روضہ منوره حضرت امام علی رضاؑ کی ویب سائٹ

1397/4/10 يكشنبه

جوانوں کوامام علی علیہ السلام کی وصیتیں

.
جوانوں کوامام علی علیہ السلام کی وصیتیں

جوانوں کوامام علی علیہ السلام کی وصیتیں

مصنف:محمدسبحانی

۱۔ تقوی اورپاک دامنی :

امام علیہ السلام فرماتے ہیں : “واعلم یابنی ان اجب ماانت آخذبہ الی من وصیتی تقوی اللہ”۔

بیٹاجان لوکہ میرے نزدیک سب زیادہ محبوب چیزاس وصیت نامے میں تقوی الہی ہے جس سے تم وابستہ رہو۔

 جوانوں کے لئے تقوی ٰکی اہمیت اس وقت اجاگرہوتی ہے جب زمانہ جوانی کے تمایلات،احساسات اورترغیبات کو مدنظر رکھاجائے۔ وہ جوان جوغرائز، خواہشات نفسانی، تخیلات اورتندوتیزاحساسات کے طوفان سے دوچارہوتاہے ایسے جوان کے لئے تقوی ایک نہایت مضبوط ومستحکم قلعے کی مانندہے جواسے دشمنوں کی تاخت وتاراج سے محفوظ رکھتاہے یاتقوی ایک ایسی ڈھال کی طرح ہے جوشیاطین کے زہرآلودتیروں سے جسم کومحفوظ رکھتی ہے۔

امام علیہ السلام فرماتے ہیں:اعلمواعباداللہ ان التقوی دارحصن عزیز۔[1] ترجمہ : اے اللہ کے بندوجان لوکہ تقوی ناقابل شکست قلعہ ہے۔

شہیدمطہری فرماتے ہیں “یہ خیال نہیں کرناچاہئے کہ تقوی نمازوروزے کی طرح دین کے مختصات میں سے ہے بلکہ یہ انسانیت کالازمہ ہے انسان اگرچاہتا ہے کہ حیوانی اورجنگل کی زندگی سے نجات حاصل کرے تو مجبورہے کہ تقوی اختیارکرے”۔[2] جوان ہمیشہ دوراہے پرہوتاہے دومتضادقوتیں اسے کھینچتی ہیں ایک طرف تواس کا اخلاقی اورالہی وجدان ہے جواسے نیکیوں کی طرف ترغیب دلاتاہے دوسری طرف نفسانی غریزے،نفس امارہ اورشیطانی وسوسے اسے خواہشات نفسانی کی تکمیل کی دعوت دیتے ہیں عقل وشہوت،نیکی وفساد،پاکی وآلودگی  کی اس جنگ اورکشمکش میں وہی جوان کامیاب ہوسکتاہے جوایمان اورتقوی کے اسلحہ سے لیس ہو۔

یہی تقوی تھا کہ حضرت یوسفؑ عزم مصمم سے الہی امتحان میں سربلندہوئے اورپھرعزت وعظمت کی بلندیوں کوچھوا۔ قرآن کریم حضرت یوسفؑ کی کامیابی کی کلیددواہم چیزوں کوقراردیتاہے ایک تقوی اوردوسراصبر۔ ارشادہے:”انہ من یتق و یصبر فان اللہ لایضیع اجرالمحسنین” یوسف۹۰۔

ترجمہ: وکوئی تقوی اختیارکرے اورصبر(واستقامت) سے کام لے تواللہ تعالی نیک اعمال بجالانے والوں کے لئے اجرکوضائع نہیں فرماتا۔

ارادہ کی تقویت :

بہت سے جوان ارادے کی کمزوری اورفیصلہ نہ کرنے کی صلاحیت کی شکایت کرتے ہیں۔ کہتے ہیں : کہ ہم نے بری عادات کوترک کرنے کابارہافیصلہ کیالیکن کامیاب نہیں ہوئے امام علی علیہ السلام کی نظرمیں تقوی، ارادے کی تقویت، نفس پرتسلط،بری عادت اورگناہوں کے ترک کرنے کابنیادی عامل ہے۔  آپ فرماتے ہیں “آگاہ رہوکہ غلطیاں اور گناہ اس سرکش گھوڑے کے مانندہیں جس کی لگام ڈھیلی ہواورگناہ گاراس پرسوارہوں یہ انہیں جہنم کی گہرائیوں میں سرنگوں کرے گااور تقوی اس آرام دہ سواری کی مانندہے جس کامالک اس پر سوار ہے اس کی لگام ان کے ہاتھ میں ہے اوریہ سواری اس کوبہشت کی طرف لے جائے گی”۔[3] متوجہ رہناچاہئے کہ یہ کام ہونے والاہے،ممکن ہے۔ جولوگ اس وادی میں قدم رکھتے ہیں اللہ تعالی کی عنایات اورالطاف ان کے شامل حال ہو جاتا ہے۔ جیساکہ ارشادہے: “والذین جاہدوافینالنھدینھم سبلنا” عنکوبت۶۹۔

ترجمہ : اوروہ لوگ جوہماری راہ میں جدوجہدکرتے ہیں ہم بالیقین وبالضرور ان کو اپنے راستوں کی طرف ہدایت کریں گے۔

۲۔ جوانی کی فرصت کوغنیمت سمجھیں

بلاشک کامیابی کے اہم ترین عوامل میں سے ایک ،فرصت اورفراغت کے اوقات سے صحیح اوراصولی استفادہ ہے۔ جوانی کازمانہ اس فرصت کے اعتبارسے انتہائی اہمیت کاحامل ہے۔معنوی اورجسمانی قوتیں وہ عظیم گوہرنایاب ہے جواللہ تعالی نے جوان نسل کوعنایت فرمایاہے۔ یہی سبب ہے کہ دینی پیشواؤں نے ہمیشہ جوانی کو غنیمت سمجھنے کی طرف توجہ اورتاکیدکی ہے۔ اس بارے میں امام علیؑ فرماتے ہیں:

بادرالفرصة قبل ان تکون غصة ۔[4] ترجمہ : قبل اس کے کہ فرصت تم سے ضائع ہو اور غم و اندوہ کاباعث بنے اس کو غنیمت جانو۔

اس آیہ مبارکہ “لاتنس نصیبک من الدنیا”قصص۷۷۔

(دنیا سے اپنا حصہ فراموش نہ کر) کی تفسیرمیں فرماتے ہیں : لاتنس صحتک وقوتک وفراغک وشبابک نشاطک ان تطلب بھاالاخرة[5] ترجمہ : اپنی صحت، قوت، فراغت، جوانی اورنشاط کو فراموش نہ کرو اور ان سے اپنی آخرت کے لئے استفادہ کرو۔

جو لوگ اپنی جوانی سے صحیح استفادہ نہیں کرتے امام ان کے بارے میں فرماتے ہیں :

انہوں نے بدن کی سلامتی کے دنوں میں کوئی سرمایہ جمع نہ کیا،اپنی زندگی کی ابتدائی فرصتوں میں درس عبرت نہ لیا۔ جو جوان ہے اس کوبڑھاپے کے علاوہ کسی اور چیزکا انتظارہے۔[6]

جوانی کے بارے میں سوال

جوانی اورنشاط اللہ کی عظیم نعمت ہے جس کے بارے میں قیامت کے روز پوچھا جائے گا۔ پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک روایت ہے آپ فرماتے ہیں: قیامت کے دن کوئی شخص ایک قدم نہیں اٹھائے گامگریہ کہ اس سے چارسوال پوچھے جائیں گے :

۱۔ اس کی عمرکے بارے میں کہ کیسے صرف کی اورکہاں اسے فنا کیا؟

۲۔ جوانی کے بارے میں کہ اس کاکیاانجام کیا؟

۳۔ مال ودولت کے بارے میں کہ کہاں سے حاصل کی اورکہاں کہاں خرچ کیا؟

۴۔ اہل بیتؑ کی محبت ودوستی کے بارے سوال ہوگا۔[7] یہ جوآنحضرت نے عمرکے علاوہ جوانی کا بطورخاص ذکرفرمایاہے اس سے جوانی کی قدر و قیمت معلوم ہوتی ہے۔ امام علیؑ فرماتے ہیں: شیئان لایعرف فضلھما الامن فقدھماالشباب والعافیة۔[8] انسان دوچیزوں کی قدروقیمت نہیں جانتا مگریہ کہ ان کو کھودے ایک جوانی اور دوسرے تندرستی ہے۔

۳۔ خودسازی :

خودسازی کابہترین زمانہ جوانی کادورہے۔ امام اپنے فرزند عزیز امام حسن ؑسے فرماتے ہیں :

انماقلب الحدث کالارض الخالیة ماالقی فیھامن شئی قبلتہ فبادرتک بالادب قبل ان یقسواقلبک ویشتغل لبک۔[9] ترجمہ : نوجوان کادل خالی زمین کے مانندہے جواس میں بویاجائے قبول کرتی ہے پس قبل اس کے کہ تم قسی القلب (سنگدل) ہوجائو اورتمھاری فکرکہیں مشغول ہو جائے میں نے تمہاری تعلیم وتربیت میں جلدی کی ہے۔

ناپسندیدہ عادات ، جوانی میں چونکہ ان کی جڑیں مضبوط نہیں ہوتیں اس لئے ان سے نبردآزمائی آسان ہوتی ہے۔ امام خمینیؓ فرماتے ہیں “جہاداکبرایک ایساجہادہے جو انسان اپنے سرکش نفس کے ساتھ انجام دیتاہے۔ آپ جوانوں کو ابھی سے جہادکوشروع کرناچاہئے کہیں ایسانہ ہوکہ جوانی کے قُوۃ  تم لوگ ضائع کربیٹھو۔

جیسے جیسے یہ قوۃ ضائع ہوتی ہیں ویسے ویسے برے اخلاقیات کی جڑیں انسان میں مضبوط اورجہادمشکل تر ہوتاجاتا ہے ایک جوان اس جہادمیں بہت جلد کامیاب ہوسکتاہے جب کہ بوڑھے انسان کی اتنی جلدی کامیابی نہیں ہوتی۔

ایسانہ ہونے دیناکہ اپنی اصلاح کوجوانی کی بجائے بڑھاپے میں کرو)۔[10] امیرالمومنینؑ ارشادفرماتے ہیں : غالب الشہوة قبل قوت ضراوتھا فانھا ان قویت ملکتک واستفادتک ولم لقدرعلی مقاومتھا۔[11] ترجمہ:اس سے قبل کہ نفسانی خواہشات جرائت اورتندرستی کی خواپنالیں ان سے مقابلہ کروکیونکہ اگر تمایلات اور خواہشات خودسر اورمتجاوز ہوجائیں تو تم پر حکمرانی کریں گی پھرجہاں چاہیں تمہیں لے جائیں گی یہاں تک کہ تم میں مقابلے کی صلاحیت ختم ہوجائے گی۔

۴۔ بزرگ منشی۔

اپنے خط میں امیرالمومنینؑ جوانوں کو ایک اور وصیت ارشادفرماتے ہیں : اکرم نفسک عن کل دنیہ وان ساقتک الی الرغائب فانک لن تعتاض بماتبذل من نفسک عوضاولاتکن عبدغیرک وقدجعلک اللہ اجرا۔[12] ترجمہ : ہرپستی سے اپنے آپ کو بالاتر رکھ (اپنے وقارکابھرپورخیال رکھ) اگرچہ یہ پستیاں تجھے تیرے مقصدتک پہنچادیں پس اگرتونے اس راہ میں اپنی عزت وآبرو کھودی تو اس کاعوض تجھے نہ مل پائے گا اور غیرکا غلام نہ بن کیونکہ اللہ تعالی نے تجھے آزادخلق فرمایاہے۔عزت نفس انسان کی بنیادی ضروریات میں سے ہے۔

اس کابیج اللہ تعالی نے انسان کی فطرت میں بویاہے البتہ اس کی حفاظت، مراقبت اوررشدوتکامل کی ضرورت ہے۔ فرعون کے بارے میں قرآن کریم میں ارشادہے :

فاستخف قومہ فاطاعوہ انھم کانواقوما فاسقین(زخرف۵۴)۔

فرعون نے اپنی قوم کی تحقیرکی پس انہوں نے اس کی اطاعت کی کیونکہ یہ لوگ فاسق تھے۔

عزت نفس اوروقارکے لئے مندرجہ ذیل امورضروری ہیں:

الف۔ گناہ کاترک کرنا۔

مختلف موارد میں سے ایک گناہ اورپلیدی ہے جو انسان کی عزت نفس کونقصان پہنچاتے ہیں۔ پس گناہ اور آلودگی سے اجتناب شرافت نفس اور وقارکاباعث ہوتاہے۔

امامؑ فرماتے ہیں :من کرمت علیہ نفسہ لم یھنھابالمعصیة ۔[13] جواپنے لئے کرامت و وقار کا کا قائل ہو خود کو گناہ کے ذریعے ذلیل نہیں کرتا۔

ب۔ نیازمندی

دوسروں کے اموال پر نظر رکھنااوراضطراری مواردکے علاوہ کمک مانگناعزت نفس اور وقارکو تباہ کردیتاہے۔

 امام (ع) فرماتے ہیں:المسئلة طوق المذلة تسلب العزیزعزہ والحسب حسبہ ۔[14] لوگوں سے مانگنا ذلت کا ایسا طوق ہے جو عزیزوں کی عزت اورشریف النسب انسانوں کے حسب ونسب کی شرافت کوسلب کرلیتاہے۔

ج۔ صحیح رائے۔

عزت وشرافت نفس کابہت زیادہ تعلق انسان کی اپنے بارے میں رائے سے ہے۔ جو کوئی خود کو ناتوان ظاہرکرے تولوگ بھی اسے ذلیل و خوار سمجھتے ہیں اس لئے امام فرماتے ہیں :الرجل حیث اختارلنفسہ ان صانھاارتفعت وان ابتذلھااتضعت۔[15] ہرانسان کی عزت اس کی اپنی روش سے وابستہ ہے جواس نے اختیارکی ہے اگراپنے آپ کوپستی وذلت سے بچاکے رکھے تو بلندیاں طے کرتاہے اور اگرخود کوذلیل کرے توپستیوں اورذلتوں کاشکارہوجاتاہے۔

د۔ ذلت آمیز گفتاروکردارسے پرہیز:

اگرکوئی چاہتاہے کہ اس کا وقار اورعزت نفس محفوظ رہے تواسے چاہئے کہ ہر ایسی گفتگو اور عمل میں کمزوری کاباعث بنے اس سے اجتناب کرے اسی لئے اسلام نے چاپلوسی، زمانے سے شکایت،اپنی مشکلات کولوگوں کے سامنے بیان کرنے،بے جا بلند و بانگ دعوے کرنا یہاں تک کہ بے موقع تواضع وانکساری کے اظہار سے منع فرمایا ہے ۔

امام علیؑ فرماتے ہیں:کثرة الثناملق یحدث الزھوویدنی من العزة۔ [16] تعریف وتحسین میں زیادہ روی چاپلوسی ہے اس سے ایک طرف تومخاطب میں غرور و تکبر پٍیدا ہوتاہے جب کہ دوسری طرف عزت نفس سے دورہوجاتاہے۔

اسی طرح فرماتے ہیں:رضی بالذل من کشف ضرہ لغیرہ۔[17] جوشخص اپنی زندگی کی مشکلات کودوسروں کے سامنے آشکارکرتاہے دراصل اپنی ذلت وخواری پرراضی ہوجاتاہے۔

۵۔ اخلاقی وجدان :

امام ؑاپنے فرزند سے فرماتے ہیں :یابنی اجعل نفسک میزانا فیمابینک وبین غیرک۔[18] اے بیٹا ! خودکواپنے اوردوسروں کے درمیان فیصلے کامعیارقراردو۔ اگرمعاشرے میں سب لوگ اخلاقی وجدان کے ساتھ ایک دوسرے سے روابط رکھیں، ایک دوسرے کے حقوق، مفادات اورحیثیت کااحترام کریں تومعاشرتی روابط میں استحکام،سکون اور امن پیدا ہوگا ایک حدیث میں ہے کہ ایک شخص پیغمبراسلام(ص) کی خدمت میں حاضرہوا ۔ اور عرض کیا : یارسول اللہ میں اپنے تمام فرائض کوبخوبی انجام دیتاہوں لیکن ایک گناہ ہے جوترک نہیں کرپاتا اوروہ ناجائز تعلقات ہیں یہ بات سن کر اصحاب بہت غصے میں آگئے لیکن آنحضرت(ص) نے فرمایاآپ لوگ اسے کچھ نہ کہیں میں خوداس سے گفتگوکرتاہوں اس کے بعدارشادفرمایا: اے شخص کیاتمہاری ماں بہن یا اسکے علاوہ کوئی  آبرو،ناموس ہے؟

عرض کیا: جی ہاں یارسول اللہ !

آنحضرت نے فرمایاکیا تو یہ چاہتاہے کہ لوگ بھی تیری ناموس کے ساتھ ایسے ہی روابط رکھیں ؟

عرض کیاہرگزنہیں توحضرت نے فرمایا ،تم خودکیسے آمادہ ہوتے ہو کہ اس طرح کا گناہ بجالاؤ؟

اس شخص نے سرجھکالیااورعرض کیا آج کے بعدمیں وعدہ کرتاہوں کہ یہ گناہ انجام نہ دوں گا۔[19]

امام سجادؑفرماتے ہیں لوگوں کایہ حق ہے کہ ان کواذیت و آزار دینے سے اجتناب کرو۔ اوران کے لئے وہی پسندکروجواپنے لئے پسندکرتے ہواور جواپنے لئے نا پسند کرتے ہوان کے لئے ناپسندکرو۔

——————————————————————————–

منابع:
[1]
نہج البلاغہ خطبہ ۱۵۶۔
[2]
دہ گفتارص۱۴۔
[3]
نہج البلاغہ خطبہ۱۶۔
[4]
نہج البلاغہ خط ۳۱۔
[5]
بحارالانوارج۶۸ص۱۷۷۔
[6]
نہج البلاغہ خطبہ۔۸۲۔
[7]
بحارالانوراج۷۴ص۱۶۰۔
[8]
غررالحکم ودررالحکم ج۴ص۱۸۳۔
[9]
نہج البلاغہ خط ۳۱
[10]
آئین انقلاب اسلامی ص۲۰۳۔
[11]
غررالحکم ودررالحکم ج۴ص۳۹۲۔
[12]
نہج البلاغہ خط ۳۱۔
[13]
غررالحکم ودررالحکم ج۵ص۳۵۷۔
[14]
غررالحکم ودررالحکم ج۲ص۱۴۵۔
[15]
غررالحکم ودررالحکم ج۲ص۷۷۔
[16]
غررالحکم ودررالحکم ج۴ص۵۹۵۔
[17]
غررالحکم ودررالحکم ج۴ص۹۳۔
[18]
نہج البلاغہ خط ۳۱۔

مآخذ: http://danishkadah.com

دوروں کی تعداد : 112

 
امتیاز دهی
 
 

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر

اس بارے میں پڑہیں:
حضرت علی اکبر علیہ السلام جوانوں کے لیے نمونۂ عمل
  • 2018.9.17 понедельник حضرت علی اکبر علیہ السلام جوانوں کے لیے نمونۂ عمل
    اسلام میں بہت سی ایسی شخصیات موجود ہیں کہ جن کو نمونۂ عمل بنا کر ہم اِس دنیا اور آخرت میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ اسلام کے انہیں درخشاں ستاروں میں ایک ستارہ، حضرت علی اکبر علیہ السلام کی ذاتِ گرامی ہے کہ جن کی شخصیت قیامت تک آنے والے جوانوں کے لیے بہترین نمونۂ عمل ہے
    اردو
حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی نصیحتیں
سبق آموز مثالیں: تیسرا حصہ 9
  • 2017.6.28 среда سبق آموز مثالیں: تیسرا حصہ 9
    سبق آموز مثالیں، آیت اللہ حائری شیرازی کی کتاب (مثلہا و پندہا ) کی مثالوں کا ترجمہ پیش خدمت ہے ہمیں آپکے مفید مشوروں کا انتظار رہیگا
سبق آموز مثالیں: تیسرا حصہ 4
  • 2017.6.28 среда سبق آموز مثالیں: تیسرا حصہ 4
    سبق آموز مثالیں، آیت اللہ حائری شیرازی کی کتاب (مثلہا و پندہا ) کی مثالوں کا ترجمہ پیش خدمت ہے ہمیں آپکے مفید مشوروں کا انتظار رہیگا
سبق آموز مثالیں: تیسرا حصہ 1
  • 2017.6.28 среда سبق آموز مثالیں: تیسرا حصہ 1
    سبق آموز مثالیں، آیت اللہ حائری شیرازی کی کتاب (مثلہا و پندہا ) کی مثالوں کا ترجمہ پیش خدمت ہے ہمیں آپکے مفید مشوروں کا انتظار رہیگا۔۔۔
[Part_khabar]

امام رضا علیہ السلام کی ملکوتی بارگاہ ایک ایسا دروازہ ہے جوخدا کی طرف کھلتا ہے۔ یہ ملکوتی بارگاہ ہر اس شخص کے لئے پناہ گاہ ہے جو رازونیاز کرنے کے لئےاس کی طرف دوڑا چلا آتا ہے، امام علی ابن موسیٰ الرضا علیہ السلام نے اپنی آغوش رحمت کو اپنے چاہنے والوں کے لئے پھیلا رکھاہے اور توس کی سرزمین پر اپنے وجود کی خوشبوسے اپنے زائرین اور مجاورین کی روح اور جان کو محبت اور رأفت سے نوازتے ہیں۔ لیکن ایسے آسمانی اور ملکوتی گوھر کا مہمان اور میزبان ہونا بھی کوئی آسان کام نہیں ہے ۔اور ایک ایسی فضا اورماحول کو جو امام ھمام کی شأن و منزلت کے مطابق ہو ایجاد کرنے کے لئے مسئولیت کا قبول کرناایک مھم اور مشکل کام ہے ۔ اس مھم کام کی ذمہ داری ادارہ ’’آستان قدس رضوی‘‘ کے اوپر ہے۔ ’’آستان قدس رضوی‘‘ رسمی طور پر ایک ایسے مجموعہ ہے جو حرم امام رضا علیہ السلام  اور اس کی موقوفات اور جتنے بھی اس کے متعلقات ہیں ان کی سرپرستی اور مدیریت کرتا ہے۔ یہ ادارہ اپنی تمام تر تلاش کو بہ روئے کار لاتے ہوئے امام رضا علیہ السلام کے زائرین اور مجاورین کی ضروریات کو نذورات اور زائرین کی موقوفات پر تکیہ کرتے ہوئے پوری کرتا ہے۔ حریم مقدس حرم کی نوسازی ومرمّت  اور اس کی حفاظت اور زائرین کی میزبانی کے لئےمتبرک مقامات کی آمادہ سازی، معرفت اور آسانی سے زیارت کرنے کے لئے مختلف امکانات کا مھیا کرنا، زائرین کی راھنمائی اور۔۔۔ یہ چند ایک آستان قدس رضوی کی ایسی خدمات ہیں جن کو پہلی نگاہ میں مشاھدہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن آستان قدس رضوی کی فعالیتوں کی حد و حدود ،حرم مطہر کے وسیع وعریض ابعاد سے بھی فراتر ہے۔ میوزیم، لائبریریز، یونیورسٹیاں اور مدارس، میڈیکل سینٹر اور ہسپٹلز اور انڈسٹریز سینٹرز،آستان قدس رضوی کی چند ایک دوسری فعالیتیں ہیں۔ اس ادارے کے مھم اھداف سےمزید آشنا ہونے کے لئے آپ آستان قدس رضوی کی بیس سالہ کی گئی پلاننگ کے مجوزات کو دیکھ سکتے ہیں۔