روضہ منوره حضرت امام علی رضاؑ کی ویب سائٹ

1397/10/4 سه‌شنبه

ولادت با سعادت عیسیٰ مسیح علیہ السلام مبارک ہو

.
ولادت با سعادت عیسیٰ مسیح علیہ السلام مبارک ہو

 حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام کے ولادت با سعادت کی مناسبت سے آپ علیہ السلام سے متعلق کچھ حکایتیں پیش کی جارہی ہیں۔۔۔

حضرت عیسی (ع) ایک چَرواہے کے پاس پہونچے اور فرمایا: اے شخص تو نے اپنی پوری عمر چَوپانی کرنے میں لگادی،  اگر علم حاصل کرنے کی کوشش کرتے، اس سے بہتر نہ ہوتے؟ اس نے عرض کیا: یا نبی اللّہ! میں نے علم میں سے چھ چیزوں کو سیکھا ہے اور اس پر عمل کرتا ہوں۔
ایک: جب تک حلال موجود ہے حرام نہیں کھاتا اور حلال کبھی کم نہیں پڑتا جو حرام کھانے کی ضرورت پڑے۔
دوسرے: جب تک سچ ہے جھوت نہیں بولتا اور سچ بولنا کم ہی نہیں پڑتا کہ جھوٹ بولنے کی ضرورت پڑے۔
تیسرے: جب میں اپنی خَامِیوں کو دیکھتا ہوں دوسروں کے عُیوب میں مشغول نہیں ہوتا اور ابھی میں اپنی خامِیوں کو دور نہیں کرسکا جو دوسروں کے عُیوب پر بات کروں۔
چوتھے: جب تک ابلیس کی موت نہ دیکھ لوں مخلوق کے خزانے کی لالچ نہیں رکھتا اور ابھی تک خزانۂِ قُدرت کم نہیں پڑا جو مخلوق کا محتاج ہوجاؤں۔
پانچویے: یہ کہ جب تک اپنے دونوں پاؤں جنّت میں نہ دیکھ لوں خود کو عذابِ الہی سے محفوظ نہیں سمجھتا اور ابھی تک خود کو جنّت میں نہیں پایا ہے جو اس کے عذاب سے آسودَہ خاطِر ہوجاؤں۔
حضرت عیسی نے فرمایا: (جو تو نے پڑھا اور سیکھا ہے یہی اولین و آخرین علم ہے(یہی اصل علم ہے)۔
(ﺭﻧﮕﺎﺭﻧﮓ 1، 263)

 حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
ایک شخص حضرت عیسی (ع) کی خدمت میں گیا اور عرض کیا: یاروح اللہ! میں نے زنا کیا ہے، مجھے حدّ الہی جاری کرکے پاک کردیجئے۔ حضرت(ع)  نے حکم دیا کہ لوگ اس کی تطہیر کے لئے جمع ہوں، جب لوگ جمع ہوگئے، ایک گڈھا کھودا گیا اور اس گنہگار شخص کو اس میں ڈال دیا گیا، حضرت عیسی(ع) نے فرمایا: جس شخص کی گردن پر حدّ الہی ہو وہ اس شخص پر حد جاری کرنے کا حق نہیں رکھتا، حضرت یحیی(ع) اور حضرت عیسی(ع) کے علاوہ سب لوگ پیچھے ہٹ گئے۔
حضرت یحیی(ع) اس گنہگار کے پاس گئے اور کہا: مجھے نصیحت کرو، اس نے کہا: خواہشات پر عمل کے لئے نفس کو آزاد مت چھوڑو ورنہ نفس تمہیں ہلاک کردیگا، حضرت(ع) نے فرمایا: دوبارہ کہو، اس نے کہا: کسی بھی گنہگار کی اس کے گناہ کی وجہ سے مَلامَت نہ کرو اور طَعنہ مت دو۔
(مجموعه ورام، ص 239)

 حضرت عیسی (ع) کچھ لوگوں کے ساتھ ایک جگہ تشریف فرما تھے، ایک لکڑہارا خوشی کے عالم میں روٹی کھاتے ہوئے جا رہا تھا، حضرت عیسی (ع) نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: کیا آپ کو تعجب نہیں ہوگا کہ یہ شخص ایک گھنٹے سے زیادہ نہیں جِئِے گا، لیکن اسی دن کے آخر میں اس کو دیکھا کہ لکڑیوں کے بوجھ کے ساتھ چلا آرہا ہے، سب کو تعجّب ہوا اور حضرت عیسی(ع) سے اس کے نہ مرنے کا سبب دریافت کیا۔ آپ(ع) نے لکڑہارے سے خیریت دریافت کرنے کے بعد فرمایا: اپنی لکڑیوں کے گٹھری کھولو، جب اس نے لکڑیاں کھولیں تو ان لکڑیوں کے درمیان ایک کالا سانپ دیکھا، آپ(ع) نے فرمایا: اس سانپ کو تو اسے ڈس لینا چاہئے تھا لیکن تونے کیا کام کیا جو اس عظیم خطرے سے نجات پاگیا؟ اس نے کہا: میں روٹی کھا رہا تھا کہ ایک فقیر میرے سامنے سے گذرا، تھوڑی سی روٹی اسے دے دی اور اس نے میرے لئے دعا کی۔ حضرت عیسی(ع) نے فرمایا: اسی ضرورتمند کی مدد کرنے کی وجہ سے ہی خدا نے اس ناگہانی بلا کو ٹال دیا اور تم پچاس سال اور جِیو گے۔
(تفسیر نمونه، ج 3، ص 223)

 ایک راستہ میں حضرت عیسی (ع) کی نگاہ ایک قبر پر پڑی، خدا سے درخواست کی کہ صاحبِ قبر کو زندہ کردے۔ جیسے ہی وہ زندہ ہوا، آپ(ع) نے اس سے سوال کیا کہ تمہارا کیا حال ہے؟
اس نے عرض کیا: میں ایک بوجھ ڈھونے والا آدمی تھا، ایک دن کسی کے لئے جلانے کی لکڑیاں لے جارہا تھا؛ اسی درمیان ان لکڑیوں میں سے ایک تنکا نکال لیا تاکہ خلال کرلوں، جب سے مجھے موت آئی ہے، اسی ایک خلال کا عذاب جھیل رہا ہوں۔
(ﻛﺒﺮﻳﺖ ﺍﺣﻤﺮ، ﺹ 72)

 ایک دن حضرت عیسی کا ایک راستے سے گذر ہوا۔ ایک بیوقوف سامنے آیا اور ایک بات پوچھی۔ حضرت عیسی (ع) نے نہایت مہربانی کے ساتھ اس کا جواب دیا، لیکن اس نے چلانا اور بیوقوفی دکھانا شروع کردیا؛ اس طرح کہ وہ بکتا جا رہا تھا اور جناب عیسی اس کی تعریف کرتے جارہے تھے۔۔۔ یہاں تک کہ ایک شخص وہاں پہونچا اور اس نے کہا: اے روحُ اللّہ، کیوں اس کے منھ لگے ہیں؟! ، وہ جس قدر دشمنی دکھارہا ہے، آپ مہربانی سے پیش آرہے ہیں،  اس کی جَورُ و جفا جتنی بڑھتی جا رہی ہے آپ اتنا ہی اس کے ساتھ مہربانی دکھا رہے ہیں؟! حضرت عیسی(ع)  نے فرمایا: اے میرے دوست!  «کلّ اناء یترشّح بما فیه؛ برتن سے وہی چیز ٹپکتی ہی جو اس میں ہوتی ہے». اس شخص سے وہ صفت ظاہر ہورہی ہے اور مجھ سے یہ کام ہورہا ہے۔ میں اس سے غضبناک نہیں ہونگا اور وہ مجھ سے ادب سیکھ لے گا۔میں اس کی باتوں سے جاہل نہیں بن جاؤنگا جبکہ وہ میرے اَخلاق سے عاقِل بن جائے گا۔
(غلامحسین کاشفی، اخلاق محسنی، ص 70 – 68)

 حضرت امام صادق علیہ السّلام حضرت رسول خدا صلی اللّہ علیہ و آلہ سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عیسی بن مریم(ع)  ایک ایسی قبر کے کنارے سے گذرے جس پر عذاب نازل ہورہا تھا لیکن جب دوسرے سال اسی قبر کے پاس سے گذرے، تعجّب کے ساتھ دیکھا کہ صاحبِ قبر اس مرتبہ عذاب میں مُبتلا نہیں ہے۔ حضرت عیسی (ع) نے خدا کے حُضور عرض کیا: بارالہا! گُذِشتہ برس جب یہاں سے گذرا وہ عذاب میں تھا لیکن اس مرتبہ جب گذرا تو اس پر عذاب نہیں تھا ایسا کیا ہوگیا۔ وحی آئی کہ: اس کا ایک نیک اور صالح بیٹا ہےجو خدا کے راستہ پر چلتا ہے اور  یتیم کی سرپرستی بھی کرتا ہے، اسی عملِ صالح کی بنیاد پر اسکے والد کے گناہ کو درگذر کیا اور بخش دیا۔ پھر رسول خدا(ص) نے فرمایا: بندۂِ مومن کے لئے جو چیز موت کے بعد باقی رہ جاتی ہے وہ اس کا فرزند ہے جو باپ کے بعد خدا کی عبادت کرے۔
اس کے بعد آپ(ص) نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: رب هب لی من لدنک ولیا یرثنی ویرث من آل یعقوب واجعله رب رضیا۔
ایک ایسا ولی اور وارث عطا فرمادے جو میرا اور آل یعقوب کا وارث ہو اور پروردگار اسے اپنا پسندیدہ بھی قرار دے دے
(وسائل الشیعه , ج 15, ص 98)

 حضرت عیسی (ع) نے فرمایا: میں نے بیماروں کا علاج کیا اور انہیں شفا دی، پیدائشی اندھے، اور برص، کوڑھ جیسے امراض کو خدا کے اِذن سے ٹھیک کیا، مُردوں کو زندہ کیا لیکن اَحمق شخص کی اِصلاح اور اس کا عِلاج نہ کرسکا۔
پوچھا گیا: یا روحُ اللّہ! احمق کون ہے؟
حضرت عیسی(ع) نے فرمایا: جو خودغرض اور مغرور انسان ہے کہ جو ہر خُوبی اور فضیلت اپنے سے منسوب کرتا ہے اور ہر جگہ خود ہی کو حق پر سمجھتا ہے اور دوسروں کے لئے ذرّہ برابر احترام کا قائل نہیں ہوتا، اور ایسے احمق شخص کا علاج نہیں ہوسکتا اور اس کی اِصلاح نہیں کی جاسکتی۔
(بحار: ج 72، ص 320)

 

دوروں کی تعداد : 297

 
امتیاز دهی
 
 

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر

اس بارے میں پڑہیں:
علم اور قدرتِ پروردگارِ عالَم؛ امام علی رضاؑ کے کلام کی روشنی میں
اسلام میں علم کی اہمیت
  • 2018.11.28 среда اسلام میں علم کی اہمیت
    یوں تو علم کے بغیر کسی بھی دین و مذہب کا تصور نہیں کیا جاسکتا لیکن دین اگر اسلام ہو تو یہ تصور اور بھی مشکل ہوجاتا ہے کیوں کہ یہ وہ مذہب نہیں جو صرف چند عقائد اور رسومات کا مجموعہ ہو اور جس کی بنیاد اساطیر اولین اور دیومالائی قصے ہوں بلکہ یہ وہ نظام زندگی و دستور حیات ہے جس کی بنیاد کتاب الٰہی اور سنت نبویؐ پر قائم ہے۔
    قرآن و عترت
ولادت با سعادت صادقین مبارک ہو
حضرت ابراہیم کے فرزند
  • 2018.6.23 суббота حضرت ابراہیم کے فرزند
    ان کا نام رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے برسوں برس پہلے معین کردیا تھا؛ جعفر: یعنی پانی سے بھرا ہوا دریا۔ ان کی کنیت ابوعبداللہ اور مشہور ترین لقب صادق ہے یعنی وہ کہ جس کا کلام عین حقیقت ہو
    اردو
حضرت عیسی مسیح علیہ السلام کی ولادت
[Part_khabar]

امام رضا علیہ السلام کی ملکوتی بارگاہ ایک ایسا دروازہ ہے جوخدا کی طرف کھلتا ہے۔ یہ ملکوتی بارگاہ ہر اس شخص کے لئے پناہ گاہ ہے جو رازونیاز کرنے کے لئےاس کی طرف دوڑا چلا آتا ہے، امام علی ابن موسیٰ الرضا علیہ السلام نے اپنی آغوش رحمت کو اپنے چاہنے والوں کے لئے پھیلا رکھاہے اور توس کی سرزمین پر اپنے وجود کی خوشبوسے اپنے زائرین اور مجاورین کی روح اور جان کو محبت اور رأفت سے نوازتے ہیں۔ لیکن ایسے آسمانی اور ملکوتی گوھر کا مہمان اور میزبان ہونا بھی کوئی آسان کام نہیں ہے ۔اور ایک ایسی فضا اورماحول کو جو امام ھمام کی شأن و منزلت کے مطابق ہو ایجاد کرنے کے لئے مسئولیت کا قبول کرناایک مھم اور مشکل کام ہے ۔ اس مھم کام کی ذمہ داری ادارہ ’’آستان قدس رضوی‘‘ کے اوپر ہے۔ ’’آستان قدس رضوی‘‘ رسمی طور پر ایک ایسے مجموعہ ہے جو حرم امام رضا علیہ السلام  اور اس کی موقوفات اور جتنے بھی اس کے متعلقات ہیں ان کی سرپرستی اور مدیریت کرتا ہے۔ یہ ادارہ اپنی تمام تر تلاش کو بہ روئے کار لاتے ہوئے امام رضا علیہ السلام کے زائرین اور مجاورین کی ضروریات کو نذورات اور زائرین کی موقوفات پر تکیہ کرتے ہوئے پوری کرتا ہے۔ حریم مقدس حرم کی نوسازی ومرمّت  اور اس کی حفاظت اور زائرین کی میزبانی کے لئےمتبرک مقامات کی آمادہ سازی، معرفت اور آسانی سے زیارت کرنے کے لئے مختلف امکانات کا مھیا کرنا، زائرین کی راھنمائی اور۔۔۔ یہ چند ایک آستان قدس رضوی کی ایسی خدمات ہیں جن کو پہلی نگاہ میں مشاھدہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن آستان قدس رضوی کی فعالیتوں کی حد و حدود ،حرم مطہر کے وسیع وعریض ابعاد سے بھی فراتر ہے۔ میوزیم، لائبریریز، یونیورسٹیاں اور مدارس، میڈیکل سینٹر اور ہسپٹلز اور انڈسٹریز سینٹرز،آستان قدس رضوی کی چند ایک دوسری فعالیتیں ہیں۔ اس ادارے کے مھم اھداف سےمزید آشنا ہونے کے لئے آپ آستان قدس رضوی کی بیس سالہ کی گئی پلاننگ کے مجوزات کو دیکھ سکتے ہیں۔