روضہ منوره حضرت امام علی رضاؑ کی ویب سائٹ

1397/2/22 شنبه

منتخب حدیثیں (اقوال زرین)

.
منتخب حدیثیں (اقوال زرین)

منتخب حدیثیں (اقوال زرین)
 
گناہ صغیرہ پر اصرار
قال امام رضا (ع): الصغائر من الذنوب طرق الی الكبائر من لم یخف الله فی القلیل لم یخفه فی الكثیر.
حضرت امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا: چھوٹے و صغیرہ  گناہ؛  بڑے اور کبیرہ گناہوں تک پہونچنے کا ذریعہ ہیں۔ جو شخص گناہ صغیرہ میں خداوندعالم سے نہیں ڈرتا ہو وہ گناہ کبیرہ میں بھی خوف نہیں کھائے گا۔
(عيون اخبار الرضا /ج 2، ص 180)

دلبستگی:
قال الرضا (ع): السفله من كان له شیء یلهیه عن الله تعالى.
حضرت امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا: پست و کم ظرف انسان وہ ہے کہ جس پر ایسی چیز ہو کہ جو اس کو یاد خدا سے غافل کردے۔
(مستدر كالوسائل/ج 13 ،ص 269)

عیب کو چھپانا
المذیع بالسیئه مخذول و المستتر بالسیئه مغفور له.  (ميزان الحكمة/ ج 2، ص 988)
جو کوئي کسی دوسرے کے برے کاموں کو عام کرے خود ذلیل ہوجاتا ہے اور جو کوئي ان کو چھپائے خداوندعالم اس کے گناہوں سے درگذر فرماتا ہے۔

شکر نعمت:
لاتستقلوا قلیل الرزق فتحرموا كثیره.
مختصر رزق و روزی کو کم نہ سمجھو ورنہ زیادہ رزق و روزی سے محروم ہوجاؤگے۔
(بحار الانوار/ 75 ، 347)

صبر
قَالَ الامام علی (ع):  الصَّبْرُ صَبْرَانِ صَبْرٌ عَلَى مَا تَكْرَهُ وَ صَبْرٌ عَمَّا تُحِبُّ .
حضرت امام علی علیہ السلام نے فرمایا: صبر کی دو قسمیں ہیں، ایک اس چیز پر صبر کہ جو تم کو پسند نہیں ہے اور ایک اس چیز پر صبر کہ جو تم کو پسند ہے ۔
(نهج البلاغه /حكمت 55)

نوجوانوں کی تربیت
الإمامُ عليٌّ عليه السلام ـ للحسنِ عليه السلام ـ : إنّما قَلْبُ الحَدَثِ كالأرضِ الخالِيةِ ما اُلقِيَ فيها مِنْ شيءٍ قَبِلَتْهُ ، فبادَرْتُكَ بالأدبِ قبلَ أن يَقْسُوَ قلبُكَ ويَشتغِلَ لُبّكَ .
حضرت امام علی علیہ السلام نے حضرت امام حسن علیہ السلام سے فرمایا: نوجوان کا دل خالی زمین کی طرح ہے کہ جو چیز بھی اس میں ڈالی جائے قبول کرلیتی ہے۔ لہذا میں نے اس سے پہلے کہ تمہارا دل سخت  اور تمہاری فکر مشغول ہو تمہاری تربیت انجام دی۔
(نهج البلاغة: الكتاب31.)

 بخل و کنجوس
قال ابو عبدالله عليه السلام : حَسْبُ البخيلِ مِن بُخلِهِ سُوءُ الظَّنِّ بربِّهِ ، مَن أيقَنَ بالخَلَفِ جادَ بالعَطيّةِ .
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: بخیل کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے خدا سے بھی بدگمانی رکھتا ہے۔ جو شخص جزا اور بدلے پر یقین رکھتا ہے وہ بخشش و سخاوت کرتا ہے۔
(میزان الحکمه- بحار الأنوار : 73 / 307 / 35 )

احترام کرنا:
رسولُ اللّه ِ صلى الله عليه و آله : لا يَزْرَأنَّ أحدُكُم بأحدٍ من خَلقِ اللّه ِ فإنَّهُ لا يَدري أيُّهُم وليُّ اللّه ِ .  
حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی بھی کسی بھی بندہ الہی کی توہین نہ کرے، اس لیے کہ نہیں معلوم کہ خداکا محبوب کون ہے ۔
(میزان الحکمه - بحار الأنوار : 75/147/21)

عیبوں کی طرف متوجہ کرنا:
أحَبُّ إخواني إلَىَّ مَن أهدى إلَىَّ عُيُوبي؛
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: میرے نزدیک میرا بہترین دوست وہ ہے کہ جو مجھ کو میرے عیب ہدیے کے طور پر دے ۔
(اصول کافی، ج2، ص639)

قدرشناسی:
الإمام علي عليه السلام : مَن عَرَفَ قَدرَ نَفسِهِ لَم يُهِنها بِالفانِياتِ . 
حضرت امام علی نے فرمایا: جو شخص اپنی قدر و منزلت پہچانتا ہے، وہ کبھی بھی فنا و نابود ہونے والی چیزوں سے خود کو ہلکا اور بے اہمیت نہیں بنائے گا۔
(غرر الحكم : ح 8628 .حکمتنامه جوان ری شهری)

تنظیم اوقات
الإمام علي عليه السلام : لِلمُؤمِنِ ثَلاثُ ساعاتٍ : فَساعَةٌ يُناجي فيها رَبَّهُ ، وساعَةٌ يَرُمُّ مَعاشَهُ ، وساعَةٌ يُخَلّي بَينَ نَفسِهِ وبَينَ لَذَّتِها فيمايَحِلُّ ويَجمُلُ.  حديث
حضرت امام علی نے فرمایا: مومن کے لیے اپنے اوقات کو تین حصوں میں تقسیم کرنا مناسب ہے: ایک وقت میں اپنے پروردگار سے راز و نیاز کرے، ایک وقت میں اپنی زندگی کے لیے معاش کو تلاش کرے، ایک وقت کو حلال و خوبصورت خوشیوں میں گذارے۔
(نهج البلاغة : الحكمة 390 .- حکمتنامه جوان – ری شهری)

تفریح:
رسول اللّه صلي الله عليه و آله : اِلهَوا وَالعَبوا فَإِنِي أكرَهُ أن يُرى في دينِكُم غِلظَةً.  حديث
حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھیل و تفریح کرو؛ اس لیے کہ مجھ کو اچھا نہیں لگتا کہ تم اپنے دین میں سختی و دشواری محسوس کرو۔
(شُعب الإيمان : ج 5 ص 247 ح 6542/حکمتنامه جوان – ری شهری)

ترک گناه:      
قال رسول الله صلي الله عليه و آله : لا يَقدِرُ رَجُلٌ عَلى حَرامٍ ، ثُمَّ يَدَعُهُ لَيسَ بِهِ إلاّ مَخافَةُ اللّه ِ ، إلاّ أبدَلَهُ اللّه ُ في عاجِلِ الدُّنيا قَبلَ الآخِرَةِ ما هُوَ خَيرٌ لَهُ مِن ذلِكَ .
حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:جو شخص کسی حرام کرنے کا امکان رکھتا ہو اور پھر اس کو خوف خدا کی خاطر ترک کردے۔ تو خداوندعالم قیامت سے پہلے دنیا میں ہی اس کو اس چیز سے بہتر عطا کرے گا۔
(كنز العمّال : ج 15 ص 787 ح 43113/ حکمتنامه جوان ری شهری)

عیب جویی:
الامام علی عليه السلام : شَرُّ النّاسِ مَن كانَ مُتَتَبِّعا لِعُيوبِ النّاسِ ، عَمِيّا لِمَعايِبِهِ . 
حضرت امام علی علیہ السلام نے فرمایا: بدترین شخص وہ ہے کہ جولوگوں کی برئیوں کی تلاش میں پھرے، اور اپنے عیبوں سے آنکھیں بند رکھے۔
(غرر الحكم : ح 5739 /حکمتنامه جوان، ری شهری)

فکر گناه:
الامام علی عليه السلام : مَن كَثُرَ فِكرُهُ فِي المَعاصِي دَعَتهُ إلَيها . 
حضرت امام علی علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص گناہوں کے بارے میں زیادہ سوچتا ہو تو یہ کام اس کو گناہ میں ڈالدے گا۔
(غرر الحكم : ح 8561/ حکمتنامه جوان ، ری شهری)

ناپسند بننا سنورنا
صفحه اختصاصي حديث و آيات الإمام علي عليه السلام : قَلَّ مَن تَشَبَّهَ بِقَومٍ إلاّ أوشَكَ أن يَكونَ مِنهُم .   
حضرت امام علی علیہ السلام نے فرمایا: بہت کم ایسے لوگ ہیں کہ جو خودکو کسی کی شبیہ بنائیں  اور بہت جلد ان میں سے نہ ہوجائیں۔
(نهج البلاغة : الحكمة 207/ حکمتنامه جوان، ری شهری)

 غیر خدا سے دوستی
الإمام الصادق عليه السلام ـ لَمّا سُئِلَ عَنِ العِشقِ ـ : قُلوبٌ خَلَت عَن ذِكرِ اللّه ِ ، فَأَذاقَهَا اللّه ُ حَبَّ غَيرِهِ .
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب عشق سے متعلق سوال ہوا-  وہ دل کہ جو ذکر الہی سے خالی تھے، خداوندعالم نے ان کو اپنے علاوہ کسی دوسرے کی محبت کا ذائقہ دیدیا۔
(بحار الأنوار : ج 73 ص 158 ح 1/ حکمتنامه جوان، ری شهری)

عذر قبول کرنا:
الإمام علي عليه السلام : اِقبَل عُذرَ أخيكَ ، فَإِن لَم يَكُن لَهُ عُذرٌ فَالتَمِس لَهُ عُذرا . 
حضرت امام علی علیہ السلام نے فرمایا: اپنے بھائی کا عذر قبول کرو، اگر وہ عذر نہ رکھتا ہو تو اس کے لیے عذر تلاش کرو۔
(تحف العقول : ص 112/ حکمتنامه جوان، ری شهری)

تنبیہ
الإمام علي عليه السلام : إذا عاتَبتَ الحَدَثَ فَاترُك لَهُ مَوضِعا مِن ذَنبِهِ لِئَلاّ يَحمِلَهُ الإِخراجُ عَلَى المُكابَرَةِ . 
حضرت امام علی علیہ السلام نے فرمایا: جب بھی کسی جوان کو تنبیہ کریں، تو اس کے کچھ گناہوں سے درگذر کریں تاکہ یہ تنبیہ اس کو مقابلہ کرنے پر مجبور نہ کردے۔
(شرح نهج البلاغة : ج 20 ص 333 ح 819 / حکمتنامه جوان، ری شهری)

تنبیہ
عنه عليه السلام : الإِفراطُ فِي المَلامَةِ يَشِبُّ نيرانَ اللَّجاجَةِ .
حضرت امام علی علیہ السلام نے فرمایا: تنبیہ میں زیادہ روی، ضد اور لج بازی کی آگ کو بھڑکاتی ہے۔
(عيون الحكم والمواعظ : ص 22 ح 159/ حکمتنامه جوان، ری شهری)

کھانا کھانے کے درمیان پانی پینا
 امام رضا عليه السلام : مَن أرادَ أن لايُؤذِيَهُ مِعدَتُهُ فَلا يَشرَب بَينَ طَعامِهِ ماءً ؛ حديث
حضرت امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص اپنے معدے کو اذیت نہیں دینا چاہتا وہ کھانے کے درمیان پانی نہ پیے۔
(بحار الأنوار ، ج 62 ، ص 323 .)

تولا اور تبرا
امام موسی کاظم (علیه السلام):طُوبَى لِشِيعَتِنَا الْمُتَمَسِّكِينَ بِحَبْلِنَا فِي غَيْبَةِ قَائِمِنَا الثَّابِتِينَ عَلَى مُوَالاتِنَا وَ الْبَرَاءَةِ مِنْ أَعْدَائِنَا أُولَئِكَ مِنَّا وَ نَحْنُ مِنْهُمْ قَدْ رَضُوا بِنَا أَئِمَّةً وَ رَضِينَا بِهِمْ شِيعَةً
همارے شیعه خوش نصیب هیں که جو همارے قائم کی غیبت کے زمانے میں هماری ولایت کی رسی کو پکڑے هوئے هیں، اور هم سے دوستی و همارے دشمنوں سے بیزاری پر ثابت قدم هیں. وه هم سے اور هم ان سے هیں. وه هماری امامت سے خوشحال اور هم ان کے شیعه هونے اور هماری پیروی کرنے سے راضی و خوشنود هیں.
( كمال الدين و تمام النعمة، ج‏2ص361)

انتظار کی گھڑی
امام رضا علیه السلام:«أَمَا وَ اللَّهِ لَا يَكُونُ‏ الَّذِي‏ تَمُدُّونَ‏ إِلَيْهِ‏ أَعْيُنَكُمْ‏ حَتَّى تُمَيَّزُوا أَوْ تُمَحَّصُوا حَتَّى لَا يَبْقَى مِنْكُمْ إِلَّا الْأَنْدَرُ ثُمَّ تَلَا أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تُتْرَكُوا وَ لَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا مِنْكُمْ وَ يَعْلَمَ الصَّابِرِينَ‏»
آگاه هوجائیں ! خدا کی قسم جو کچھ( حضرت امام مهدی علیه السلام کے فرج و ظهور سے)انتظار میں هو،اس وقت تک پورا نهیں هوگا جب تک تم ایک دوسرے سے جدا هو کر امتحان نه دیدو اور آزمائش نه هوجاؤ، اور صرف مختصر سے لوگ راه حق پر نه ره جائیں، اور پهر اس آیت کی تلاوت فرمائی: کیا یه گمان کرتے هو که تم کو تمهارے حال پر چهوڑ دیا گیا هے اور خدا نهیں جانتا که تم میں سے مجاهدین و صابرین کون لوگ هیں؟.
((كتاب الغيبة للحجة، النص، ص: 336- 337)

شبیہ پیغمبرؐ
امام حسن عسکری(علیه السلام):«أَشْبَهَ النَّاسِ بِرَسُولِ اللَّهِ ص خَلْقاً وَ خُلْقاً يَحْفَظُهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى فِي غَيْبَتِهِ ثُمَّ يُظْهِرُهُ فَيَمْلَأُ الْأَرْضَ عَدْلًا وَ قِسْطاً كَمَا مُلِئَتْ جَوْراً وَ ظُلْماً»
وه (مهدی علیه السلام)حضرت رسول اکرم صلی الله علیه و آله و سلم سے سیرت و صورت میں تمام لوگوں کی نسبت شبیه ترین هیں اور خداوندعالم زمان غیبت میں ان کا محافظ و نگهبان هے، یہاں تک که ان کو ظاهر کرے اور حضرت، زمین کو که جو ظلم و ستم سے بهری پڑی تهی، عدل و انصاف سے بهر دیں گے.
(كمال الدين و تمام النعمة، ج‏2، ص: 409)

انتظار کی کیفیت

امام جعفرصادق (عليه‌السلام:«سَيِّدِي غَيْبَتُكَ نَفَتْ رُقَادِي وَ ضَيَّقَتْ عَلَيَّ مِهَادِي وَ ابْتَزَّتْ مِنِّي رَاحَةَ فُؤَادِي »

میرے مولا. آپ کی غیبت نے میری آنکهوں سے نیند کو چهین لیا هے اور میرے بستر کو میرے لیے تنگ کردیا هے اور میرے دل کے آرام و سکون کو ختم کردیا هے.
( كمال الدين و تمام النعمة، ج‏2، ص: 353)

 

دوروں کی تعداد : 30

 
امتیاز دهی
 
 

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر

اس بارے میں پڑہیں:
پیغمبر اسلامؑ اور امام حسنؑ کے متعلق اقوال زرین
اقوال زرین پیغمبر اسلام اور امام مجتبیٰ علیہما السلام
امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے اقوال
امام رضا علیہ السلام کے متعلق اقوال زرین، دوسرا حصہ
امام رضا علیہ السلام کے متعلق اقوال زرین
  • 2017.8.7 понедельник امام رضا علیہ السلام کے متعلق اقوال زرین
    امام رضا علیہ السلام کے متعلق اقوال زرین، کا مجموعہ جسمیں امام علیہ السلام کے کلمات اور آپکے متعلق معصومین علیہ السلام کے کلمات کے ساتھ آپ کے مرقد مطھر کے باری میں معلومات فراہم کی گئی ہیں۔۔۔
[Part_khabar]

امام رضا علیہ السلام کی ملکوتی بارگاہ ایک ایسا دروازہ ہے جوخدا کی طرف کھلتا ہے۔ یہ ملکوتی بارگاہ ہر اس شخص کے لئے پناہ گاہ ہے جو رازونیاز کرنے کے لئےاس کی طرف دوڑا چلا آتا ہے، امام علی ابن موسیٰ الرضا علیہ السلام نے اپنی آغوش رحمت کو اپنے چاہنے والوں کے لئے پھیلا رکھاہے اور توس کی سرزمین پر اپنے وجود کی خوشبوسے اپنے زائرین اور مجاورین کی روح اور جان کو محبت اور رأفت سے نوازتے ہیں۔ لیکن ایسے آسمانی اور ملکوتی گوھر کا مہمان اور میزبان ہونا بھی کوئی آسان کام نہیں ہے ۔اور ایک ایسی فضا اورماحول کو جو امام ھمام کی شأن و منزلت کے مطابق ہو ایجاد کرنے کے لئے مسئولیت کا قبول کرناایک مھم اور مشکل کام ہے ۔ اس مھم کام کی ذمہ داری ادارہ ’’آستان قدس رضوی‘‘ کے اوپر ہے۔ ’’آستان قدس رضوی‘‘ رسمی طور پر ایک ایسے مجموعہ ہے جو حرم امام رضا علیہ السلام  اور اس کی موقوفات اور جتنے بھی اس کے متعلقات ہیں ان کی سرپرستی اور مدیریت کرتا ہے۔ یہ ادارہ اپنی تمام تر تلاش کو بہ روئے کار لاتے ہوئے امام رضا علیہ السلام کے زائرین اور مجاورین کی ضروریات کو نذورات اور زائرین کی موقوفات پر تکیہ کرتے ہوئے پوری کرتا ہے۔ حریم مقدس حرم کی نوسازی ومرمّت  اور اس کی حفاظت اور زائرین کی میزبانی کے لئےمتبرک مقامات کی آمادہ سازی، معرفت اور آسانی سے زیارت کرنے کے لئے مختلف امکانات کا مھیا کرنا، زائرین کی راھنمائی اور۔۔۔ یہ چند ایک آستان قدس رضوی کی ایسی خدمات ہیں جن کو پہلی نگاہ میں مشاھدہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن آستان قدس رضوی کی فعالیتوں کی حد و حدود ،حرم مطہر کے وسیع وعریض ابعاد سے بھی فراتر ہے۔ میوزیم، لائبریریز، یونیورسٹیاں اور مدارس، میڈیکل سینٹر اور ہسپٹلز اور انڈسٹریز سینٹرز،آستان قدس رضوی کی چند ایک دوسری فعالیتیں ہیں۔ اس ادارے کے مھم اھداف سےمزید آشنا ہونے کے لئے آپ آستان قدس رضوی کی بیس سالہ کی گئی پلاننگ کے مجوزات کو دیکھ سکتے ہیں۔