روضہ منوره حضرت امام علی رضاؑ کی ویب سائٹ

1397/9/12 دوشنبه

آلِ محمد سے کیا مراد ہے؟

.
آلِ محمد سے کیا مراد ہے؟

آلِ محمد سے کیا مراد ہے؟

(قرآن میں)

آلِ محمد سے کیا مراد ہے؟

ناصبی دعویٰ کہ ’’آلِ محمد‘‘ سے مراد "پوری امت” ہے

چونکہ درود سے بھی آلِ محمد کی فضیلت ثابت ہوتی ہے جس سے ہر انسان کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب اتنے افضل اور اعلیٰ لوگ موجود تھے تو پھر امت نے انہیں حکومت کیوں نہ دی؟ جبکہ علم شجاعت، زہد، تقویٰ اور عدل کے علاوہ حکومت چلانے کے لئے بیس فی صدی خمس لینے کے حقدار بھی یہی ہیں، جس سے حکومت کا خرچ چلتا۔

مکتبِ صحابہ کے لیے یہ ایسا مشکل ترین اور پریشان کن سوال ہے جس کی وجہ سے انہیں لفظ آل میں مغالطہ پیدا کرنا لازمی ہو گیا اور انہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ ’’آلِ محمد‘‘ سے مراد پوری امت ہے۔ اور ثبوت کے طور پر یہ دلیل دی کہ:

قرآن میں لفظ ’’مومن آلِ فرعون‘‘ آیا ہے۔

مگر فرعون کی کوئی اولاد نہیں تھی

اس سے ثابت ہوا کہ وہ شخص فرعون کا بیٹا نہیں تھا، بلکہ اُس کی قوم کا ایک شخص تھا۔

اور قرآن نے اُس قوم کے شخص کے لئے ’’آل‘‘ کا لفظ لگا کر ثابت کر دیا ہے کہ ’’آل‘‘ سے مراد ’’پوری امت‘‘ ہے۔

آئیے اللہ کے بابرکت نام سے ابتدا کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اس ناصبی دعویٰ میں کتنی صداقت ہے۔

قرآن میں آل سے مراد ’’اولاد/ نسل/خاندان‘‘ ہے

قرآن میں ’’آل‘‘ سے مراد کہیں بھی ’’پوری امت‘‘ نہیں ہے، بلکہ صرف اور صرف "اولاد/نسل/خاندان”ہے۔

جہاں تک ’’مومن آلِ فرعون‘‘ کا تعلق ہے، تو یہ باتیں ذہن نشین فرمائیں کہ:

اُس وقت مصر کے تمام کے تمام حکمرانوں کا لقب فرعون تھا۔

اور سارے فرعون بے اولاد نہیں تھے۔

اور انہیں فرعونوں کی نسلوں سے مل کر ایک خاندان بن گیا تھا جو کہ "آلِ فرعون” کے نام سے جانا جاتا تھا۔

اللہ نے اسی آلِ فرعون کے خاندان کے ایک شخص کو "مومن آلِ فرعون” کہا ہے۔

بعض مرتبہ حکمران مختلف القاب اختیار کرتے ہیں، جیسے قیصر، کسریٰ، سیزر وغیرہ۔ آج اگر ہم سے کوئی پوچھے کہ سعودی عرب پر کون حکمران ہے تو ہم یہی کہیں گے کہ آلِ سعود حکمران ہیں، اور ان کا لقب ملک ہے۔

سعودیہ میں شاہ فہد بادشاہ اور ان کے بھتیجے عبد اللہ ولیعہد قرار پائے ہیں۔ جبکہ اس سلطنت کی بنیاد عبد العزیز ابن عبد الرحمان بن فیصل السعود نے رکھی تھی۔ اس وقت سے ان کے جانشین، بلکہ تمام خاندان کو آلِ سعود کے نام سے جانا جاتا ہے۔ تو ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ ولیعہد عبداللہ کا تعلق آلِ سعود سے ہے اور انہی کی حکومت ہے اور اسی طرح اور جتنے شہزادے ہیں وہ سب بھی آلِ سعود کے نام سے جانے جاتے ہیں۔

مگر یہ سعودی عرب کے ہر شہری کے متعلق نہیں کہا جا سکتا کہ اس کا تعلق بھی آلِ سعود سے ہے۔

حکمرانوں کا ملک ہوتا ہے، قوم ہوتی ہے مگر امت نہیں۔ امت تو صرف انبیاء کی ہوتی ہے۔ جبکہ فرعون نبی اور رسول نہیں تھا، بلکہ کافر حکمران تھا۔ اولاد کی اولاد کے سلسلہ کو نسل کہتے ہیں اور ان ہی سے خاندان کا وجود ہے۔ قرآن میں آّل سے مراد یہی اولاد، نسل یا خاندان ہے۔

قرآن میں ’’آل‘‘ کی مزید مثالیں

 ناصبی حضرات حسبِ عادت قرآن کا صرف ایک حصہ لیتے ہیں جسے وہ توڑ مڑوڑ کر اپنی خواہشات کے مطابق ڈھال سکیں، اور باقی قرآن کو یکسر ٹھکرا دیتے ہیں۔

قرآن میں لفظ "آل” کے استعمال کے ساتھ بھی انہوں نے یہی رویہ اختیار کیا ہے۔

ذیل میں ہم قرآن کی وہ آیات پیش کرنے جا رہے ہیں جنہیں ناصبی حضرات نے ٹھکرایا ہوا ہے۔

ان آیات کا اردو ترجمہ و تفسیر سعودی عرب کے شائع کردہ قرآن سے دیا جا رہا ہے۔ (اس قرآن کو سعودی حکومت نے لاکھوں کی تعداد میں چھپوا کر پاکستان میں مفت تقسیم کرایا ہے۔ اس قرآن کے ’مقدمہ‘ میں اس کے مترجم اور مفسر کا تعارف کراتے ہوئے لکھا ہے :

خادمِ حرمین الشریفین کی انہی ہدایات اور وزارت برائے مذہبی امور کے اسی احساس کے پیشِ نظر مجمع الملک فھد لطباعۃ المصحف الشریف المدینہ المنورہ اردو دان قارئین کے استفادہ کے لیے قرآن مجید کا یہ اردو ترجمہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہے۔

یہ ترجمہ مولانا جوناگڑھی کے قلم سے ہے اور تفسیری حواشی مولانا صلاح الدین یوسف کے تحریر کردہ ہیں۔ مجمع کی جانب سے نظر ثانی کا کام ڈاکٹر وصی اللہ بن محمد عباس اور ڈاکٹر اختر جمال لقمان نے انجام دیا ہے۔)

آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ سعودی عالم آلِ فرعون کا ترجمہ اردو میں کیا کر رہا ہے۔

وَقَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ مِّنْ آلِ فِرْعَوْنَ یَکْتُمُ إِیمَانَہُ أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَن یَقُولَ رَبِّیَ اللَّہُ وَقَدْ جَاءکُم بِالْبَیِّنَاتِ مِن رَّبِّکُمْ

(القرآن ۴۰:۲۸) اور ایک مومن شخص نے، جو کہ فرعون کے خاندان سے تھا، کہا کہ کیا تم ایک شخص کو محض اس بات پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے؟ اور تمہارے رب کی طرف سے دلیلیں لے کر آیا ہے۔

اردو ترجمہ از سعودی مطبوعہ قرآن

صرف یہیں ایک جگہ نہیں، بلکہ جہاں جہاں قرآن میں آل کا لفظ آیا ہے، وہاں پر ایک دفعہ بھی ان سعودی علماء نے اس کا ترجمہ کبھی قوم یا امت نہیں کیا ہے بلکہ ہمیشہ ترجمہ کے لیے خاندان والے یا گھر والے استعمال کیا ہے۔

مثلاً سورہ یوسف میں اللہ سبحانہ تعالیٰ آلِ یعقوب استعمال کر رہا ہے :

وَکَذَلِکَ یَجْتَبِیکَ رَبُّکَ وَیُعَلِّمُکَ مِن تَأْوِیلِ الأَحَادِیثِ وَیُتِمُّ نِعْمَتَہُ عَلَیْکَ وَعَلَى آلِ یَعْقُوبَ کَمَا أَتَمَّہَا عَلَى أَبَوَیْکَ مِن قَبْلُ إِبْرَاہِیمَ وَإِسْحَاقَ إِنَّ رَبَّکَ عَلِیمٌ حَکِیمٌ

(القرآن ۱۲:۶) اور اسی طرح تیرا پروردگار تجھے برگزیدہ کرے گا اور تجھے معاملہ فہمی (یا خوابوں کی تعبیر) سکھائے گا اور اپنی نعمت تجھے بھرپور عطا فرمائے گا۔ اور یعقوب کے گھر والوں کو بھی۔ جیسے کہ اس نے اس سے پہلے تیرے دادا اور پردادا یعنی ابراہیم و اسحاق کو بھی بھرپور اپنی نعمت سے نوازا۔

ترجمہ از سعودی مطبوعہ قرآن

اور آلِ یعقوب کے ذیل میں ان سعودی علماء نے جو تفسیر کی ہے، وہ بھی قابلِ غور ہے

اس (نعمت) سے مراد نبوت ہے، جو یوسف (ع) کو عطا کی گئی۔ یا وہ انعامات ہیں جن سے یوسف علیہ السلام مصر میں نوازے گئے۔ اور آلِ یعقوب سے مراد یوسف علیہ السلام کے بھائی اور ان کی اولاد وغیرہم ہیں، جو بعد میں انعاماتِ الٰہی کے مستحق بنے۔

آل سے مراد قوم یا امت ہرگز نہیں ہے کیونکہ اللہ نے قرآن میں ’’آل‘‘ کے لفظ کے ساتھ "قوم” کا لفظ استعمال کر کے آل اور قوم دونوں کو الگ الگ کر دیا ہے۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ قرآن کیسے ’’آل‘‘ اور ’’قوم‘‘ میں فرق کر رہا ہے :

کَذَّبَتْ قَوْمُ لُوطٍ بِالنُّذُرِ

إِنَّا أَرْسَلْنَا عَلَیْھمْ حَاصِبًا إِلَّا آلَ لُوطٍ نَّجَّیْنَاھم بِسَحَرٍ

(القرآن ۵۴:۳۴) قومِ لوط نے بھی ڈرانے والوں کی تکذیب کی۔ بیشک ہم نے ان پر پتھر برسانے والی ہوا بھیجی، سوائے لوط (علیہ السلام) کے گھر والوں کے، انہیں ہم نے سحر کے وقت نجات دے دی۔

ترجمہ از سعودی مطبوعہ قرآن

پھر ملاحظہ فرمائیں کہ کس طرح سعودی مطبوعہ قرآن آل کا ترجمہ قوم یا امت کرنے کی بجائے گھر والوں کر رہا ہے۔

اگر آل سے مراد امت یا قوم ہوتی تو پھر حضرت لوط (ع) کی امت تو اسی رات عذاب سے دفن ہو گئی تھی جبکہ اللہ کہہ رہا ہے کہ اس نے آلِ لوط کو بچا لیا ہے۔

ایک اور جگہ اللہ قرآن میں کہہ رہا ہے :

قَالُواْ إِنَّا أُرْسِلْنَا إِلَى قَوْمٍ مُّجْرِمِینَ

إِلاَّ آلَ لُوطٍ إِنَّا لَمُنَجُّوھمْ أَجْمَعِینَ

لاَّ امْرَأَتَہُ قَدَّرْنَا إِنَّھا لَمِنَ الْغَابِرِینَ

فَلَمَّا جَاء آلَ لُوطٍ الْمُرْسَلُونَ

(القرآن، سورہ ۱۵، آیات ۵۸ تا ۶۱) (فرشتوں) نے کہا کہ ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ سوائے خاندانِ لوط کے (آلِ لوط) کے کہ ان سب کو بچا لیں گے۔ مگر سوائے (لوط) کی بیوی کے، کہ اسے ہم نے رکنے اور باقی رہ جانے والوں میں مقرر کر دیا ہے۔ جب بھیجے ہوئے فرشتے آلِ لوط کے پاس پہنچے تو لوط (علیہ السلام) نے کہا کہ تم لوگ تو انجان معلوم ہو رہے ہو۔

ترجمہ از سعودی مطبوعہ قرآن

اور دوسری جگہ اللہ فرما رہا ہے :

فَمَا کَانَ جَوَابَ قَوْمِہِ إِلَّا أَن قَالُوا أَخْرِجُوا آلَ لُوطٍ مِّن قَرْیَتِکُمْ إِنَّھمْ أُنَاسٌ یَتَطَھرُونَ

(القرآن ۲۷:۵۶) تو ان کی قوم کا کوئی جواب نہیں تھا سوائے اس کے کہ لوط کے خاندان (آلِ لوط) کو اپنی بستی سے نکال باہر کرو کہ یہ لوگ بہت پاکباز بنتے ہیں۔

ترجمہ از سعودی مطبوعہ قرآن

قوم تو خود کہہ رہی ہے کہ آلِ لوط کو اس بستی سے نکال دو اور مولوی حضرات قرآن کی مخالفت میں کہتے ہیں کہ آل سے مراد پوری امت ہے۔ آخر لوگوں کو آلِ محمد سے اتنی دشمنی کیوں ہے کہ قرآن کے احکامات ماننے کے لیے بھی تیار نہیں۔

اور اس مفروضہ کو کہ آل سے مراد امت یا قوم ہے، قرآن نے کئی اور جگہ پر واضح طور پر رد کیا ہے۔ اللہ قرآن میں فرماتا ہے :

إِنَّ اللّہَ اصْطَفَى آدَمَ وَنُوحًا وَآلَ إِبْرَاھیمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَالَمِینَ ذُرِّیَّۃً بَعْضُھا مِن بَعْضٍ وَاللّہُ سَمِیعٌ عَلِیمٌ

(القرآن، سورہ ۳، آیات ۳۳ تا ۳۴) بے شک اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں کے لوگوں میں سے آدم (علیہ السلام) اور نوح (علیہ السلام) کو، اور ابراہیم (علیہ السلام) کے خاندان اور عمران کے خاندان کو منتخب فرما لیا۔ کہ یہ سب آپس میں ایک دوسرے کی نسل (ذریت) سے ہیں اور اللہ تعالیٰ سنتا اور جانتا ہے۔

ترجمہ از سعودی مطبوعہ قرآن

اللہ نے خود اس آیتِ مبارکہ میں آل کا مطلب نسل کہہ کر اور قرآنی آیت میں ذریت کا لفظ استعمال کر کے آلِ محمد کے دشمنوں کا منہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا ہے۔ اب جو قرآن کو ہی نہ مانے اس کا کیا علاج؟

قرآن تو کہہ رہا ہے کہ:

اعْمَلُوا آلَ دَاوُودَ شُکْرًا

(سورہ سبا، آیت۱۳) اے اولادِ داؤد اللہ کا شکر ادا کرتے رہو۔

ترجمہ از سعودی مطبوعہ قرآن

اسی طرح دوسری جگہ کہہ رہا ہے کہ

یَرِثُنِی وَیَرِثُ مِنْ آلِ یَعْقُوبَ وَاجْعَلْہُ رَبِّ رَضِیًّا

(سورہ مریم، آیت ۶) جو میرا بھی وارث ہو اور یعقوب علیہ السلام کے خاندان کا بھی جانشین ہو۔ اے میرے رب اسے پسندیدہ بندہ بنانا

ترجمہ از سعودی مطبوعہ قرآن

اور اس آیتِ مبارکہ کی تفسیر میں یہ سعودی عالم لکھتا ہے کہ:

انبیاء علیھم السلام کے خاندانوں میں دو عمران ہوئے ہیں ایک حضرت موسیٰ و ہارون علیھما السلام کے والد دوسرے حضرت مریم علیہا السلام کے والد۔ اس آیت میں اکثر مفسرین کے نزدیک یہی دوسرے عمران مراد ہیں اور اس خاندان کو بلند درجہ حضرت مریم علیہا السلام اور ان کے بیٹے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وجہ سے حاصل ہوا اور حضرت مریم علیہا السلام کی والدہ کا نام مفسرین نے حنۃ بنت فاقوذ لکھا ہے (تفسیر قرطبی و ابن کثیر) اس آیت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے آل عمران کے علاوہ مزید تین خاندانوں کا تذکرہ فرمایا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے وقت میں جہانوں پر فضیلت عطا فرمائی۔ ان میں پہلے حضرت آدم علیہ السلام ہیں، جنہیں اللہ نے اپنے ہاتھ سے بنایا اور اس میں اپنی طرف سے روح پھونکی، انہیں مسجود ملائک بنایا، اسماء کا علم انہیں عطا کیا اور انہیں جنت میں رہائش پذیر کیا، جس سے پھر انہیں زمین میں بھیج دیا گیا جس میں اس کی بہت سی رحمتیں تھیں۔ دوسرے حضرت نوح علیہ السلام ہیں، انہیں اس وقت رسول بنا کر بھیجا گیا جب لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو معبود بنا لیا، انہیں عمر طویل عطا کی گئی، انہوں نے اپنی قوم کو ساڑھے نو سو سال تک تبلیغ کی، لیکن چند افراد کے سوا، کوئی آپ پر ایمان نہیں لایا۔ بالآخر آپ کی بددعا سے اہل ایمان کے سوا، دوسرے تمام لوگوں کو غرق کر دیا گیا۔ آل ابراہیم کو یہ فضیلت عطا کی کہ ان میں انبیاء و سلاطین کا سلسلہ قائم کیا اور بیشتر پیغمبر آپ ہی کی نسل سے ہوئے۔ حتیٰ کہ علی الاطلاق کائنات میں سب سے افضل حضرت محمد (ص) بھی حضرت ابراہیم (ع) کے بیٹے، اسمٰعیل (ع) کی نسل سے ہوئے۔

اب یہ ناصبی حضرات کس کس آیت کا انکار کریں گے ؟

اگر ہمیں اسلام کے دائرہ میں رہنا ہے تو آل سے مراد جو قرآن میں ہے وہی ہمیں بھی قبول کرنا پڑے گا۔ مزید دیکھئے کہ قرآن کیا کہہ رہا ہے :

وَقَالَ لَہُمْ نِبِیُّہُمْ إِنَّ آیَۃَ مُلْکِہِ أَن یَأْتِیَکُمُ التَّابُوتُ فِیہِ سَکِینَۃٌ مِّن رَّبِّکُمْ وَبَقِیَّۃٌ مِّمَّا تَرَکَ آلُ مُوسَى وَآلُ ہَارُونَ تَحْمِلُہُ الْمَلآئِکَۃُ إِنَّ فِی ذَلِکَ لآیَۃً لَّکُمْ إِن کُنتُم مُّؤْمِنِینَ

(سورہ بقرہ ۲:۲۴۸) ان کے نبی نے ان سے کہا کہ اس کے بادشاہ ہونے کی پہچان یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق آ جائے گا جس میں تمہارے رب کہ طرف سے تسکین دہ چیزیں اور ان تبرکات سے بچی ہوئی کچھ چیزیں ہوں گی جو آلِ موسیٰ اور آلِ ہارون چھوڑ گئے ہیں اور اس صندوق کو فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ اور اس میں تمہارے لیے نشانی پوری ہے اگر تم مومنین میں سے ہو۔

اگر آل سے مراد امت ہو تو پھر صندوق میں ساری امت کے تبرکات ہونے چاہئے جب کہ ایسا نہیں ہے۔ قرآن میں ہی ہے کہ:

فَقَدْ آتَیْنَا آلَ إِبْرَاھیمَ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ وَآتَیْنَاھم مُّلْکًا عَظِیمًا

(سورہ النساء ۴:۵۴) ’ہم نے آل ابراہیم کو کتاب و حکمت دی اور ہم نے ان کو ملک عظیم عطا فرمایا۔

سوچئے کہ کیا اللہ نے پوری قوم کو کتاب دی اور کیا پوری قوم کو حکیم بنایا (یعنی حکمت دی)۔ اور اسی طرح کیا پوری امت کو حکومت دی گئی؟

یا پھر صرف یہ چار کتب زبور، توریت، انجیل اور قرآن دیا؟ اب اگر آل سے مراد اولاد ہو گی تو جن کو کتب ملی وہ سب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل میں سے ہوں گے؟ اور اگر آل سے مراد قوم ہو گی تو پھر اللہ نے چار لاکھ کتب آل ابراہیم کو دی ہوں گی۔ تلاش کیجئے۔

دوروں کی تعداد : 29

 
امتیاز دهی
 
 

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر

اس بارے میں پڑہیں:
حضرت امام رضا کی مدح سرائی اور دعبل
  • 2018.12.11 вторник حضرت امام رضا کی مدح سرائی اور دعبل
    عرب کے مشہور شاعرجناب دعبل خزاعی کا نام ابوعلی دعبل ابن علی بن زرین ہے آپ ۱۴۸ ہجری میں پیدا ہوئے اور ۲۴۵ ہجری میں بمقام شوش وفات پاگئے۔ دعبل آل محمدؐ کے خاص مدح کرنے والوں میں سے تھے اور ابونواس ہارون رشید، امین و مامون کا گرویدہ تھا۔
    زندگی اور معارف اہلبیت
حضرت امام  علی رضاعلیہ السلام کے اخلاق و عادات
تلاوت قرآن کی فضیلت اور اس کا ثواب
  • 2018.11.28 среда تلاوت قرآن کی فضیلت اور اس کا ثواب
    قرآن وہ آسمانی قانون اور ناموس الہیٰ ہے جو لوگوں کی دنیوی اور اخروی سعادت کی ضمانت دیتا ہے۔ قرآن کی ہر آیت ہدایت کا سرچشمہ اور رحمت و راہنمائی کی کان ہے۔ جو بھی ابدی سعادت اور دین و دنیا کی فلاح و کامیابی کا آرزو مند ہے اسے چاہیے کہ شب و روز قرآن کریم سے عہد و پیمان باندھے
    مفاھیم قرآن
اسلام میں علم کی اہمیت
  • 2018.11.28 среда اسلام میں علم کی اہمیت
    یوں تو علم کے بغیر کسی بھی دین و مذہب کا تصور نہیں کیا جاسکتا لیکن دین اگر اسلام ہو تو یہ تصور اور بھی مشکل ہوجاتا ہے کیوں کہ یہ وہ مذہب نہیں جو صرف چند عقائد اور رسومات کا مجموعہ ہو اور جس کی بنیاد اساطیر اولین اور دیومالائی قصے ہوں بلکہ یہ وہ نظام زندگی و دستور حیات ہے جس کی بنیاد کتاب الٰہی اور سنت نبویؐ پر قائم ہے۔
    قرآن و عترت
ہفتہ وحدت
  • 2018.11.26 понедельник ہفتہ وحدت
    مسلمانوں کی راہ کا الگ ہونا اور ان کا مختلف فرقوں میں تقسیم ہونا آج اور کل کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ اس کا آغاز صدر اسلام سے ہوا ہے۔ اس مسئلہ کی علتوں سے صرف نظر جو کچھ یقینی ہے وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو اس اختلاف اور دوری سے زیادہ تر نقصان ہی ہوا ہے اور خسارہ میں رہے ہیں۔ جبکہ اسلام دشمن عناصر نے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا ہے۔
    اسلامی بیداری
[Part_khabar]

امام رضا علیہ السلام کی ملکوتی بارگاہ ایک ایسا دروازہ ہے جوخدا کی طرف کھلتا ہے۔ یہ ملکوتی بارگاہ ہر اس شخص کے لئے پناہ گاہ ہے جو رازونیاز کرنے کے لئےاس کی طرف دوڑا چلا آتا ہے، امام علی ابن موسیٰ الرضا علیہ السلام نے اپنی آغوش رحمت کو اپنے چاہنے والوں کے لئے پھیلا رکھاہے اور توس کی سرزمین پر اپنے وجود کی خوشبوسے اپنے زائرین اور مجاورین کی روح اور جان کو محبت اور رأفت سے نوازتے ہیں۔ لیکن ایسے آسمانی اور ملکوتی گوھر کا مہمان اور میزبان ہونا بھی کوئی آسان کام نہیں ہے ۔اور ایک ایسی فضا اورماحول کو جو امام ھمام کی شأن و منزلت کے مطابق ہو ایجاد کرنے کے لئے مسئولیت کا قبول کرناایک مھم اور مشکل کام ہے ۔ اس مھم کام کی ذمہ داری ادارہ ’’آستان قدس رضوی‘‘ کے اوپر ہے۔ ’’آستان قدس رضوی‘‘ رسمی طور پر ایک ایسے مجموعہ ہے جو حرم امام رضا علیہ السلام  اور اس کی موقوفات اور جتنے بھی اس کے متعلقات ہیں ان کی سرپرستی اور مدیریت کرتا ہے۔ یہ ادارہ اپنی تمام تر تلاش کو بہ روئے کار لاتے ہوئے امام رضا علیہ السلام کے زائرین اور مجاورین کی ضروریات کو نذورات اور زائرین کی موقوفات پر تکیہ کرتے ہوئے پوری کرتا ہے۔ حریم مقدس حرم کی نوسازی ومرمّت  اور اس کی حفاظت اور زائرین کی میزبانی کے لئےمتبرک مقامات کی آمادہ سازی، معرفت اور آسانی سے زیارت کرنے کے لئے مختلف امکانات کا مھیا کرنا، زائرین کی راھنمائی اور۔۔۔ یہ چند ایک آستان قدس رضوی کی ایسی خدمات ہیں جن کو پہلی نگاہ میں مشاھدہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن آستان قدس رضوی کی فعالیتوں کی حد و حدود ،حرم مطہر کے وسیع وعریض ابعاد سے بھی فراتر ہے۔ میوزیم، لائبریریز، یونیورسٹیاں اور مدارس، میڈیکل سینٹر اور ہسپٹلز اور انڈسٹریز سینٹرز،آستان قدس رضوی کی چند ایک دوسری فعالیتیں ہیں۔ اس ادارے کے مھم اھداف سےمزید آشنا ہونے کے لئے آپ آستان قدس رضوی کی بیس سالہ کی گئی پلاننگ کے مجوزات کو دیکھ سکتے ہیں۔