روضہ منوره حضرت امام علی رضاؑ کی ویب سائٹ

1397/6/19 دوشنبه

کربلا ایک جاودانی درسگاہ

.
کربلا ایک جاودانی درسگاہ

باسمہ تعالیٰ

اسلام اور خاندان

کربلا ایک جاودانی درسگاہ

تحریر: نصیر حسین بشیری

واقعۂ کربلا اب سے تقریباً چودہ سو سال پہلے رونما ہوا لیکن آج تک اِس کے اَثرات دکھائی دے رہے ہیں۔ ظاہری طور پر دیکھا جائے کہ جب بھی کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو اِس کے اَثرات کچھ عرصے تک باقی رہتے ہیں۔ اپنے وجود میں آنے، اس کے عروج اور پھر اس کے زوال کی کہانی تاریخ کے اوراق میں ایسے لکھ دی جاتی ہے جیسے وہ واقعہ رونما ہی نہ ہوا ہو۔

واقعۂ کربلا جس کی بنیاد ہی ’’ہر قسم کے ظلم کے خلاف حق کی آواز بلند کرنا‘‘ تھی، آج بھی اسی آب و تاب کے ساتھ باقی ہے۔ کربلا آج بھی انسانیت کے لیے ایک عظیم درسگاہ ہے، جس سے تربیت لینے والے افراد کی تعداد آج بھی کم نہیں ہے۔ تاریخِ انسانیت کے بڑے بڑے مفکرین، سیاستدان اور دیگر عظیم شخصیات یہی کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ ہم نے یہ درسِ حریّت کربلا سے لیا ہے۔ اگرچہ جب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ بہت سے ظالم حکمرانوں نے اِس واقعے اور اس کے آثار کو مٹانے کی کوشش کی ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ اتنا عرصہ گزر جانے کے باوجود کربلا اپنے اِس پیغامِ حریّت کو لوگوں تک پہنچا رہی ہے؟ ذیل میں کچھ اسباب کو انتہائی اختصار کے ساتھ ذکر کیا جا رہا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارادہ اور اُس کی مشیّت

کربلا کے جاودانی ہونے کا سب سے پہلا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اِس بات کا ارادہ کیا ہے کہ اسے قیامت تک لوگوں کے لیے حریّت کی درسگاہ قرار دیا جائے۔ کیونکہ اگر اللہ کی مشیّت یہ نہ ہوتی تو دیگر تاریخی واقعات کی طرح یہ واقعہ بھی تاریخ کی بھول بھلیّوں میں گم ہو جاتا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں اشارہ فرماتا ہے: ﴿يُرِيدُونَ لِيُطْفِؤُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَ اللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَ لَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ[1]؛ ’’یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اپنے منہ (کی پھونکوں) سے اللہ کے نور کو بجھا دیں جبکہ اللہ اپنے نور کو پورا کر کے رہے گا چاہے کفار کو ناگوار ہی گزرے۔‘‘ اور اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پیغمبر اکرم فرماتے ہیں: ’’إِنَّ لِقَتْلِ الْحُسَیْنِ (ع) حَرَارَةً فِی قُلُوبِ الْمُؤْمِنِینَ لَنْ تَبْرُدَ أَبَداً‘‘[2]؛ ’’بےشک مومنین کے دلوں میں امام حسین علیہ السلام کی شہادت کی ایسی حرارت ہے جو کبھی ٹھنڈی نہ ہو گی۔‘‘

شہداء کے حوالے سے اللہ کی نوید

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں شہداء کو خوشخبری دیتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿وَ لَا تَقُولُواْ لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاءٌ وَ لَكِن لَّا تَشْعُرُونَ[3]؛ و نیز ارشاد ہوتا ہے: ﴿وَ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُواْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتاً بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ[4]؛ ’’اللہ تعالیٰ نے شہداء کو یہ خوشخبری دی ہے کہ وہ زندہ ہیں اور اللہ کے پاس رزق پا رہے ہیں۔ جب شہید زندہ ہے تو سیدُالشہداء امام حسین علیہ السلام بھی زندہ ہیں اور امامؑ کے زندہ ہونے پر دلیل یہ ہے کہ عاشورا کا پیغام آج بھی لوگوں کے کانوں میں گونج رہا ہے اور چاہنے والے ’’هَلْ مِنْ نَاصِرٍ یَنْصُرُنَا‘‘ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے محرم الحرام کے آغاز پر اپنے آپ کو عزاداری میں مشغول کر لیتے ہیں اور جب بھی کسی پر ظلم ہوتا ہے تو حق کا ساتھ دینے کے لیے اپنی جان کی بازی لگا دیتے ہیں۔

عمل میں اخلاص

کربلا اور عاشورا کی بنیاد اس عظیم اخلاص پر تھی جس کی بدولت یہ پیغام آج تک دنیا کے کونے کونے میں پھیلا ہوا ہے۔ امام حسین علیہ السلام جب مدینے سے نکل رہے تھے تو اُس وقت آپؑ نے اپنے اہداف کو اس طرح سے بیان فرمایا: ’’إِنِّی لَمْ أَخْرُجْ أَشِراً وَ لَا بَطِراً وَ لَا مُفْسِداً وَ لَا ظَالِماً وَ إِنَّمَا خَرَجْتُ لِطَلَبِ الْإِصْلَاحِ فِی اُمَّةِ جَدِّی ...‘‘[5]؛ ’’میں خودخواہی، سرکشی، فساد اور ظلم کرنے کے لیے مدینہ سے نہیں نکل رہا ہوں، بلکہ میں اپنے نانا (محمدؐ) کی اُمت کی اصلاح کے لیے قیام کر رہا ہوں ...۔‘‘ اِس میں کوئی شک نہیں کہ جب بھی کوئی کام اللہ کے لیے کیا جائے تو وہ اس کی بارگاہ میں مقبول بھی ہے اور اسے پائیداری بھی ملتی ہے۔ اسی بات کے بارے میں قرآن مجید میں ملتا ہے: ﴿مَا عِندَكُمْ يَنفَدُ وَ مَا عِندَ اللَّهِ بَاقٍ[6]؛ ’’جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ ختم ہو جائے گا اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے۔‘‘ واقعۂ کربلا اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس میں ہر طرف خلوص ہی خلوص دکھائی دیتا ہے۔

رسولِ خدا اور ائمہ معصومین علیہم السلام کے فرامین

واقعۂ کربلا کے جاودانی ہونے کا ایک سبب وہ فرامین ہیں جو امام حسین علیہ السلام اور واقعۂ عاشورا کے حوالے سے رسولِ خدا اور ائمہ معصومین علیہم السلام کی زبانِ مبارک پر جاری ہوئے ہیں۔ رسولِ اللہ فرماتے ہیں: ’’حُسَيْنٌ مِنِّي وَ أَنَا مِنْ حُسَيْنٍ‘‘[7]؛ ’’حسینؑ مجھ سے ہے اور میں حسینؑ سے ہوں۔‘‘ جب آنحضرتؐ نے اپنی لختِ جگر حضرت فاطمہ زہراء علیہا السلام کو اُن کے بیٹے حسینؑ کی شہادت کی خبر سنائی تو جنابِ سیدہؑ رونے لگیں اور پوچھا کہ میرے بیٹے پر کون آنسو بہائے گا؟ تو اُس وقت آپؐ نے فرمایا: ’’يَا فَاطِمَةُ! إِنَّ نِسَاءَ اُمَّتِي‏ يَبْكُونَ‏ عَلَى نِسَاءِ أهْلِ بَيْتِي وَ رِجَالَهُمْ يَبْكُونَ عَلَى رِجَالِ أَهْلِ بَيْتِي وَ يُجَدِّدُونَ الْعَزَاءَ جِيلًا بَعْدَ جِيلٍ فِي كُلِّ سَنَةٍ‘‘[8]؛ ’’اے فاطمہؑ! میری اُمت کی عورتیں میرے اہلِ بیتؑ کی عورتوں پر اور اُن کے مرد میرے اہلِ بیتؑ کے مردوں پر گریہ کریں گے اور وہ نسل در نسل اِس عزاداری کو ہر سال برپا کریں گے۔‘‘

اِس کے علاوہ ائمہ معصومین علیہم السلام نے بھی عاشورا کو زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے مختلف مقامات پرعزاداری اور امام حسین علیہ السلام کی زیارت کی اہمیت کو بیان فرمایا ہے۔ امام حسین علیہ السلام کے قیام کے اہداف، عاشورا میں تحریف نہ ہونے دینے، بنواُمیہ کے مظالم کی حقیقت کو برملا کرنا، امام حسین علیہ السلام کی عزاداری برپا کرنے اور حضرتؑ پر رونے  کے ثواب اور حضرتؑ کی زیارت اور وہاں شب زندہ داری کرنے کے ثواب کو بیان کرنا، یہ سب اسی سلسلے کی کڑی ہیں کہ جن کے ذریعے کربلا آج تک زندہ و جاوید درسگاہ کی صورت میں انسانیت کو ہدایت کا راستہ دکھلا رہی ہے۔

مندرجہ بالا چند ایسے اسباب ہیں جن کے ذریعے کربلا اور عاشورا رہتی دنیا تک کے لیے ہدایت کا چراغ ہے اور بھٹکی ہوئی انسانیت کو راہِ راست پر لاتی رہے گی۔ واقعۂ کربلا ایک ایسا زندہ معجزہ ہے جس کے ذریعے عشقِ حسین علیہ السلام میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔

 

[1]. سورۂ صف، آیت۸

[2]. مستدرک الوسائل، میرزا حسین نوریؒ، ج۱۰، ص۳۱۸

[3]. سورۂ بقرہ، آیت۱۵۴؛ (اور جو لوگ راہِ خدا میں مار دیئے جائیں انہیں مردہ نہ کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں، مگر تم (ان کی زندگی کا) ادراک نہیں رکھتے۔)

[4]. سورۂ آلِ عمران، آیت۱۶۹؛ (اور جو لوگ راہِ خدا میں مار دیئے گئے قطعاً انہیں مردہ نہ سمجھو، بلکہ وہ زندہ ہیں اور اپنے ربّ کے پاس سے رزق پا رہے ہیں۔)

[5]. بحار الانوار، محمد باقر مجلسیؒ، ج۴۴، ص۳۲۹

[6]. سورۂ نحل، آیت۹۶

[7]. سنن الترمذی، ابو عیسیٰ ترمذی، ج۵، ص ۶۵۸؛ المستدرك علی الصحيحين، محمد ابن عبداللہ حاکم نیشاپوری، ج۳، ص۱۹۴؛ بحار الانوار، محمد باقر مجلسیؒ،‌ج۴۳، ص۲۶۱، حدیث۱

[8]. بحار الانوار، محمد باقر مجلسیؒ، ج۴۴، ص۲۹۲

دوروں کی تعداد : 182

 
امتیاز دهی
 
 

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر

اس بارے میں پڑہیں:
امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے اَحکام و آداب
  • 2018.10.20 суббота امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے اَحکام و آداب
    مستحب اَعمال میں سے ایک بہت بڑا عمل، بلکہ سب سے بڑا عمل ’’زیارت‘‘ ہے، بالخصوص مظلومِ کربلا سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی زیارت کہ جس کی فضیلت اور اَجر و ثواب کو بیان ہی نہیں کیا جا سکتا۔ زیارت کا سفر چونکہ عام سیاحتی سفر نہیں ہے بلکہ انتہائی مقدّس اور زائر کے لیے رُشد و کمال اور فضائل و درجات کا سفر ہے
    خصوصی مناسبت
اہلبیتؑ کی ثقافت میں ’’40‘‘ عدد کی فضیلت(۲)
  • 2018.10.13 суббота اہلبیتؑ کی ثقافت میں ’’40‘‘ عدد کی فضیلت(۲)
    جب امام حسن مجتبی علیہ السلام کے ماننے والوں میں سے کسی نے امام سے ظلم اور ستم کے مقابل خصوصا معاویہ کے ظلم کے خلاف قیام کرنے کی درخواست کی تو امام نے ارشاد فرمایا: امت کی رہبری میں میرے نانا کی سیرت نمونہ عمل ہے جب تک ان کی تعداد انتالیس تھی وہ چھپ کے اللہ تعالی کی عبادت کرتے رہے۔
    قرآن و عترت
ماہ صفر کے اعمال،مفاتیح الجنان کی روشنی میں
  • 2018.10.10 среда ماہ صفر کے اعمال،مفاتیح الجنان کی روشنی میں
    یہ مہینہ اپنی نحوست کے ساتھ مشہور ہے اور نحوست کو دور کرنے میں صدقہ دینے ،دعا کرنے اور خدا سے پناہ طلب کرنے سے بہتر کوئی اور چیز وارد نہیں ہوئی اگر کوئی شخص اس مہینے میں وارد ہونے والی بلاؤں سے محفوظ رہنا چاہے
    اردو
امام حسین (ع) کا چہلم،  عشق کا راستہ
  • 2018.10.10 среда امام حسین (ع) کا چہلم، عشق کا راستہ
    کربلا وہ ریگستانِ خشک و بے آب جو انسانیت اور کمال کا بیکراں سمندر یے کہ جس کے اندر عظیم گوهر، مظلومیت کے غلاف میں پنهاں ہیں جن کو ڈھونڈنے کے لئے چشمِ بصیرت کی ضرورت ہے، ان کی تلاش کے لئے ماہر غواص چاہئیں، اسکے لئے جوانمردی اور معرفت کی ضرورت ہے۔ قریباً چودہ صدیاں بیت گئیں لیکن واقعہ کربلا آج بھی اسی طرح زندہ ہے
    اردو
عزاداریِ امام حسین علیہ السلام کے فقہی اَحکام
  • 2018.9.10 понедельник عزاداریِ امام حسین علیہ السلام کے فقہی اَحکام
    سیدالشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام اور آپؑ کے باوفا اصحاب کی عزاداری و سوگواری کے سلسلے میں جلوس نکالنا اور ایسے جلوسوں میں شرکت کرنا انتہائی پسندیدہ اور مطلوب عمل ہے اور اُن بزرگ ترین اعمال میں سے ہے جو انسان کو خداوند عالَم کے قریب کرتے ہیں۔ البتہ اِن جلوسوں میں ہر اُس کام سے پرہیز کیا جائے جو دوسروں کی تکلیف کے باعث بنے یا شرعا حرام ہو۔
    اردو
[Part_khabar]

امام رضا علیہ السلام کی ملکوتی بارگاہ ایک ایسا دروازہ ہے جوخدا کی طرف کھلتا ہے۔ یہ ملکوتی بارگاہ ہر اس شخص کے لئے پناہ گاہ ہے جو رازونیاز کرنے کے لئےاس کی طرف دوڑا چلا آتا ہے، امام علی ابن موسیٰ الرضا علیہ السلام نے اپنی آغوش رحمت کو اپنے چاہنے والوں کے لئے پھیلا رکھاہے اور توس کی سرزمین پر اپنے وجود کی خوشبوسے اپنے زائرین اور مجاورین کی روح اور جان کو محبت اور رأفت سے نوازتے ہیں۔ لیکن ایسے آسمانی اور ملکوتی گوھر کا مہمان اور میزبان ہونا بھی کوئی آسان کام نہیں ہے ۔اور ایک ایسی فضا اورماحول کو جو امام ھمام کی شأن و منزلت کے مطابق ہو ایجاد کرنے کے لئے مسئولیت کا قبول کرناایک مھم اور مشکل کام ہے ۔ اس مھم کام کی ذمہ داری ادارہ ’’آستان قدس رضوی‘‘ کے اوپر ہے۔ ’’آستان قدس رضوی‘‘ رسمی طور پر ایک ایسے مجموعہ ہے جو حرم امام رضا علیہ السلام  اور اس کی موقوفات اور جتنے بھی اس کے متعلقات ہیں ان کی سرپرستی اور مدیریت کرتا ہے۔ یہ ادارہ اپنی تمام تر تلاش کو بہ روئے کار لاتے ہوئے امام رضا علیہ السلام کے زائرین اور مجاورین کی ضروریات کو نذورات اور زائرین کی موقوفات پر تکیہ کرتے ہوئے پوری کرتا ہے۔ حریم مقدس حرم کی نوسازی ومرمّت  اور اس کی حفاظت اور زائرین کی میزبانی کے لئےمتبرک مقامات کی آمادہ سازی، معرفت اور آسانی سے زیارت کرنے کے لئے مختلف امکانات کا مھیا کرنا، زائرین کی راھنمائی اور۔۔۔ یہ چند ایک آستان قدس رضوی کی ایسی خدمات ہیں جن کو پہلی نگاہ میں مشاھدہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن آستان قدس رضوی کی فعالیتوں کی حد و حدود ،حرم مطہر کے وسیع وعریض ابعاد سے بھی فراتر ہے۔ میوزیم، لائبریریز، یونیورسٹیاں اور مدارس، میڈیکل سینٹر اور ہسپٹلز اور انڈسٹریز سینٹرز،آستان قدس رضوی کی چند ایک دوسری فعالیتیں ہیں۔ اس ادارے کے مھم اھداف سےمزید آشنا ہونے کے لئے آپ آستان قدس رضوی کی بیس سالہ کی گئی پلاننگ کے مجوزات کو دیکھ سکتے ہیں۔