روضہ منوره حضرت امام علی رضاؑ کی ویب سائٹ

1397/8/13 يكشنبه

پیغمبر اسلامؑ اور امام حسنؑ کے متعلق اقوال زرین

.
پیغمبر اسلامؑ اور امام حسنؑ کے متعلق اقوال زرین


پیغمبر اسلام اور امام حسن مجتبیٰ علیہما السلام کے متعلق اقوال زرین
ترجمہ: محمد منتظر مہدی
رسول خدا حضرت محمد کی ولادت باسعادت عام الفیل میں یعنی نزول وحی سے چالیس سال قبل ماہ ربیع الاول میں ہوئی۔
رسولِ خدا نے اس دنیا میں اس وقت آنکھ کھولی جب آپ کے والد کا سایہ اٹھ چکا تھا، اسی لیے آپکی تربیت بچپن سے ہی آپ کے دادا حضرت عبدالمطلب نے کی ، جناب ابوطالب اور ان کی زوجہ کو رسولخداؐؐ بہت عزیز تھے۔ چنانچہ دسترخوان پر وہ اپنے بچوں سے کہتے کہ پیارے بیٹے (حضرت محمؐد) کے آنے کا انتظار کرو۔
رسولخداؐ ؐکی شادی حضرت خدیجہؑ سے ہوئی جو رشتے میں آپ کی چچا زاد بہن تھیں۔ دونوں کا شجرہ نسب جناب قصی بن کلاب سے ملتا ہے۔
جب رسولخداؐ ؐشام سے سفر تجارت کے بعد واپس مکہ تشریف لائے تو حضرت خدیجہ ؑنے پیغمبر اکرمؐ کی خدمت میں قاصد بھیجا اور آپ سے شادی کا ارادہ ظاہر کیا۔
رسولخداؐؐ نے اس مسئلے کو حضرت ابوطالب اور دیگر چچاؤں کے درمیان رکھا۔ سب نے اس رشتے سے اتفاق کیا تو آپ نے اس رشتے کومنظوری دی۔
رسولخداؐؐ کا تعلق قریش عرب کے معزز ترین قبیلہ بنو ہاشم سے تھا۔ یہ خاندان حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دین پر تھا جسے دینِ حنیف کہتے ہیں۔
رسولخداؐؐ کے والد عبداللہ بن عبدالمطلب اپنی خوبصورتی کے لیے مشہور تھے مگر ان کا انتقال آپؐ کی پیدائش سے چھ ماہ پہلے ہوگیا تھا۔
رسول خدا ؐکی والدہ کا نام حضرت آمنہ بنت وہب تھا جو قبیلہ بنی زہرہ کے سردار وہب بن عبد مناف بن قصی بن کلاب کی بیٹی تھیں۔
رسول خداؐ اللہ کے آخری نبی اور اولو العزم انبیاء میں سے ہیں۔ آپ کا اہم ترین معجزہ قرآن ہے۔ آپ یکتا پرستی کے منادی اور اخلاق کے داعی ہیں۔
آپ عرب کے مشرک معاشرے میں پیدا ہوئے مگر اپنی زندگی کے دوران بتوں کی پرستش اور معاشرے میں رائج اخلاقی برائیوں اور قباحتوں سے پرہیز کرتے تھے۔
آپ چالیس سال کی عمر میں مبعوث رسالت ہوئے۔ آپ کا اہم ترین پیغام یکتا پرستی کی دعوت تھا اور آپ اپنی بعثت کا مقصد اچھائیوں کی تکمیل سمجھتے تھے۔
مکہ میں تیرہ سال تک تبلیغ کے بعد آپ نے مدینہ ہجرت فرمائی۔ آپ کی مدینے کی طرف ہجرت کو اسلامی کیلنڈر کا آغاز قرار دیا گیا۔
رسولخداؐ ؐنے مختصر عرصے میں جاہلیت زدہ معاشرے کو ایک توحیدی معاشرہ بنادیااور تقریباًپورے جزیرہ نمائے عرب نےآپؐ کی زندگی میں ہی اسلام قبول کرلیا،
آپ کے بعض القاب یہ  ہیں: مصطفیٰ، حبیب اللہ، صفی اللہ، نعمۃ اللہ، خیرة خلق اللہ، سید المرسلین، خاتم النبیین، رحمۃ للعالمین، نبی امّی
مبعوث ہونے کے بعد رسولخداؐؐ کی تبلیغ کا سلسلہ تین سال تک خفیہ رہا۔ بعض مورخین کہتے ہیں کہ عمومی تبلیغ بعثت کے تھوڑے عرصے بعد ہی شروع ہوگئی تھی،
رسولخداؐؐ ابتدامیں صرف خدائےواحد کی پرستش کی دعوت دیتے تھے۔ ابتدا میں نمازیں دو رکعتی تھیں۔ پھر حاضرین پر چار اور مسافرین پر دو رکعت واجب ہوئی،
مدینہ پہنچنے کے بعد آپ 17 مہینوں تک مسجد اقصی کی سمت نماز اداکرتے تھے مگر یہودیوں کی سرزنش کے بعد آپؐ کو کعبے کی طرف نماز ادا کرنے کا حکم ملا،
آپ کی زندگی ہر قسم کی منافقت اور ناپسندیدہ خصوصیات و کیفیات سے خالی تھی۔ آپ لوگوں کے نزدیک صادق اور امین سمجھے جاتے تھے،
منقول ہے کہ ابوجہل نے آپ(ص) سے کہا: ہم آپ کو نہیں جھٹلاتے مگر ان آیات کو نہیں مان سکتے ہیں۔
رسولخداؐؐ کی اعلی ترین اورنمایاں ترین خصوصیت آپ کی اخلاقی خصوصیت تھی۔ خداوندمتعال اس بارے میں ارشاد فرماتا ہے: وَإِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِيمٍ
رسولخداؐؐ کے طرز سلوک کے بیان میں منقول ہے کہ آپ اکثر خاموش رہتے تھے اور ضرورت سے زیادہ نہيں بولتے تھے۔
رسولخداؐ کے طرز زندگی کے بارے میں منقول ہے کہ آپ زیادہ تر تبسم فرماتے تھے اور کبھی بھی اونچی آواز میں (قہقہہ لگاکر) نہيں ہنستے تھے،
رسول اکرم ؐصفائی، نظافت اور خوشبو کو بہت زيادہ پسند کرتے تھے، یہاں تک کہ جب آپ کہیں سے گزرتے تھے تو فضا میں خوشبو پھیل جاتی تھی
رسول اکرم (ص) انتہائی سادہ زندگی گزارتے تھے، زمین پر بیٹھتے تھے اور زمین پر ہی بیٹھ کر کھانا تناول فرمایا کرتے تھے۔
آپ (ص) نے کبھی بھی پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا۔ جب آپ ابتدا میں مدینہ تشریف لائے تھے تو اکثر بھوکے رہنے کو ترجیح دیا کرتے تھے۔
آپ (ص) راہبوں کی طرح زندگی نہيں گزارتے تھے اور فرماتے تھے: میں نے دنیا کی نعمتوں سے فائدہ اٹھایا ہے؛ روزہ بھی رکھا ہے اور عبادت بھی کی ہے
آپ(ص) کی سیرت اور روشِ حیات مسلمانوں کواس قدر پسند تھی کہ وہ آپؐ کی حیات کریمہ کے نہایت چھوٹے چھوٹے واقعات کو سینہ بہ سینہ منتقل کیا کرتے تھے،
رسول اللہ (ص) جب کسی کے ساتھ مصافحہ کرتے تو اس وقت تک اپنا ہاتھ نہیں کھینچتے تھے جب تک کہ دوسرا شخص اپنا ہاتھ نہ کھینچ لیتا
رسولخداؐ لوگوں سے اس قدر مخلصانہ انداز میں ملتے کہ ہر شخص گمان کرتا تھا کہ آپ اس کو بےانتہا پسند فرماتے ہیں اور اس کو دوسروں پر ترجیح دیتےہیں
بعض اوقات مہینوں تک آپ کے گھر میں چولہا نہیں جلا اور سب کا کھانا کھجوروں اور جو کی روٹی تک محدود رہا ۔بارہا آپ کے اقربا راتوں کو بھوکے سوئے
آپ نے اپنے اوقات کو تین حصوں میں تقسیم کیا تھا: ایک حصہ عبادت کے لئے، کچھ وقت اہل خانہ کے لیے اور کچھ وقت اپنے لئے۔
آپ سفر کے دوران بھی اپنے ظاہر پر توجہ دیا کرتے تھے اور پانچ چیزیں ہر وقت آپ کے پاس موجود رہتی تھیں: آئینہ، سرمہ دان، کنگھی، مسواک اور قینچی
رسول خدا (ص): دین کو درپیش آفتیں تین ہیں: بدکار عالم، ظالم راہنما اور نادان مجتہد۔
پیغمبر اکرم (ص): غرباء اور فقراء سے دوستی کرو کیونکہ قیامت کے دن وہ صاحب دولت و حکومت ہوں گے۔
رسولخداؐ: نیکی اور صلہ رحم کا صلہ دوسری نیکیوں سے جلدی ملتا ہے اور ظلم اور رحم منقطع کرنے کی سزا دوسرے گناہوں کی سزا سے جلدی ملتی ہے۔
 
پیغمبر اکرمؐ تندخو معاشرے میں مبعوث ہوئے مگر آپ نے اپنی نرم خوئی کا مظاہرہ کیا۔ تہمتوں کے مقابل میں کبھی آپ نے بددعا نہیں کی بلکہ ہمیشہ ان کے لیے دعا ہی کی۔
رسول خداؐ نے حضرت علیؑ سے فرمایا: میں اللہ کا فرستادہ اور اس کی طرف سے تبلیغ کرنے والا ہوں، تم وجہ اللہ اور مقتدا ہو، تمہارے سوا میرا کوئی نظیر نہیں۔
رسول اکرم (ص): بدترین انسان وہ ہے جو اپنی دنیا کی خاطر آخرت کو بیچ دے اور اس سے بد تر وہ ہے جو دوسرے کی دنیا کی خاطر اپنی آخرت فروخت کردے۔
رسول اکرم (ص): سب سے بڑا ناتوان انسان، دعاؤں سے عاجز انسان ہے اور سب سے بڑا بخیل سلام میں بخل کرنے والا ہے۔
رسول اکرم (ص): جب ایک دوسرے سے ملاقات کرو تو سلام اور مصافحہ کے ساتھ ملاقات کرو، اور جب ایک دوسرے سے جدا ہو تو طلب مغفرت کے ساتھ جدا ہو۔
رسول اکرمؐ: جس نے کسی عالم کی ہمنشینی اختیار کی گویا اس نے میری ہمنیشنی اختیار کی اور جو دنیا می میرا ہم نشین ہوگا میں اخرت میں اس کا ہم نشین ہوں گا۔
رسول اکرمؐ: خدا کمزور اور بے دین مومن کو پسند نہیں کرتا۔ سوال کیا گیا: کمزور اور بےدین مومن کون ہے؟ فرمایا: جو برائیوں سے منع نہیں کرتا۔
رسول اکرمؐ: مجھے تعجب ہے اس شخص پر جو بیماری کے خوف سے خوراک میں تو پرہیز کرتا لیکن آتش جہنم کے خوف سے گناہوں سے گریز نہیں کرتا۔
امام حسنؑ، امام علیؑ اور جناب فاطمہ زہراؑ کے سب سے پہلے بیٹے ہیں۔
آپ کا نام پیغمبر اکرم (ص) نے خدا کی طرف سے رکھا تھا۔
امام حسنؑ کی ولادت نے رسول خدا (ص) کے دامن سے مقطوع النسل ہونے کا دھبہ صاف کردیا اور دنیا کے سامنے سورہ کوثر کی ایک عملی تفسیر پیش کردی۔
منقول ہے کہ خداوند عالم نے فاطمہؑ کے دونوں شہزادوں کانام انظار عالم سے پوشیدہ رکھا تھا یعنی ان سے پہلے کسی کا نام حسن و حسین نہیں رکھا گیا تھا۔
جب امام حسن ؑکی ولادت ہوئی اور آپ سرور کائنات کی خدمت میں لائے گئے تو رسول کریم ؐبےانتہا خوش ہوئے اور ان کے دہن مبارک میں اپنی زبان اقدس دےدی۔
امام حسنؑ کی ولادت کے ساتویں دن سرکار کائنات نے خود اپنے دست مبارک سے آپ کا عقیقہ کیا اور بالوں کو منڈوا کر اس کے ہم وزن چاندی صدقہ دی۔
امام شافعی کا کہنا ہے کہ آنحضرت (ص) نے امام حسن ؑکاعقیقہ کرکے اس کے سنت ہونے کی دائمی بنیاد ڈال دی۔
آپ کے القاب میں طیب، تقی، سبط اور سید زیادہ مشہور ہیں۔ محمدبن طلحہ شافعی کا بیان ہے کہ آپ کو ’’سید‘‘ کا لقب خود سرور کائنات نے عطا کیا تھا۔
امام حسنؑ پیغمبر اسلامؐ کے نواسے تھے لیکن قرآن نے انہیں فرزند رسولؐ کا درجہ دیا ہے اور اپنے دامن میں جابجا آپ کے ذکر کو جگہ دی ہے۔
رسول خداؐ نے امام حسنؑ کے بارے میں فرمایا: ا’’ِبنِی ھٰذا سیّد‘‘ ،’’یہ میرابیٹا سید ہے‘‘
اور دیکھو یہ عنقریب دوبڑے گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا۔
سرور کائنات نے ارشاد فرمایا: حسنؑ اورحسینؑ جوانان جنت کے سردار ہیں اور ان کے والد بزرگوار یعنی علی بن ابی طالب ان دونوں سے بہتر ہیں۔
سنی عالم دین علامہ عسقلانی نے لکھا: امام حسنؑ اور دوسرے بچے برابر نہیں ہوسکتے کیونکہ وہ شیرخوارگی میں بھی لوح محفوظ کا مطالعہ کیا کرتے تھے۔
علامہ مجلسی لکھتے ہیں: امام حسن ؑانتہائی کم سنی کے عالم میں اپنے نانا پر نازل ہونے والی وحی اسی طرح اپنی والدہ ماجدہ کو سنا دیا کرتے تھے۔
امام حسن مجتبیؑ شیعوں کے دوسرے امام  اور چوتھے معصوم ہیں۔ آپ اصحاب کسا میں بھی شامل ہیں۔
امام حسن مجتبی (ع) 37 سال کی عمر میں امامت اور خلافت کے منصب پر فائز ہوئے اور سنہ 41 ہجری کو معاویہ کے ساتھ صلح کی۔
امام حسنؑ کی حکومت کا دور چھ مہینہ تھا۔
صلح کے بعد آپؑ دس سال تک مدینہ میں رہے اور وہیں جام شہادت نوش کیا اور بقیع میں سپرد خاک کئے گئے۔
آپ مباہلہ جیسے بہت سے واقعات میں رسولخداؐ کے ہمراہ تھے۔
آپ حدیث کساء اور آیت تطہیر کے مصادیق میں سے ہیں۔ یہ آیت آپؑ کی عصمت پربھی دلالت کرتی ہے۔
امام علی (ع) نے جنگ صفین میں اپنے بیٹوں کی جنگ دیکھنے کے بعد کہا: میرے بیٹوں کو جنگ سے باز رکھو، مبادا رسول اللہ (ص) کی نسل منقطع ہوجائے۔
 
امام حسن (ع): عقل کے ذریعے دنیا و آخرت کو حاصل کیا جاسکتا ہے اور جن کے پاس عقل کا فقدان ہے وہ دنیا اور آخرت کی بھلائی سے محروم ہیں۔
امام حسنؑ نے جنگ جمل میں اپنے والد کے حکم پر عمار یاسر کے ساتھ کوفے سے بارہ ہزار کی تعداد میں لوگوں کو جمع کیا۔
امام حسنؑ نے جنگ جمل اور صفین میں سپاہ اسلام کی کامیابی کے لیے بے پناہ کوششیں کیں۔
امام حسنؑ کا خدا سے رابطہ اس قدر مضبوط تھا کہ جب آپ وضو کرتے تھے تو خوف خدا سے آپ کا رنگ متغیر ہوجاتا تھا۔
امام صادقؑ فرماتے ہیں: امام حسنؑ اپنے زمانے کے عابدترین اور زاہدترین انسان تھے۔
 جب بھی وہ موت اور قیامت کو یاد کرتے تو رو رو کر بےحال ہوجاتے۔
امام حسن علیہ السلام نے اپنی زندگی میں دو بار اپنی تمام ملکیت اور تین بار اپنی آدھی ملکیت کو راہ خدا میں بخش دیا تھا۔
ایک بار امام حسنؑ کو کچھ فقیروں نے اپنے دسترخوان پر مدعو کیا تو آپ ان کے ساتھ بیٹھ گئے اور فرمایا: خدا متکبرین کو پسند نہیں کرتا ہے۔
رسول خدا (ص) نے امام حسنؑ اور امام حسین ؑکے بارے میں فرمایا کہ حسنؑ اور حسینؑ دونوں امام ہیں چاہے یہ قیام کریں یا بیٹھ جائیں اور صلح کریں۔
امام علیؑ نے آخری ایام میں امام حسنؑ سے کہا: رسول خدا (ص) کے حکم سے میں تمہیں اپنا وصی بنارہا ہوں اور اپنی کتاب اور اسلحے تمہارے حوالے کررہاہوں۔
امام حسنؑ: حق اور باطل کے درمیان چار انگلیوں کا فاصلہ ہے، جو اپنی آنکھوں سے دیکھو وہ حق ہے اور جو اپنے کانوں سے سنتے ہو کبھی وہ باطل ہوتا ہے۔
امام حسن ؑسے پوچھا گیا: زہد کیا ہے؟ فرمایا: تقویٰ سے رغبت اور دنیا سے بیزاری۔
امام حسنؑ: خلیفہ وہ ہے جو رسول خداؐ کی سیرت پر چلے اور اطاعت خدا کے مطابق عمل کرے اور اپنی جان کی قسم ہم اہلبیت ہدایت اور پرہیزکاری کے چراغ ہیں۔
امام حسن (ع) سے پوچھا گیا: کرم کسے کہتے ہیں؟ فرمایا: سوال کرنے سے پہلے عطا کرنا اور ضرورت کے وقت کھانا کھلانا۔
امام حسنؑ: جو بھی اپنے بھائی سے ملاقات کرے اسے اس کی پیشانی کے نور (یعنی سجدہ کے نشانات) کو چومنا چاہئے۔
امام حسنؑ: اپنی دنیا کے لیے ایسے کام کرو جیسے ہمیشہ رہنا ہے اور آخرت کے لیے ایسے کام کرو جیسے کل ہی مرجانا ہے۔
امام حسن (ع): لوگوں کو اپنا علم سکھاؤ اور دوسروں کے علم سے بھی کچھ حاصل کرو۔
امام حسنؑ: بےشک علیؑ ایمان کا دروازہ ہیں، جو اس میں داخل ہوگا وہ مومن ہوگا اور جو اس سے نکل جائے گا وہ کافر ہوگا۔
امام حسن مجتبیٰ (ع): جو خدا کی عبادت کرے گا خدا ہر چیز کو اس کا مطیع اور فرمانبردار بنادیگا۔
امام حسنؑ: ہم دونوں رسولخداؐ کے دو پھول ہیں اور جوانان جنت کے سردار ہیں خدا کی لعنت ہو اس پر جو ہم پر سبقت کرے یا کسی کو ہم پر فوقیت دے۔
امام حسنؑ: بے شک ہماری محبت بنی آدم سے گناہوں کو اسی طرح گرادیتی ہے جس طرح ہوا کا جھونکا درخت سے (سوکھے )پتوں کو گرادیتا ہے
امام حسن مجتبیؑ: بےشک اس قرآن میں ہدایت کی روشنی کے چراغ اور دلوں کی شفا ہے۔
امام حسنؑ: جو علماء کی ہمنشینی میں زیادہ رہے گا اس کے ذہن کی گرہیں کھل جائیں گی۔
 وہ اپنی معلومات کا ولی ہوگا اور اپنی معلومات سے لوگوں کو فائدہ پہنچائیگا،
امام حسن مجتبیؑٓ: بخل یہ ہے کہ انسان جو انفاق کرے اسے تلف سمجھے اور جسے بچا لے اسے شرف سمجھے۔

دوروں کی تعداد : 1087

 
امتیاز دهی
 
 

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر

اس بارے میں پڑہیں:
احادیث رضوی كے آیئنہ میں امام مہدی (عج)
  • 2018.11.13 вторник احادیث رضوی كے آیئنہ میں امام مہدی (عج)
    روز اول سے پیغمبر اكرم صلی اللہ علیہ و آلہ اور ان كے برحق معصوم جانشین ائمہ اہل بیت علیہم السلام امام مہدی (عج) اور ان كے ذریعہ سارے جہان پر اسلام كے غلبے والے مسئلہ پر خصوصی عنایت ركھتے تھے اور چاہتے تھے كہ اپنے پیروكاروں كو بھی اس اہم موضوع سے بھی صحیح طریقے سے باخبر كریں۔
    قرآن و عترت
صلحِ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے اَسباب
  • 2018.11.6 вторник صلحِ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے اَسباب
    باہمی تصفیہ اور رفعِ خصومت کرتے ہوئے دو متخاصم اور متحارب گروہوں میں نئے سرے سے دوستی، اتحاد، میل ملاپ اور امن و امان کے معاہدےکو ’’صُلح‘‘ کہتے ہیں۔ عالَم طبیعت میں پائیداری اور جاودانگی کی بنیاد ’’صلح‘‘ ہے، کیونکہ امن و امان کے قیام سے ہی حق و حقیقت کا بول بالا اور مادی و معنوی ترقی ممکن ہوتی ہے
    زندگی اور معارفِ اہلبیؑت
امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے اقوال
امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام جُود و سخا کے پیکر
  • 2018.5.30 среда امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام جُود و سخا کے پیکر
    سخاوت ایک ایسی صفت ہے جس سے متصف ہونا ہر ایک کے بساط میں نہیں ہے، کیونکہ مالِ دنیا انسان کے اندر قارون مزاجی پیدا کر دیتا ہے۔ صِرف وہی لوگ اِس الٰہی صفت کے مالک بن سکتے ہیں جن کے اندر مالِ دنیا کے پاؤں تلے روندنے کا جذبہ پایا جاتا ہو۔
    اردو
منتخب حدیثیں (اقوال زرین)
[Part_khabar]

امام رضا علیہ السلام کی ملکوتی بارگاہ ایک ایسا دروازہ ہے جوخدا کی طرف کھلتا ہے۔ یہ ملکوتی بارگاہ ہر اس شخص کے لئے پناہ گاہ ہے جو رازونیاز کرنے کے لئےاس کی طرف دوڑا چلا آتا ہے، امام علی ابن موسیٰ الرضا علیہ السلام نے اپنی آغوش رحمت کو اپنے چاہنے والوں کے لئے پھیلا رکھاہے اور توس کی سرزمین پر اپنے وجود کی خوشبوسے اپنے زائرین اور مجاورین کی روح اور جان کو محبت اور رأفت سے نوازتے ہیں۔ لیکن ایسے آسمانی اور ملکوتی گوھر کا مہمان اور میزبان ہونا بھی کوئی آسان کام نہیں ہے ۔اور ایک ایسی فضا اورماحول کو جو امام ھمام کی شأن و منزلت کے مطابق ہو ایجاد کرنے کے لئے مسئولیت کا قبول کرناایک مھم اور مشکل کام ہے ۔ اس مھم کام کی ذمہ داری ادارہ ’’آستان قدس رضوی‘‘ کے اوپر ہے۔ ’’آستان قدس رضوی‘‘ رسمی طور پر ایک ایسے مجموعہ ہے جو حرم امام رضا علیہ السلام  اور اس کی موقوفات اور جتنے بھی اس کے متعلقات ہیں ان کی سرپرستی اور مدیریت کرتا ہے۔ یہ ادارہ اپنی تمام تر تلاش کو بہ روئے کار لاتے ہوئے امام رضا علیہ السلام کے زائرین اور مجاورین کی ضروریات کو نذورات اور زائرین کی موقوفات پر تکیہ کرتے ہوئے پوری کرتا ہے۔ حریم مقدس حرم کی نوسازی ومرمّت  اور اس کی حفاظت اور زائرین کی میزبانی کے لئےمتبرک مقامات کی آمادہ سازی، معرفت اور آسانی سے زیارت کرنے کے لئے مختلف امکانات کا مھیا کرنا، زائرین کی راھنمائی اور۔۔۔ یہ چند ایک آستان قدس رضوی کی ایسی خدمات ہیں جن کو پہلی نگاہ میں مشاھدہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن آستان قدس رضوی کی فعالیتوں کی حد و حدود ،حرم مطہر کے وسیع وعریض ابعاد سے بھی فراتر ہے۔ میوزیم، لائبریریز، یونیورسٹیاں اور مدارس، میڈیکل سینٹر اور ہسپٹلز اور انڈسٹریز سینٹرز،آستان قدس رضوی کی چند ایک دوسری فعالیتیں ہیں۔ اس ادارے کے مھم اھداف سےمزید آشنا ہونے کے لئے آپ آستان قدس رضوی کی بیس سالہ کی گئی پلاننگ کے مجوزات کو دیکھ سکتے ہیں۔