روضہ منوره حضرت امام علی رضاؑ کی ویب سائٹ

1397/9/29 پنجشنبه

امام جعفر صادق علیہ السلام کا ایک مناظرہ

.
امام جعفر صادق علیہ السلام کا ایک مناظرہ

امام جعفر صادق علیہ السلام کا ایک مناظرہ

حجۃ الاسلام مولانا سید نجم الحسن صاحب کراروی طاب ثراہ

          حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے بے شمار علمی مناظرے فرمائے ہیں۔آپ نے دہریوں ، قدریوں، کافروں ، یہود و نصاریٰ کو ہمیشہ شکست  فاش دی ہے۔ کسی ایک مناظرہ میں بھی آپ پر کوئی غلبہ حاصل نہیں کرسکا۔ عہدِ عبد الملک ابن مروان کا ذکر ہے کہ  ایک قدریہ مذہب کا مناظر اس کے دربار میں آکر علماء سے مناظرہ کا خواہش مند ہوا۔ بادشاہ نے حسبِ عادت اپنے علماء کو طلب کیا اور ان سے کہا کہ اس قدریہ مناظر سے مناظرہ کرو۔ علماء نے اس سے کافی زور آزمائی کی مگر وہ میدان مناظرہ کا کھلاڑی ان سے نہ ہارسکااور تمام علماء عاجز آگئے۔ اسلام کی شکست ہوتے ہوئے دیکھ کر عبد الملک ابن مروان نے فوراً ایک خط حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی خدمت میں مدینہ روانہ کیا۔ اور اس میں تاکید کی کہ آپ ضرور تشریف لائیں۔ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی خدمت میں جب اس کا خط پہنچا تو آپ نے اپنے فرزند حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے فرمایا کہ بیٹا میں ضعیف ہوچکا ہوں تم مناظرہ کے لئے شام چلے جاؤ۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام اپنے پدر بزرگوار کے حسب الحکم مدینہ سے روانہ ہوکر شام پہنچ گئے۔

          عبد الملک ابن مروان نے جب امام محمدباقر علیہ السلام کے بجائے امام جعفر صادق علیہ السلام کو دیکھا تو کہنے لگا کہ آپ ابھی کمسن ہیں اور وہ بڑا پرانا مناظر ہے،ہوسکتا ہے کہ آپ بھی اور علماء کی طرح شکست کھاجائیں۔ اس لئے مناسب نہیں کہ مجلس مناظرہ پھر منعقد کی جائے۔ حضرتؑ نے فرمایا:بادشاہ تو گھبرا نہیں۔ اگر خدا نے چاہا تو میں صرف چند منٹ میں مناظرہ ختم کردوں گا۔ آپ کے ارشاد کی تائید درباریوں نے بھی کی اور موقعہ مناظرہ پر فریقین آگئے۔

          چونکہ قدریوں کا اعتقاد ہے کہ بندہ ہی سب کچھ ہے، خدا کو بندوں کے معاملہ میں کوئی دخل نہیں، اور نہ خدا کچھ کرسکتا ہے۔ یعنی خدا کے حکم اور قضا و قدر اور ارادہ کو بندوں کے کسی امر میں دخل نہیں۔لہٰذا حضرت نے اس کی پہل کرنے کی خواہش پر فرمایاکہ میں تم سے صرف ایک بات کہنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ تم"سورۂ حمد" پڑھو، اس نے پڑھنا شروع کیا۔ جب وہ"ایاک نعبد و ایاک نستعین" پر پہنچا جس کا ترجمہ یہ ہے کہ "میں صرف تیری ہی عبادت کرتا ہوں اور بس تجھ ہی سے مدد چاہتا ہوں" تو آپؑ نے فرمایا: ٹھہر جاؤ اور مجھے اس کا جواب دو کہ جب خدا کو تمہارے اعتقاد کے مطابق تمہارے کسی معاملہ میں دخل دینے کا حق نہیں تو پھر تم اس سے مدد کیوں مانگتے ہو؟ یہ سن کر وہ خاموش ہوگیا اور کوئی جواب نہ دے سکا۔ بالآخر مجلس مناظرہ برخاست ہوگئی اور بادشاہ بے حد خوش ہوا۔(تفسیر برہان،ج؍۱،ص؍۳۳؛چودہ ستارے)

دوروں کی تعداد : 38

 
امتیاز دهی
 
 

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر

اس بارے میں پڑہیں:
منّ و سلویٰ
  • 2018.12.22 суббота منّ و سلویٰ
    مجھے امید ہے کہ آپ نے قرآن مجید میں من و سلویٰ کے بارے میں پڑھا ہوگا یا پھر علماء سے سنا ہوگا۔ اگر نہیں تو کوئی بات نہیں ہم آپ کو من وسلویٰ کے بارے میں بتاتے ہیں۔
    قرآن و عترت
امام جعفر صادق علیہ السلام کا ایک مناظرہ
منافرت – یہودی ہتھکنڈہ
  • 2018.11.21 среда منافرت – یہودی ہتھکنڈہ
    تاریخی حقائِق سے معلوم ہوتا ہے کہ آپس میں اختلاف پیدا کرنا یہود و نصاریٰ کا پرانا طریقہ ہے کہ یہودی جناب موسیٰؑ کے بعد فرقوں میں بٹ گئے اور عیسا ئی جناب عیسیٰؑ کے بعد فرقوں میں ! قیامت یہ ہے کہ مسلمان، اتنی ہدایتوں کے باوجود حصوں میں تقسیم ہو کر رہ گئے جس کا سبب یہی ہے کہ مسلمان تو ضرور ہیں لیکن صحیح معنوں میں اسلام و تسلیم کو سمجھے ہی نہیں
    ادیان و مذاهب
امام  رضاؑ کا  منکر خدا سے مناظرہ
  • 2016.7.9 суббота امام رضاؑ کا منکر خدا سے مناظرہ
    اگر تو حق پر ہے (جب کہ ایسا نہیں ہے)تو اس صوت میں ہم اور تم دونوں برابر ہیں اور نماز، روزہ،حج،زکات اور ہمارا ایمان ہمیں کسی طرح کا کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا اور اگر ہم حق پر ہیں(جب کہ ایسا ہی ہے ) تو اس صورت میں ہم کامیاب ہیں اور تو گھاٹے میں ہے اور اس طرح تو ہلاکت میں ہوگا“۔۔۔
حدیث فرقہ ناجیہ اور مسلمانوں کی تکفیر میں اس کا کردار
[Part_khabar]

امام رضا علیہ السلام کی ملکوتی بارگاہ ایک ایسا دروازہ ہے جوخدا کی طرف کھلتا ہے۔ یہ ملکوتی بارگاہ ہر اس شخص کے لئے پناہ گاہ ہے جو رازونیاز کرنے کے لئےاس کی طرف دوڑا چلا آتا ہے، امام علی ابن موسیٰ الرضا علیہ السلام نے اپنی آغوش رحمت کو اپنے چاہنے والوں کے لئے پھیلا رکھاہے اور توس کی سرزمین پر اپنے وجود کی خوشبوسے اپنے زائرین اور مجاورین کی روح اور جان کو محبت اور رأفت سے نوازتے ہیں۔ لیکن ایسے آسمانی اور ملکوتی گوھر کا مہمان اور میزبان ہونا بھی کوئی آسان کام نہیں ہے ۔اور ایک ایسی فضا اورماحول کو جو امام ھمام کی شأن و منزلت کے مطابق ہو ایجاد کرنے کے لئے مسئولیت کا قبول کرناایک مھم اور مشکل کام ہے ۔ اس مھم کام کی ذمہ داری ادارہ ’’آستان قدس رضوی‘‘ کے اوپر ہے۔ ’’آستان قدس رضوی‘‘ رسمی طور پر ایک ایسے مجموعہ ہے جو حرم امام رضا علیہ السلام  اور اس کی موقوفات اور جتنے بھی اس کے متعلقات ہیں ان کی سرپرستی اور مدیریت کرتا ہے۔ یہ ادارہ اپنی تمام تر تلاش کو بہ روئے کار لاتے ہوئے امام رضا علیہ السلام کے زائرین اور مجاورین کی ضروریات کو نذورات اور زائرین کی موقوفات پر تکیہ کرتے ہوئے پوری کرتا ہے۔ حریم مقدس حرم کی نوسازی ومرمّت  اور اس کی حفاظت اور زائرین کی میزبانی کے لئےمتبرک مقامات کی آمادہ سازی، معرفت اور آسانی سے زیارت کرنے کے لئے مختلف امکانات کا مھیا کرنا، زائرین کی راھنمائی اور۔۔۔ یہ چند ایک آستان قدس رضوی کی ایسی خدمات ہیں جن کو پہلی نگاہ میں مشاھدہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن آستان قدس رضوی کی فعالیتوں کی حد و حدود ،حرم مطہر کے وسیع وعریض ابعاد سے بھی فراتر ہے۔ میوزیم، لائبریریز، یونیورسٹیاں اور مدارس، میڈیکل سینٹر اور ہسپٹلز اور انڈسٹریز سینٹرز،آستان قدس رضوی کی چند ایک دوسری فعالیتیں ہیں۔ اس ادارے کے مھم اھداف سےمزید آشنا ہونے کے لئے آپ آستان قدس رضوی کی بیس سالہ کی گئی پلاننگ کے مجوزات کو دیکھ سکتے ہیں۔