئین کی خدمت میں اس موضوع سے متعلق قرآن مجید کی بعض آیتیں پیش کی جارہی ہیں:

كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَحِدَةً فَبَعَثَ اللَّهُ النَّبِيِّينَ مُبَشِّرِيْنَ وَ مُنْذِرِينَ‏؛"سارے انسان ایک تھے پھر اللہ نے بشارت دینے والے اور ڈرانے والے انبیاء بھیجے۔"‏)سورۂ بقرہ؍۲۱۳)

آپ نے غور فرمایا کہ اس آیۂ مبارکہ میں آسمانی رہبروں کی بعثت کا فلسفہ اور اس دنیا میں ان کا واقعی ہدف یہ بتایا گیا ہے کہ وہ لوگوں کو اعمال خیر کی بشارت دیں اور ان کو مختلف و متعدد انحرافات سے ڈرائیں اور خوف زدہ کریں۔

يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيْبُوا لِلَّهِ وَ لِلرَّسُوْلِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيْكُمْ‏؛"اے ایمان والو! اللہ و رسول کی آواز پر لبیک کہو جب وہ تمہیں اس امر کی طرف دعوت دیں جس میں تمہاری زندگی ہے۔"(سورۂ انفال؍۲۴)

قابل غور بات یہ ہے کہ اس آیۂ مبارکہ میں تبلیغ اور اس کے اثرات کو حقیقی حیات اور ابدی ذکر سے تعبیر کیا گیا ہے جس سے اس امر کی اہمیت سمجھ میں آتی ہے۔

وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِى كُلِّ‏ِ أُمَّةٍ رَّسُوْلاً أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ‏؛"اور یقیناً ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا ہے کہ تم لوگ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے اجتناب کرو۔"(سورۂ نحل؍۳۶)

اس آیت میں تمام انبیائے الٰہی کے وظیفہ کو دو باتوں میں خلاصہ کیا گیا ہے:توحید کی دعوت اور شرک و طاغوت کی پرستش سے اجتناب۔

وَإِنْ أَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ اسْتَجَارَك فَأَجِرْهُ حَتَّى يَسْمَعَ كَلَامَ اللَّهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَا يَعْلَمُونَ‏؛"اوراگر مشرکین میں کوئی تم سے پناہ مانگے تو اسے پناہ دے دو تاکہ وہ کتاب خدا سنے،اس کے بعد اسے آزاد کرکے جہاں اس کی پناہ گاہ ہو وہاں تک پہنچا دو اور یہ مراعات اس لئے ہیں کہ یہ جاہل قوم حقائق سے آشنا نہیں ہے۔"(سورۂ توبہ؍۶)

لوگوں کی تبلیغ و ہدایت کی اہمیت کے پیش نظر خداوند عالم حکم فرماتا ہے کہ اس سلسلے میں "کفار" کو بھی فراموش نہ کیا جائے۔وہ جب بھی حق و حقیقت پر مبنی مطالب سننے کے خواہشمند ہوں تو کمال امنیت کے ساتھ ان کی خواہشات کی موافقت کرتے ہوئے ان تک الٰہی حقائق و معارف پہونچائے جائیں۔

قرآن کی ہزاروں آیات میں سے لوگوں کی تبلیغ و ہدایت کی اہمیت و ضرورت کے سلسلے میں یہ چند آیتیں نمونے کے طور پر پیش کی گئی ہیں۔

تبلیغ کی اہمیت؛معصومینؑ کے اقوال میں:

          قرآن مجید کی طرح، معصومین کے اقوال میں بھی تبلیغ کی اہمیت و ضرورت پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے؛ لیجئے اس سلسلے میں بعض نمونے ملاحظہ فرمایئے:

نہج البلاغہ کے ۵۴ویں خطبہ سےمعلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام جنگ صفین میں جنگ و قتال کی ممانعت کررہے تھے(حضرت علی علیہ السلام نے کسی بھی جنگ میں جنگ کا آغاز نہیں کیا ہے بلکہ ہمیشہ دفاعی صورت اختیار کی ہے۔ دشمنوں کے شروع کرنے کے بعد اپنے حملوں کا آغاز کیا ہے، مزید معلومات کے لئے ناچیز کی کتاب"سیمای حکومتی علی علیہ السلام"ملاحظہ فرمائیں۔)یہ مخالفت و ممانعت اس حد تک پہونچ گئی کہ لوگوں نے آپ پر بزدل اور جنگی امور میں اخلال ڈالنے کا الزام لگایا۔حضرتؑ نے ان کے جواب میں فرمایا: جنگ خیبر میں جس دن مسلمان فتح وکامرانی سے مایوس ہوگئے تھے اور اول و دوم بھی شکست اور یہودی سپاہیوں کے مد مقابل فرار کے ذریعہ مسلمان سپاہیوں کو خوفزدہ کررہے تھے، اس وقت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:کل میں اسے عَلم دوں گا جو خداورسول کو دوست رکھتا ہے اور خداو رسول بھی اسے دوست رکھتے ہیں ، وہ جنگ سے کبھی فرار نہیں کرتا...

          بالآخرانہوں نے جب پرچم اسلام میرے حوالے کیا تو جنگ کے لئے روانہ کرتے وقت فرمایا:"اگر تمہارے وسیلہ سے ایک گمراہ انسان کی بھی ہدایت ہوگئی تو تمہارے لئے ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جن پر آفتاب اپنی روشنی بکھیرتا ہے۔"(کنزالعمال،ج؍۱۳،ص۱۰۷،نمبر؍۳۶۳۵۰؛ص؍۱۲۰،نمبر؍۳۶۳۸۸؛صحیح مسلم،ج؍۵،ص۱۰۵)

          اس حدیث نبوی اور سیرت علوی سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کی تبلیغ و ہدایت کی بہت زیادہ اہمیت ہے یہاں تک کہ عادی اور معمولی حالات و ماحول میں جہاد پر بھی مقدم ہے۔

فضیل بن یسار کا بیان ہے: میں نے امام باقر علیہ السلام سے عرض کی:یابن رسول اللہ ! آیۂ مبارکہ"جوبھی کسی ایک انسان کو زندہ کرے وہ ایسے ہی ہے جیسے اس نے پوری انسانیت کو زندہ کیا ہے۔"(سورۂ بقرہ؍۳۲)

میں نے سوال کیا:اگر کوئی شخص کسی کو فکری اور عقیدتی انحراف و گمراہی سے نجات دلائے تو کیا وہ اس آیت کا مصداق قرار پاسکتا ہے؟حضرت نے فرمایا:یہ تو آیت کا بہترین مصداق اور مفہوم ہے۔(بحارالانوار،ج؍۷۴،ص؍۴۰۳،ح؍۴۹؛اصول کافی،ج؍۲،ص؍۲۱۰،ح؍۲)

یہ حدیث لوگوں کی ہدایت و تبلیغ کی عظمت و اہمیت کی نشاندہی کررہی ہے کہ صرف ایک انسان کی ہدایت،تمام دنیا والوں کی نجات کے مد مقابل قرار دی گئی ہے۔

رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے دسویں سال حضرت ابو طالب ؑ اور جناب خدیجہؑ  کی وفات ہوگئی،رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان دونوں بے نظیر حامی و مددگار کے فقدان کی وجہ سے ایک طرف تو بہت زیادہ غم و اندوہ میں مبتلا تھے تو دوسری طرف قریش کی سخت آزار و اذیت سے بہت زیادہ رنجیدہ خاطر تھے۔اسی لئے طائف کی طرف روانہ ہوگئے،لیکن ثقیف کے اوباش مکہ کے لوگوں سے بھی زیادہ بدتر تھے جنہوں نے بے رحمانہ طریقہ سے آنحضرت پر سنگباری کی، آپ مجبوراً دوبارہ قریش کی طرف واپس آگئے لیکن ان کی شرارت پسندیوں سے محفوظ نہیں تھے،دوسری طرف گمراہوں کی ہدایت و تبلیغ کے لئے ایک قوی اور قدرتمند پناہ گاہ کی ضرورت تھی جو ان بد اندیشوں سے محفوظ رکھ سکے؛اسی لئے قریش کی ایک بزرگ شخصیت"مطعم بن عدی" کو پیغام بھیجوایا کہ آنحضرت کو پناہ دیں۔

مطعم نے کمال شجاعت کے ساتھ ان کی درخواست کو تسلیم کیا، جنگی اسلحہ زیب تن کیا، اپنے فرزندوں اور اقارب کو بھی حکم دیا کہ سبھی مسلح ہوجائیں پھر مسجد الحرام میں داخل ہوئے اور وہاں آزار و اذیت پہنچانے والوں کے سامنے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حمایت کا اعلان کردیا...۔(کامل ابن اثیر،ج؍۲،ص؍۹۲،۹۳؛طبقات ابن سعد،ج؍۱،ص؍۲۱۰؛البدایۃ والنہایۃ،ج؍۲،ص؍۱۳۷)

جنگ بدر کے بعد فرمایا:"اگر مطعم زندہ ہوتے اور مجھ سے درخواست کرتے کہ تمام اسیروں کو آزاد کردوں یا انہیں بخش دوں تو میں ان کی درخواست رد نہیں کرتا۔"(فروغ ابدیت،ج؍۱،ص؍۳۲۵)

اس تاریخی واقعہ اور نبوی سیرت سے استفادہ کیا جاسکتا ہے کہ لوگوں کی تبلیغ و ہدایت اتنی اہم ہے کہ اس کے لئے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کافر شخص سے مدد اور پناہ کی درخواست کی اور ان کی موت کے بعد ان کی عظمت و اہمیت کا تذکرہ کیا نیز مختصر سی نصرت کے لئے دشمنوں کے ستر اسیروں کی بخشش مطعم سے وابستہ کردی۔

جنگ جمل کی آگ بھڑکانے والوں نے امیرالمومنینؑ کے بعض سپاہیوں کے قتل کے بعد حضرتؑ سے جنگ کرنے کا ارادہ کیا تو آپؑ نے قرآن ہاتھ میں لے کر اپنے اصحاب کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:کون ہے جو اس قرآن کو ہاتھ میں لے کر ان دھوکہ کھانے والوں کو جنگ وقتال سے ڈرائے؟اگر اس کا داہنا ہاتھ کاٹ دیا جائے تو وہ قرآن کو بائیں ہاتھ میں لے لے؟(تاریخ طبری،ج؍۳،ص؍۵۲۰-۵۲۲؛شرح ابن ابی الحدید،ج؍۹،ص؍۱۱۱؛بحارالانوار،ج؍۳۲،ص؍۱۷۴؛ سفینۃ البحار،ج؍۱،ص؍۵۴۳)

چنانچہ ایک جوان نے قرآن کو لے کر اپنی شہادت تک اپنے وظیفہ کو بخوبی انجام دیا...۔

جنگ صفین میں بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا۔حضرتؑ نے پھر فرمایا:کون ہے جو اس کلام اللہ کو ہاتھ میں لے کر شام میں پلنے والے دل کے اندھوں کو قرآن کی حکمیت کی طرف دعوت دے؟

سعد نامی ایک جوان کھڑے ہوئے اور اس خطرناک ماموریت کے سلسلے میں اپنے ہاتھوں کو کٹوانے کے بعد درجۂ شہادت پر فائز ہوگئے۔(بحارالانوار،ج؍۳۲،ص؍۴۶۷؛شرح ابن ابی الحدید،ج؍۵،ص؍۱۹۶)

ان تاریخی واقعات اور امیرالمومنینؑ کی سیرت سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ لوگوں کی ہدایت و تبلیغ اتنی اہم ہے کہ حضرت جنگ شروع ہونے سے پہلے دشمنوں کو نصیحت کرتے ہوئے اس بات پر تیار ہوجاتے ہیں کہ اس وظیفہ کی انجام دہی میں ان کے باوفا اصحاب جام شہادت نوش کرلیں...۔

مبلغ کی اہمیت

          ہر انسان کی اہمیت و عظمت اس کے ہدف و مقصد سے مربوط ہوتی ہے، ہدف جتنا قیمتی اور خدمت خلق پر مشتمل ہوگا،اس کی نسبت سے اس کی شخصیت بھی اہمیت کی حامل ہوتی جائے گی۔اس تناظر میں ہر چیز، ہر شخص اور ہر مکتب کے مبلغ کی اہمیت مساوی نہیں ہے، آسمان اور زمین کے اعتبار سے ان میں فرق ہے۔

          جس مبلغ نے اپنے کو مادی مسائل کی تبلیغ میں مشغول کررکھا ہے اور اشخاص،نظام اور مکاتب سے مربوط اپنی تبلیغ کو مال و متاع حاصل کرنے کا ذریعہ قراردیا ہے،ایسے شخص کا ثواب اور ہدف مادی مسائل کے علاوہ کچھ اور نہیں ہوگا۔

          خدانخواستہ اگر کوئی مبلغ بنی نوع انسان کو فساد و انحراف اور فحشا و منکرات کی دعوت دیتا ہے تو ایسا شخص نہ صرف یہ کہ انسانی قدر و قیمت کا حامل نہیں بلکہ وہ لوگوں کے کاموں میں شریک ہوتے ہوئے ان فسادیوں کے برابر سزا اور عذاب دیکھے گا جو اس کی تبلیغ کے سایہ میں زندگی گزار رہے تھے۔

          آخرکار ایک مبلغ جو معرفت کے تمام تر سوز و درد اور دوسرے ضروری شرائط کے ساتھ میدان میں قدم رکھتا ہے، بنی نوع انسان کو نیک اعمال کی دعوت دیتا ہے اور برے اعمال سے روکتا ہے، ہر روز اور ہر لمحہ ان کو کمال، تہذیب وتمدن اور انسانیت کی جانب آگے بڑھاتا ہے اور انسانی معاشرے سے ایک"درخشاں مدینہ" تعمیر کرتا ہے تو بلا تردید ایسے مبلغ کی شخصیت تمام تر عظمتوں سے بلند ہوگی،اس کے بلندتر مرتبہ تک کوئی بھی مادی و معنوی قدروقیمت رسائی حاصل نہیں کرسکتی۔وہ معاشرے میں زندگی گزارنے والے انسانوں کے برابر اجر وثواب کا مستحق ہوگا۔

مسلمان مبلغ کا مرتبہ

          مسلمان مبلغ کی اہمیت اور اس کے مرتبہ کی وضاحت کے لئے ضروری ہے کہ اسلام کی نظر میں اس کی منزلت واضح و آشکار ہو۔اسی لئے یہاں قرآن مجید کی بعض آیتیں اور اہل بیت کرام کی بعض حدیثیں ہدیہ قارئین کی جارہی ہیں:

مبلغ کا مرتبہ؛قرآن کے آئینہ میں

          قارئین کی توجہ مبذول کرنے کے لئے یہاں مبلغ کی منزلت کے سلسلے میں بعض آیتیں پیش کی جارہی ہیں:

وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلاً مِّمَّن دَعَا إِلَى اللَّهِ وَ عَمِلَ صَالِحاً وَ قَالَ إِنَّنِى مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ‏؛"اور اس سے زیادہ بہتر بات کس کی ہوگی جو لوگوں کو اللہ کی طرف دعوت دے اور نیک عمل بھی کرے اور یہ کہے کہ میں اس کے اطاعت گزاروں میں سے ہوں۔"(سورۂ فصلت؍۳۳)

یہ آیت تمام اسلامی مبلغین جن کے اندر تبلیغ کے شرائط موجود ہیں، کو مژدہ سنا رہی ہے کہ ان کا قول بہترین قول اور ان کی اہمیت سب سے عظیم اور بلند تر ہے اس لئے کہ وہ حق اور توحید... کے داعی اور مبلغ ہیں۔

يَأَيُّهَا الرَّسولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّك وَ إِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ‏؛"اے رسولؐ! آپ پر آپ کے پروردگار کی طرف سے جو کچھ نازل کیا گیا ہے اسے لوگوں تک پہونچا دیجئے،اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو گویا آپ نے کوئی کار رسالت انجام ہی نہیں دیا۔"(سورۂ مائدہ؍۶۷)

اگرچہ متذکرہ آیۂ مبارکہ غدیر خم میں امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کے سلسلے میں نازل ہوئی ہے لیکن مبلغ کے مرتبہ و مقام کے سلسلے میں اس آیت سے استفادہ کیا جاسکتا ہے کہ خداوند عالم نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک مبلغ کی حیثیت سے تعارف کرایا ہے او رمبلغ کے مرتبہ کو رسالت الٰہیہ کے مرتبہ کا ہم پلہ قراردیا ہے۔

أُبَلِّغُكُمْ رِسَالَاتِ رَبّى وَأَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ أَمِين‏؛"حضرت ہود اپنی قوم کو مخاطب کرکے فرماتے ہیں:"میں ایک مبلغ اور الٰہی دستورات کا پیامبر ہوں، ہمیشہ تمہارا خیر خواہ اور امین ہوں۔"(سورۂ اعراف؍۶۸)

آپ نے غور فرمایا کہ اس آیت میں حضرت ہود کا مبلغ کی حیثیت سے تعارف کرایا گیا ہے جس سے اسلامی مبلغ کا مرتبہ اور اس کی عظمت و اہمیت کی نشاندہی ہوتی ہے۔

اگر اس سلسلے میں مزید آیتیں پیش کی گئی تو ممکن ہے قارئین کے مزاج پر بار ہو ورنہ اس موضوع سے متعلق قرآن مجید میں دوسری بہت سی آیتیں موجود ہیں جن میں خداوند عالم کا"معلم اور مبلغ" کی حیثیت سے تعارف کرایا گیا ہے۔(اس سلسلے میں ناچیز کی کتاب"زمینہ ہای فساد در جامعہ و راہ درمان" کا مطالعہ فرمائیں۔) اور آسمانی رہبروں کو انسانوں کے مبلغین اور پیامبر ان کی حیثیت سے پہچنوایا گیا ہے۔(سورۂ اعراف؍۹۳؛ہود؍۵۷؛نوح؍۷،۸؛شعراء؍۱۱۵وغیرہ)

مبلغ کا مرتبہ؛احادیث معصومین علیہم السلام کی روشنی میں

اہل بیت کرام علیہم السلام کی احادیث میں مبلغ کا مرتبہ بہت زیادہ عظیم اور عالی ہے، اس لئے کہ شرائط تبلیغ کے حامل مبلغین اتنے عظیم مرتبہ پر فائز ہوجاتے ہیں کہ انبیاء، شہداء اور صالحین ان کے مرتبہ کی آرزو کرتے ہیں، جن مبلغین کو خداوند عالم نے اپنا خلیفہ اور زمانے کے امام کی حجت قرار دیا ہے اور جبرئیل اور انبیائے کرام کے نقش و کردار کو ان کے ملکوتی جسم و روح میں تجسیم کیا ہے، ان کو پاداش وثواب کے اعتبار سے خداوند عالم اپنے لطف و کرم سے اتنا قریب کرلیتا ہے کہ اس بہترین تبلیغ کے سایہ میں پلنے والے تمام افراد کے برابر اسے اجروثواب عطا فرماتا ہے۔

لیجئے اس سلسلے میں آئمہ معصومین علیہم السلام کی کچھ احادیث ملاحظہ فرمایئے:

قال رسول الله: الا اخبرکم باقوام لیسو بانبیاء و لا شهداء...الخ"رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:کیا میں تمہیں ایسے گروہ سے باخبر نہ کروں جو نہ رسول ہیں  اور نہ ہی شہید لیکن انبیاء اور شہداء بھی ان کے مقام و مرتبہ کی آرزو کرتے ہیں؟! یہ وہ افراد ہیں جو بندوں کو خدا سے اور خدا کو اس کے بندوں سے مہربان اور قریب کرتے ہیں اور روئے زمین پر دل سوزی سے حرکت کرتے ہیں۔سوال کیا گیا: کیسے؟ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ لوگوں کو خدا کی اطاعت اور گناہوں سے پرہیز کرنے کی دعوت دیں گے، جب خدا کے بندے ایسا کریں گے تو خداوند عالم انہیں دوست رکھے گا اور وہ بھی خدا کو دوست رکھیں گے۔"(کنز العمال،ج؍۳،ص؍۷۵،ح؍۵۵۵۶)

اس حدیث میں دینی اور الٰہی مبلغ کے بلند ترین مرتبہ کی نشاندہی کی گئی ہے، بہت سی احادیث میں ہے کہ علماء ومبلغین انبیائے بنی اسرائیل سے بھی افضل ہیں اور ان کے قلم کی روشنائی، شہداء کے پاکیزہ خون سے زیادہ اہم اور مفید ہے۔(اصول کافی،ج؍۱،باب؍فضل العلم؛بحارالانوار،ج؍۱،۲)

عن النبی: من امربالمعروف و نهی عن المنکر...الخ "رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:جس شخص اور جس دینی مبلغ نے لوگوں کو اعمال خیر کی دعوت دی اور برے کاموں سے روکا، وہ روئے زمین پر خدا،رسول اور قرآن مجید کا جانشین و خلیفہ ہے۔"(تفسیر مجمع البیان،ج؍۲،ص؍۴۸۴)

عن النبی: من امر بمعروف و نهی عن المنکر...الخ "رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:جس نے بھی اپنی تبلیغی مسئولیت کے دوران دوسروں کواعمال خیر کی دعوت دی اور برے کاموں سے روکا،یا پھر ان کے سامنے اعمال خیر کی نشاندہی کی اور اشارہ کیا، تو ایسا شخص اجرو ثواب میں ان کا شریک قرار پائے گا۔"(جامع احادیث شیعہ،ج؍۱۴،ص؍۳۸۴،ح؍۲۸۸۰)

یہ حدیث بھی مبلغ کی اہمیت و عظمت کو اجاگر کرتے ہوئے اسے ان تمام افراد کے اجرو ثواب میں شریک قرار دیتی ہے جنہوں نے اس کے وسیلہ سے ہدایت حاصل کی ہے، اس لئے کہ کسی کام کا عامل و محرک،اس کے اجروثواب میں لوگوں کے ساتھ شریک ہوتا ہے۔(وسائل الشیعہ،ج؍۱۱،ص؍۴۳۶،ح؍۳)

عن اسحاق بن یعقوب فی توقیع مولا صاحب الزمان...الخ"اسحاق بن یعقوب سے منقول ایک توقیع میں امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف فرماتے ہیں:روزانہ کے مسائل اور گوناگوں واقعات کے سلسلے میں ہمارے مبلغین اور احادیث بیان کرنے والوں کی جانب رجوع کرو اس لئے کہ وہ تمہارے درمیان ہماری حجت ہیں اور میں بھی خدا کی حجت ہوں۔"(وسائل الشیعہ،ج؍۱۸،ص؍۱۰۱،ح؍۹؛سفینۃ البحار،ج؍۲،ص؍۶۷۴)

یہ توقیع اپنے بہترین مطالب کے ساتھ مبلغین کی اہمیت و عظمت کی نشاندہی کررہی ہے، اگرچہ ہر عام اور بے قیمت مبلغ کو شامل نہیں ہے لیکن مجموعی طور پر یہ حدیث ہر مبلغ کو امام زمانہ کی "حجت" کی حیثیت سے پہچنوا رہی ہے اور چونکہ امام زمانہ خدا کی حجت ہیں اس لئے در واقع مبلغ بھی خدا کی حجت قرار پائے گا۔

عید نوروز میں تین اشعار کی اہمیت

 ایک دن منصور دوانقی نے امام موسیٰ بن جعفر علیہما السلام سے عید نوروز کے جلوس کی درخواست کی، حضرت نے اس کی درخواست مسترد کرتے ہوئے فرمایا:میں نے اپنے آبائے کرام سے عید نوروز کی مشروعیت کے متعلق کچھ نہیں سنا ہے لیکن خلیفہ کے اصرار کی وجہ سے ایسے جلوس کی موافقت کرنی پڑی۔

خلیفہ کے افسر،ملک کی برجستہ شخصیتیں اور تمام لشکر والے گرانقدر تحائف کے ساتھ حضرت کی خدمت میں پہونچے اور عید کی آمد پر تبریک و تہنیت پیش کی ...۔

محفل کے اختتام پر اچانک ایک ضعیف انسان وارد ہوا اور عرض کی:اے فرزند رسولﷺ! میں ایک فقیر اور تنگ دست انسان ہوں، اسی لئے کوئی تحفہ نہیں لاسکا،ہاں! میرے جد نے آپ کے جد کے مصائب میں تین اشعار کہے تھے اگر اجازت ہو تو میں ہدیہ کے عنوان سے ان اشعار کو آپ کے حضور پڑھوں۔اجازت ملنے پر اس نے وہ اشعار پڑھے۔

امام نے فرمایا: میں نے تمہارا ہدیہ قبول کیا، بیٹھو، خدا تمہیں برکت عطا فرمائے گا۔ پھر منصور کے خادم کی طرف رخ کرکے فرمایا:جاکر خلیفہ سے سوال کرو کہ وہ ان تحائف کا کیا کرے گا۔خلیفہ نے حضرت کا ارشاد سن کر پیغام بھیجوایا کہ میں نے سب  آپ کو بخش دیا۔

اس وقت امام کاظم علیہ السلام نے اس ضعیف انسان کو بلایا اور اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے فرمایا: اقبض جمیع هذا المال فهو هبة منی لک"میں تمہارے اشعار کے بدلے یہ تمام اموال تمہیں بخشتا ہوں، جاؤ انہیں خرچ کرو۔" (بحارالانوار، ج؍۴۸،ص؍۱۰۸،ح؍۹)

قارئین کرام! آپ نے غور فرمایا کہ امام موسی بن جعفر علیہما السلام نے ایک طرح کی تبلیغ پر مشتمل تین اشعار کے بدلے میں کتنے تحائف عطا فرمائے اور اسلامی مبلغ کا کس طرح شکریہ ادا کیا۔ اس سے ان بر جستہ مبلغین کا مرتبہ واضح وآشکار ہوتا ہے جو وسیع پیمانے پر دین اور احکام الٰہیہ کی تبلیغ میں مشغول ہیں۔

دوروں کی تعداد : 42

 
امتیاز دهی
 
 

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر

اس بارے میں پڑہیں:
قرآن کریم میں عیسیٰؑ کی تعلیمات اور موجودہ عیسائیت
مسجد اسلام کا مضبوط قلعہ
اسلام میں تعلیم و تبلیغ کی اہمیت
آلِ محمد سے کیا مراد ہے؟
  • 2018.12.3 понедельник آلِ محمد سے کیا مراد ہے؟
    چونکہ درود سے بھی آلِ محمد کی فضیلت ثابت ہوتی ہے جس سے ہر انسان کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب اتنے افضل اور اعلیٰ لوگ موجود تھے تو پھر امت نے انہیں حکومت کیوں نہ دی؟
    مفاھیم قرآن
تلاوت قرآن کی فضیلت اور اس کا ثواب
  • 2018.11.28 среда تلاوت قرآن کی فضیلت اور اس کا ثواب
    قرآن وہ آسمانی قانون اور ناموس الہیٰ ہے جو لوگوں کی دنیوی اور اخروی سعادت کی ضمانت دیتا ہے۔ قرآن کی ہر آیت ہدایت کا سرچشمہ اور رحمت و راہنمائی کی کان ہے۔ جو بھی ابدی سعادت اور دین و دنیا کی فلاح و کامیابی کا آرزو مند ہے اسے چاہیے کہ شب و روز قرآن کریم سے عہد و پیمان باندھے
    مفاھیم قرآن
[Part_khabar]

امام رضا علیہ السلام کی ملکوتی بارگاہ ایک ایسا دروازہ ہے جوخدا کی طرف کھلتا ہے۔ یہ ملکوتی بارگاہ ہر اس شخص کے لئے پناہ گاہ ہے جو رازونیاز کرنے کے لئےاس کی طرف دوڑا چلا آتا ہے، امام علی ابن موسیٰ الرضا علیہ السلام نے اپنی آغوش رحمت کو اپنے چاہنے والوں کے لئے پھیلا رکھاہے اور توس کی سرزمین پر اپنے وجود کی خوشبوسے اپنے زائرین اور مجاورین کی روح اور جان کو محبت اور رأفت سے نوازتے ہیں۔ لیکن ایسے آسمانی اور ملکوتی گوھر کا مہمان اور میزبان ہونا بھی کوئی آسان کام نہیں ہے ۔اور ایک ایسی فضا اورماحول کو جو امام ھمام کی شأن و منزلت کے مطابق ہو ایجاد کرنے کے لئے مسئولیت کا قبول کرناایک مھم اور مشکل کام ہے ۔ اس مھم کام کی ذمہ داری ادارہ ’’آستان قدس رضوی‘‘ کے اوپر ہے۔ ’’آستان قدس رضوی‘‘ رسمی طور پر ایک ایسے مجموعہ ہے جو حرم امام رضا علیہ السلام  اور اس کی موقوفات اور جتنے بھی اس کے متعلقات ہیں ان کی سرپرستی اور مدیریت کرتا ہے۔ یہ ادارہ اپنی تمام تر تلاش کو بہ روئے کار لاتے ہوئے امام رضا علیہ السلام کے زائرین اور مجاورین کی ضروریات کو نذورات اور زائرین کی موقوفات پر تکیہ کرتے ہوئے پوری کرتا ہے۔ حریم مقدس حرم کی نوسازی ومرمّت  اور اس کی حفاظت اور زائرین کی میزبانی کے لئےمتبرک مقامات کی آمادہ سازی، معرفت اور آسانی سے زیارت کرنے کے لئے مختلف امکانات کا مھیا کرنا، زائرین کی راھنمائی اور۔۔۔ یہ چند ایک آستان قدس رضوی کی ایسی خدمات ہیں جن کو پہلی نگاہ میں مشاھدہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن آستان قدس رضوی کی فعالیتوں کی حد و حدود ،حرم مطہر کے وسیع وعریض ابعاد سے بھی فراتر ہے۔ میوزیم، لائبریریز، یونیورسٹیاں اور مدارس، میڈیکل سینٹر اور ہسپٹلز اور انڈسٹریز سینٹرز،آستان قدس رضوی کی چند ایک دوسری فعالیتیں ہیں۔ اس ادارے کے مھم اھداف سےمزید آشنا ہونے کے لئے آپ آستان قدس رضوی کی بیس سالہ کی گئی پلاننگ کے مجوزات کو دیکھ سکتے ہیں۔