روضہ منوره حضرت امام علی رضاؑ کی ویب سائٹ

1397/7/19 پنجشنبه

امام زمانہ عج کے حقیقی سپاہیوں کی خصوصیات

.
امام زمانہ عج کے حقیقی سپاہیوں کی خصوصیات

امام زمانہ عج کے حقیقی سپاہیوں کی خصوصیات

تصورعباس خان

آئمہ اطہارؑ کی روایات میں امام زمانہ عج کے ظہور کے منتظرین کا خاص مقام و مرتبہ بیان کیا گیا ہے اور اجر عظیم کا مستحق قرار دیا گیا ہے، امام باقر علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں: واعلموا ان المنتظر لھذا الامر لہ مثل اجر الصائم القائم۔۔۔۔)

جان لو جو اس امر (امام زمانہ عج کے ظہور ) کا منتظر ہے اس کو روزہ رکھنے والے اور نماز پڑھنے والے کے جیسا ثواب ملے گا۔ (اصول کافی ج۲ ص۲۲۲)

اگر ایک جوان مومن اپنے امام کا حقیقی منتظر ہے تو پھر فرق نہیں کہ ظہور کے وقت زندہ ہو یا نہ ہو جیسا کہ امام صادق علیہ السلام سے پوچھا گیا: وہ شخص جو آپ اہل بیتؑ کی ولایت کا اقرار کرتا ہو اور حق کی حکومت (یعنی امام زمانہ عج کی حکومت) کے ظہور کے انتظار میں رہتے ہوئے اس دنیا سے چلا جائے آپ اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں۔

امام صادق ؑ نے ارشاد فرمایا: ھوبمنزلۃ من کان مع القائم فی فسطاطہ، ثم سکت ھنیۃ ثم قال ھو کمن کان مع رسول اللہ

وہ اس شخص کے مثل ہے کہ جو امام زمانہ عج کے ساتھ ان کے خیمے میں رہا ہو، پھر تھوڑی دیر خاموشی اختیار کرنے کے بعد فرمایا: وہ اس شخص کی مانند ہے کہ جس نے میدان جنگ میں رسول اللہ کے ہم رکاب رہ کر جہاد کیا ہو۔ (المحاسن ،ج۱،ص۱۷۳، بحار الانوار ج۵۲،ص۱۲۵)

اتنی فضیلت اور عظمت یقینا اس شخص کے لیے ہے جو امام کا سچا سپاہی اور حقیقی منتظر ہو۔ وہ علامات جو امام زمانہ عج کے حقیقی منتظرین کے بارے میں بیان ہوئی ہیں انسان ان کا مطالعہ کرے اور اپنے اعمال کا محاسبہ کرے کہ کتنا امام کے قریب ہے کیونکہ انسان اپنے حالات سے خود آگاہ ہے ہم یہاں روایات سے استفادہ کرتے ہوئے امام زمانہ عج کے حقیقی منتظرین اور سچے سپاہیوں کی چند ایک علامات کو ذکر کرتے ہیں تاکہ جوانوں کے لیے مشعل راہ بن سکیں۔

خداوند متعال کی معرفت اور بندگی سب سے پہلی علامت اور خصوصیت خداوند متعال کی شناخت اور معرفت و بندگی ہے کیونکہ خداوند متعال نے انسان اور تمام مخلوقات کی پیدائش کا فلسفہ اور ہدف اپنی بندگی کو قرار دیا ہے (و ما خلقت الجن والانس الالیعبدون) حقیقی سپاہی خداوند متعال کی معرفت اس طرح رکھتے ہیں جس طرح کہ معرفت رکھنے کا حق ہے۔

 اما م علی علیہ السلام، امام زمانہ عج کے سچے سپاہیوں کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں: وہ مومنین جنہوں نے خداوند کی معرفت اس طرح حاصل کی، جس طرح معرفت کا حق ہے، وہ آخری زمانہ میں مہدی کے سپاہی ہیں۔ (بحارالانوار،ج۵۷،ص۲۲۹)

امام صادقؑ  ارشاد فرماتے ہیں: وہ (امام مھدی عج کے سپاہی اورحقیقی منتظرین) ایسے مرد مجاہد ہیں کہ جن کے دل فولاد کی طرح مضبوط ہیں۔۔۔ اور ان کے دل پتھروں سے بھی زیادہ مضبوط، محکم اور قوی ہیں (بحار الانوار ،ج۵۲،ص۳۰۷)

امام زمانہ عج کی شناخت:

امام زمانہ کے حقیقی منتظرین کی ایک اور خصوصیت خود امام کی معرفت ہے اگرچہ ہر زمانے کے امام کی معرفت ہر فرد پر واجب ہے لیکن جو چیز سبب بنتی ہے کہ آخری امام، امام مھدی عج کی معرفت زیادہ اہمیت رکھتی ہے وہ ان کی خاص شرائط ہیں جیسے امام کی ولادت کا مخفی ہونا، مخفی طورپر زندگی گزارنا اور سخت امتحان وغیرہ حقیقی منتظرین جو درحقیقت ظہور کے وقت امام کے سپاہی ہونگے اپنے امام کی معرفت رکھتے ہیں اور ان کے پورے وجود میں اس معرفت کی جھلک نظر آتی ہے بہت ساری روایات میں آیا ہے ’’مات ولم یعرف امام زمانہ مات میتۃ جاھلیۃ‘‘ (کمال الدین وتمام النعمۃ، ج۲، ص۴۰۹)

امام صادق ؑ نے فرمایا: اپنے زمانے کے امام کی معرفت حاصل کر ،اگر معرفت حاصل کرلی تو کوئی فرق نہیں پڑے گا کہ ظہور جلدی ہوجائے یا دیر سے ہو۔۔۔ پس ہروہ شخص جس نے اپنے امام کی معرفت حاصل کرلی ان کو پہچان لیا وہ اس شخص کی مانند ہے کہ جو امام کے خیمہ میں موجود ہو۔ (الغیبہ ،شیخ طوسی ،ص۳۳۱)

اگرچہ امام مھدی پردہ غیب میں ہیں لیکن ان کے وجود کا نور ان کے حقیقی منتظرین سے مخفی نہیں ہے اگر معرفت نہ ہو ظاہری آنکھوں سے دیکھنے کا کوئی فائدہ نہیں جس طرح کہ بہت سارے لوگ تھے جنہوں نے رسول اکرم اور آئمہ اطہار کے زمانےمیں ان کے ساتھ زندگی گزاری لیکن معرفت نہ ہونے کی وجہ سے دنیا اور آخرت کی سعادت سے ہمیشہ کےلیے محروم رہے ۔ امام صادق نے فرمایا: جس نے بھی اپنے امام کی معرفت حاصل کرلی اور امام کے ظٖہور سے پہلے چلا گیا فوت ہوگیا وہ اس شخص کی مانند ہے جو امام کی رہبری میں جنگ کرے گا نہ بلکہ اس شخص کی مانند ہے جو امام کے پرچم کے نیچے ہوگا (کافی، کلینی ،ج۱، ص۳۷۱)

(۳) خداوند متعال اور اولیاء کی اطاعت جو امام زمانہ عج کا حقیقی منتظر ہے اور ان کے ظہور کے زمینہ کو فراہم کرنا چاہتا ہے خدااورامام کی معرفت کے بعد ضروری ہے کہ اب اس اعتقاد کو عملی جامہ پہنائے، عمل، کردار اورنیت وغیرہ خدااورامام کی مرضی کے مطابق ہو کیونکہ حقیقی ماننے والوں کی یہ مہم ترین نشانی ہے اس بارے میں رسول اکرم ﷺ کا ارشاد مبارک ہے خوش نصیب ہے وہ شخص جو ہمارے قائم کو دیکھ لے درحالانکہ ان کے قیام سے پہلے بھی ان کا فرمانبردار ہو اس کے دوست کے ساتھ محبت اور ان کے دشمن کے ساتھ نفرت اور ہدایت اور سیدھا راستہ دکھانے والوں سے (مجتہداور باعمل علماء اور اولیاء) اپنے امام سے بھی زیادہ محبت کرنے والا ہو وہ میرے ہمنشین، میرے دوست اور میری امت میں سے سب سے زیادہ عزیز اور محبوب شخص ہے (الغیبہ ،ص۳۵۶، کمال الدین وتمام النعمۃ ،ج۱،ص۲۸۶)

اس حدیث میں غوروفکر کی ضرورت ہے کہ جو واضح طورپر بیان کررہی ہے کہ حقیقی منتظرین کی ایک نشانی شیعوں اور علماء سے محبت ہے بلکہ فرمایا باعمل علماء سے محبت زیادہ ہوگی حتی کہ امام کی محبت کی نسبت۔ امام کی خدمت کے لیے آمادہ رہنا یہ ایسی صفت ہے کہ جس کی عظمت کےلیے امام صادق ؑ کا یہ فرمان کافی ہے جب امام صادق ؑ کے سامنے امام زمانہ عج کا ذکر کیا گیا تو امامؑ ایک آہ بھرتے ہوئے فرماتے ہیں ’’لوادرکتہ لخدمتہ ایام حیاتی‘‘ اگر اس وقت زندہ ہوا تو پوری زندگی ان کی خدمت کروں گا (الغیبہ ،ص۲۴۵)

اپنی اور معاشرہ کی تربیت:

حقیقی منتظرین وہ ہونگے جو اس ظلمت کے دور میں بھی نہ صرف اپنی تربیت اور حفاظت کریں گے بلکہ لوگوں کو بھی اللہ کے دین کی طرف دعوت دیں گے اور خدا اور امام کی اطاعت ان کا اولین شعار ہوگا۔

امام سجاد ؑ فرماتے ہیں: اے ابوخالد لوگ اس امام کی غیبت کے زمانہ میں کہ جس کی وہ امامت کے قائل ہیں اور ان کے ظہور کے منتظر ہیں وہ ہر زمانے کے لوگوں سے افضل ہیں کیونکہ خداوندمتعال نے ان کو عقل وشعور اور ایسی معرفت عطا فرمائی ہے کہ جن کے نزدیک غیبت مثل مشاہدہ ہے یعنی غیبت کے باوجود ان کے ایمان میں ذرہ برابر بھی کمی واقع نہیں ہوتی

ان کو وہ مقام عطا کیاہے جو رسول اکرم ﷺکے برجستہ اصحاب کو عطا کیا ہے جنہوں نے اپنی تلواروں سے جھاد کیا ہے وہ حقیقی پیروکار سچے شیعہ اورخدا کے دین کی طرف دعوت دینے والے ہیں (کمال الدین وتمام النعمہ ج۱، ص۳۱۹) رسول اکرم ﷺنے اپنے اصحاب سے ارشاد فرمایا: اگر وہ مصیبتیں اورتکلیفیں جو (آخری زمانے کے شیعوں پر) آئیں گی اگر تم پیش آجائیں تو ان کی طرح صبر نہ کرپاوگے۔ سچا انتظار پیغمبر اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا: ہرگز دنیا ختم نہیں ہوگی مگر یہ کہ میری اہل بیت سے ایک مرد قیام کرے گا کہ جس کا نام مھدی ہوگا (منتخب الاثر، ص۶۴۰)

ایک دن رسول اکرم ﷺکا یہ فرمان عملی طورپر سامنے آئے گا اگرچہ وقت کا علم صرف خداوند متعال کو ہے لیکن امام کے ظہور کے منتظرین کےلیے ہے کہ اپنے آپ کو امام کا سچا سپاہی بننے کےلیے آمادہ کرلیں۔ امام صادق فرماتے ہیں: جو شخص بھی امام زمانہ عج کا سپاہی بننا چایتا ہے اس کو چاہیے انتظار اور تقوا اور اچھے اخلاق کو اپنائے ایسا منتظر اور انتظار کرنے والا بن جائے کہ اگرچہ فوت بھی ہوجائے تو امام اس کو دوبارہ زندہ کرے وہ ایسا ہوگا جیسےکہ خود امام کی حکومت میں رہا ہو پس کوشش کرو اور انتظار کرو پس سلام ودرود ہو تم پر اور مبارک ہوتم کو آئے وہ افراد جس پر خدا کی رحمت نازل ہوتی ہے (الغیبہ ،ص۲۰۰)

واقعا کتنا عظیم مقام اور بلند مرتبت ہے حقیقی منتظرین کی جن کا عمل ان کے قول کی تصدیق کرے جن کے اعمال میں اپنے امام کا عشق اور محبت نمایاں ہو واقعا قابل تحسین ہیں وہ لوگ واقعا اس لائق ہیں کہ ان پر کروڑوں درود وسلام بھیجے جائیں جن پر خود معصوم بھی درود بھیجے جن کی عظمت کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے خداوندا ہمیں بھی ان کے حقیقی منتظرین میں سے شمار فرما ہمارے نوجوانوں کو بھی امام کا سچا سپاہی بننے کی توفیق عطا فرما (آمین)

دوروں کی تعداد : 17

 
امتیاز دهی
 
 

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر

اس بارے میں پڑہیں:
امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کبریٰ میں امت کی ذمہ داریاں
  • 2018.10.8 понедельник امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کبریٰ میں امت کی ذمہ داریاں
    علامہ شیخ عباس قمی علیہ الرحمہ نے دور غیبت امام علیہ السلام میں آٹھ طرح کے فرائض کا تذکرہ کیا ہے جو احساس غیبت امام علیہ السلام اور انتظار امام علیہ السلام کی حقیقت کے واضح کرنے کے بہترین وسائل ہیں اور جن کے بغیر نہ ایمان بالغیب مکمل ہو سکتا ہے اور نہ انسان کو منتظرین امام زمانہ علیہ السلام میں شمار کیا جا سکتا ہے
    قرآن و عترت
سبق آموز مثالیں: دوسرا حصہ 2
  • 2017.6.21 среда سبق آموز مثالیں: دوسرا حصہ 2
    سبق آموز مثالیں، آیت اللہ حائری شیرازی کی کتاب (مثلہا و پندہا ) کی مثالوں کا ترجمہ پیش خدمت ہے ہمیں آپکے مفید مشوروں کا انتظار رہیگا
اکیسواں درس:رمضان ہمراہِ قرآن(امام زمانہ علیہ السلام)
  • 2016.6.26 воскресенье اکیسواں درس:رمضان ہمراہِ قرآن(امام زمانہ علیہ السلام)
    خداوند متعال نے تم میں سے ایمان لانے اور اعمالِ صالح انجام دینے والوں سے، وعدہ کیا ہے کہ انہیں روئے زمین میں اسی طرح اپنا خلیفہ و جانشین بنائے گا، جس طرح اُن سے پہلے والوں کو جانشین بنایا اور یقیناً اُن کے لئے اُس دین کو غالب بنائے گا جسے اُس نے اُن کے لئے پسندیدہ قرار دیا ہے اور اُن کے خوف کو امن سے تبدیل کردے گا۔۔۔
ولادت با سعادت منجی عالم بشریت حضرت حجت عج
مختلف ادیان میں منجی بشریت کا تصور
  • 2016.5.21 суббота مختلف ادیان میں منجی بشریت کا تصور
    منجی موعود ، نجات دلانے والے کا تذکرہ مختلف اقوام و ملل میں جنکے رہن سہن کا طریقہ ایک دوسرے سے پوری طرح سے کاملا ً الگ بھی ہے پھر بھی کسی نہ کسی طرح انکے یہاں یہ عقیدہ پایا ہی جاتا۔۔۔ سید لیاقت علی کاظمی
[Part_khabar]

امام رضا علیہ السلام کی ملکوتی بارگاہ ایک ایسا دروازہ ہے جوخدا کی طرف کھلتا ہے۔ یہ ملکوتی بارگاہ ہر اس شخص کے لئے پناہ گاہ ہے جو رازونیاز کرنے کے لئےاس کی طرف دوڑا چلا آتا ہے، امام علی ابن موسیٰ الرضا علیہ السلام نے اپنی آغوش رحمت کو اپنے چاہنے والوں کے لئے پھیلا رکھاہے اور توس کی سرزمین پر اپنے وجود کی خوشبوسے اپنے زائرین اور مجاورین کی روح اور جان کو محبت اور رأفت سے نوازتے ہیں۔ لیکن ایسے آسمانی اور ملکوتی گوھر کا مہمان اور میزبان ہونا بھی کوئی آسان کام نہیں ہے ۔اور ایک ایسی فضا اورماحول کو جو امام ھمام کی شأن و منزلت کے مطابق ہو ایجاد کرنے کے لئے مسئولیت کا قبول کرناایک مھم اور مشکل کام ہے ۔ اس مھم کام کی ذمہ داری ادارہ ’’آستان قدس رضوی‘‘ کے اوپر ہے۔ ’’آستان قدس رضوی‘‘ رسمی طور پر ایک ایسے مجموعہ ہے جو حرم امام رضا علیہ السلام  اور اس کی موقوفات اور جتنے بھی اس کے متعلقات ہیں ان کی سرپرستی اور مدیریت کرتا ہے۔ یہ ادارہ اپنی تمام تر تلاش کو بہ روئے کار لاتے ہوئے امام رضا علیہ السلام کے زائرین اور مجاورین کی ضروریات کو نذورات اور زائرین کی موقوفات پر تکیہ کرتے ہوئے پوری کرتا ہے۔ حریم مقدس حرم کی نوسازی ومرمّت  اور اس کی حفاظت اور زائرین کی میزبانی کے لئےمتبرک مقامات کی آمادہ سازی، معرفت اور آسانی سے زیارت کرنے کے لئے مختلف امکانات کا مھیا کرنا، زائرین کی راھنمائی اور۔۔۔ یہ چند ایک آستان قدس رضوی کی ایسی خدمات ہیں جن کو پہلی نگاہ میں مشاھدہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن آستان قدس رضوی کی فعالیتوں کی حد و حدود ،حرم مطہر کے وسیع وعریض ابعاد سے بھی فراتر ہے۔ میوزیم، لائبریریز، یونیورسٹیاں اور مدارس، میڈیکل سینٹر اور ہسپٹلز اور انڈسٹریز سینٹرز،آستان قدس رضوی کی چند ایک دوسری فعالیتیں ہیں۔ اس ادارے کے مھم اھداف سےمزید آشنا ہونے کے لئے آپ آستان قدس رضوی کی بیس سالہ کی گئی پلاننگ کے مجوزات کو دیکھ سکتے ہیں۔