روضہ منوره حضرت امام علی رضاؑ کی ویب سائٹ

1397/9/29 پنجشنبه

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر

.
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر

مولوی محمد مہدی صاحب

متعلم جامعہ امامیہ انوار العلوم،الٰہ آباد

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر شریعت اسلامی کے اہم ترین واجبات میں سے ہیں۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اس کا تذکرہ ملتا ہے۔خداوند عالم نے اکثر مقامات پر اسے مومنین کی صفت قرار دیا ہے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے معاشرہ کی اصلاح ہوتی ہے اس طرح ایک معاشرہ دوسرے معاشرہ کے لئے آئیڈیل(نمونہ) بن جاتا ہے۔

تمام انبیاء و رسول اور ائمہ علیہم السلام کی بعثت کا مقصد ہی یہی تھا کہ وہ لوگوں کو نیکیوں کا حکم دیتے تھے اور برائیوں سے روکتے تھے منع فرماتے تھے۔انبیاءوآئمہ بشیر و نذیر تھے۔اس کا مطلب تھا کہ وہ پہلے امر و نہی کرتے تھے پھر اس کے نتیجہ کے طور پر بشارت دیتے تھے اور ڈراتے تھے۔

امر ونہی مومنین ومومنات کی صفت

          قرآن مجید میں خداوند عالم کا ارشاد ہے کہ:مومنین و مومنات آپس میں ایک دوسرے کے ولی و مددگار ہیں(یہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے ہیں نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ عنقریب خدا ان سب پر رحمت کرے گا کہ بے شک اللہ ہر شئ پر غالب اور صاحب حکمت ہے۔(سورۂ توبہ؍۷۱)

          اسی طرح منافقین مرد و عورت بھی ہیں جو اس کے بر خلاف عمل کرتے ہیں قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے کہ: منافق مرد وعورت آپس میں سب ایک دوسرے سے ہیں۔ یہ سب برائیوں کا حکم دیتے ہیں اور اچھائیوں سے روکتے ہیں اور اپنے ہاتھوں کو راہِ خدا میں خرچ کرنے سے روکے رہتے ہیں۔ انہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے ابھی انہیں نظر انداز کردیا۔بے شک منافقین ہی اصل میں فاسق ہیں۔(سورۂ توبہ؍۶۷)

          اب جس میں بھی یہ صفات رذیلہ موجود ہوں گے وہ منافقین کے زمرے میں شامل ہیں۔ اب جو شخص یہ دیکھے کہ نیکیوں کو ترک کیا جارہا ہے اور برائیوں کو انجام دیا جارہا ہے اور یہ شخص امرونہی نہ کرے تو وہ بھی منافقین میں شامل ہوسکتا ہے۔

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فوائد

  • اس طرح نیکیاں پھیل جاتی ہیں اور برائیوں کا سدباب ہوجاتا ہے جو ایک شریف اور صالح معاشرہ کی پہچان ہے۔(فروع دین،ص؍۱۵۶)
  • اس کام سے نیک انسانوں کو حوصلہ ملتا ہے اور برے لوگوں کو اپنی برائیوں کا احساس پیدا ہوتا ہے جو نیکیوں کے رواج اور برائیوں کے انسداد کا بہترین ذریعہ ہے۔(فروع دین،ص؍۱۵۷)
  • امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے سے انسان اولیاء اللہ اور بندگان صالح کی صفوں میں شامل ہوجاتا ہے۔

اہمیت امربالمعروف اور نہی عن المنکر

معصومین علیہم السلام کی حدیثوں میں اس طرح وارد ہوا ہے کہ:

  • امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اہم ترین اور شریف ترین واجبات میں سے ہے۔
  • واجبات دینی"امر بالمعروف اور نہی عن المنکر"کی وجہ سے(ذریعہ سے) قائم ہیں۔
  • امربالمعروف اور نہی عن المنکر ضروریات دین میں سے ہے اور جو اس کا منکر ہوجائے وہ کافر ہے۔
  • اگر لوگ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا چھوڑدیں تو برکت چھین لی جائے گی اور دعائیں مستجاب(قبول) نہ ہوں گی۔(آموزش احکام،ص؍۲۰۲،۲۰۳،بحوالہ وسائل الشیعہ،ج؍۱۱،ص؍۳۹۴،۳۹۵)
  • خود سالار حریت حضرت سید الشہداءعلیہ السلام نے اپنے عظیم قیام کا مقصد امربالمعروف اور نہی عن المنکر اور امت رسولؐ کی اصلاح قرار دے کر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو تمام احکام الٰہی پر برتری اور فوقیت عطا فرمادی۔

امامؑ فرماتے ہیں:وانی لم اخرج اشرا ولا بطرا ولا مفسدا ولا ظالما وانما خرجت لطلب الاصلاح فی امة جدی ارید ان امر بالمعروف وانهی عن المنکر...الخ.(بحارالانوار،ج؍۴۴،ص؍۳۲۹)

میرا اس سفر پر نکلنا سرکشی اور تکبر اور زندگی کے راحت وآرام کے لئے نہیں ہے میں فساد یا ظلم کے لئے نہیں نکل رہا ہوں بلکہ میرا مقصد اپنے جد کی امت کی اصلاح ہے۔میرا ارادہ ہے کہ میں امربالمعروف اور نہی عن المنکر کروں ...الخ۔

تعریف معروف ومنکر

          احکام دین میں تمام واجبات و مستحبات کو"معروف"اور تمام محرمات ومکروہات کو"منکر" کہا جاتا ہے اس بنا پر معاشرہ کے افراد کو واجبات و مستحبات کی دعوت دینا"امربالمعروف" اور محرمات ومکروہات سے باز رکھنا نہی عن المنکر کہلاتا ہے۔(آموزش احکام،ص؍۲۰۳)

شرائط وآداب امر ونہی

مناسب ہے کہ جو شخص امربالمعروف اور نہی عن المنکر کرے وہ:

  • دلسوز ڈاکٹر اورمہربان باپ کی طرح ہو۔
  • اپنے قصد کو خالص کرے اور فقط رضائے خداوندی کے لئے اقدام کرے۔
  • اپنے آپ کو پاکیزہ ومنزہ نہ سمجھے بلکہ اپنے اندر بھی ایسے صفات پیدا کرے جو مورد محبت الٰہی ہو۔(آموزش احکام،ص؍۲۰۵)
  • پہلے خود بھی عمل کرے پھر دوسروں کو امرونہی کرے۔

کیونکہ خداوند کریم کا ارشاد ہے:یا ایها الذین آمنوا لم تقولون مالا تفعلون۔(سورۂ صف؍۲)

ترجمہ: اے صاحبان ایمان آخر وہ کیوں کہتے ہو جس پر خود عمل نہیں کرتے۔

حدیث قدسی میں ارشاد ہوتا ہے کہ:ولم تامرون بما لا تعملون(توریت سورہ نمبر ۱۵)

ترجمہ:اس بات کا کیوں حکم دیتے ہو جس پر خود بھی عمل نہیں کرتے۔

حدیث قدسی ہی میں ایک جگہ اور ارشاد ہوتا ہے کہ: یابن آدم لم تکن ممن یامر بالخیر ولا یفعله و ینهی عن الشر ولا ینهی عنه.(توریت سورہ۵)

اے فرزند آدم! ان لوگوں میں سے نہ ہوجانا ۔۔۔ جو(دوسروں  کو) نیکیوں کا حکم دیتے ہیں اور خود عمل نہیں کرتے اوربرائیوں سے منع کرتے ہیں اور خود نہیں چھوڑتے۔

نجات یافتہ(کامیاب) لوگ: سورۂ آل عمران کی آیت۱۰۴ میں ارشاد ہوتا ہے کہ:اورتم میں سے ایک گروہ ہونا چاہیئے جو خیر کی دعوت دے۔نیکیوں کا حکم دے اور برائیوں سے روکے اور یہی لوگ نجات یافتہ ہیں۔

بہترین امت:خداوند عالم نے ہمیں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی بنا پربہترین امت قراردیا ہے۔

کنتم خیر امة اخرجت للناس تامرون بالمعروف و تنهون عن المنکر و تومنون بالله(آل عمران؍۱۱۰)

تم بہترین امت ہو لوگوں کے لئے منظر عام پر لایا گیا ہے۔ تم لوگوں کو نیکیوں کا حکم دیتے ہو اور برائیوں سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔

پروردگار عالم نے امت اسلامیہ کو بہترین امت بنا کر پیدا کیا ہے لیکن اس کی بہتری کی تین علامتیں قراردی ہیں۔

(۱)لوگوں کے فائدے کے لئے کام کرے۔  (۲)نیکیوں کا حکم دے۔       (۳)برائیوں سے روکے۔

اب اگر ایسا نہیں ہے تو امت، خیر امت کہے جانے کے قابل نہیں ہے اور جو بھی اس قانون پر جس قدر شدت سے عمل پیرا ہوگا وہ اسی قدر خیر اور بہترین کا حامل ہوگا۔اسی لئے بعض روایات میں آئمہ معصومین علیہم السلام کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ ان کی تمام تر زندگی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں بسر ہوئی ہے یہاں تک کہ قاتلوں کو بھی نیکی کا حکم دیا ہے اور قریب ترین دوستوں کو بھی برائیوں سے روکا ہے۔(تفسیر قرآن علامہ جوادی،ص؍۱۶۱)

امر ونہی کرنے والے زخمی چیتے کی طرح ہیں:

          جناب موسیٰ علیہ السلام اپنی ایک مناجات میں خداوند عالم سے سوال کرتے ہیں کہ:خداوندا وہ تیرے کون سے محبوب ہیں جن کو تو اپنے اس روز عرش کے سایہ میں لے لے گا جس روز تیرے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا۔خداوند عالم جواب دیتا ہے:وہ لوگ جو جب دیکھتے ہیں کہ میرے محرمات کو حلال کیا جارہا ہے تو زخمی چیتے کی طرح بپھر جاتے ہیں۔ (بحارالانوار، ج؍۱۳، باب؍۱۱،ح؍۴۲)

          یعنی جو لوگ محرمات خدا کو حلال ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں اور امرونہی کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں وہ زخمی چیتے کی طرح ہیں۔کیونکہ ان کے اندر شریعتِ خداوندی ، قانون ِخداوندی کی تڑپ ہے ایسے ہی لوگ روزقیامت محشر کی دھوپ میں جب کوئی سایہ نہ ہوگا تو سایہ الٰہی میں پناہ لیں گے۔

احادیث مبارکہ

  • جب میری امت کے لوگ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ کو ایک دوسرے کے کاندھوں پر ڈالنے لگیں تو(گویا)ان کو خدا سے جنگ کا اعلان کردینا چاہیئے۔(وسائل الشیعہ،ج؍۱۶،باب؍۱۰)
  • حضرت امیر المومنین علیہ السلام،حضرت پیغمبرؐ نے ایک حدیث کے ضمن میں فرمایا کہ جو شخص امرونہی کرے یا خیر ونیکی کی طرف رہنمائی کرے یا صرف نیکی کی طرف اشارہ کرے تو وہ بھی ثواب میں برابر کا شریک ہے۔(خصائل شیخ صدوق،ج؍۱،ص؍۱۵۲)
  • حضرت امام رضا علیہ السلام:"امربالمعروف اور نہی عن المنکر کرو ورنہ فاسق وفاجر اور شریر لوگ تم پر مسلط ہوجائیں گے۔ پھر تمہاری(نیک لوگوں کی) دعائیں بھی قبول نہ ہوں گی۔"(وسائل الشیعہ،ج؍۱۶،باب؍۱۰)
  • حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام:امام نے شیخ صدوقؒ کے والد کے نام ایک خط میں احکام دین اور اخلاقیات پر عمل کرنے کے ساتھ فرمایا کہ میں نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے اور تمام بے حیائیوں سے پرہیز کرنے کی نصیحت کرتا ہوں۔(بحارالانوار،ج؍۵۰)

دوروں کی تعداد : 43

 
امتیاز دهی
 
 

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر

اس بارے میں پڑہیں:
زبان
  • 2018.12.23 воскресенье زبان
    انسان کے جسم میں بعض اعضاء بڑے ہیں اور بعض ان کے مقابلے میں چھوٹے ہیں لیکن ہر ایک اپنی جگہ پہ ایک الگ اہمیت کا حامل ہے، انہیں اعضاء میں سے ایک عضو زبان ہے،
    قرآن و عترت
حضرت علی علیہ السلام اور دنیا
مسجد اسلام کا مضبوط قلعہ
منّ و سلویٰ
  • 2018.12.22 суббота منّ و سلویٰ
    مجھے امید ہے کہ آپ نے قرآن مجید میں من و سلویٰ کے بارے میں پڑھا ہوگا یا پھر علماء سے سنا ہوگا۔ اگر نہیں تو کوئی بات نہیں ہم آپ کو من وسلویٰ کے بارے میں بتاتے ہیں۔
    قرآن و عترت
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر
[Part_khabar]

امام رضا علیہ السلام کی ملکوتی بارگاہ ایک ایسا دروازہ ہے جوخدا کی طرف کھلتا ہے۔ یہ ملکوتی بارگاہ ہر اس شخص کے لئے پناہ گاہ ہے جو رازونیاز کرنے کے لئےاس کی طرف دوڑا چلا آتا ہے، امام علی ابن موسیٰ الرضا علیہ السلام نے اپنی آغوش رحمت کو اپنے چاہنے والوں کے لئے پھیلا رکھاہے اور توس کی سرزمین پر اپنے وجود کی خوشبوسے اپنے زائرین اور مجاورین کی روح اور جان کو محبت اور رأفت سے نوازتے ہیں۔ لیکن ایسے آسمانی اور ملکوتی گوھر کا مہمان اور میزبان ہونا بھی کوئی آسان کام نہیں ہے ۔اور ایک ایسی فضا اورماحول کو جو امام ھمام کی شأن و منزلت کے مطابق ہو ایجاد کرنے کے لئے مسئولیت کا قبول کرناایک مھم اور مشکل کام ہے ۔ اس مھم کام کی ذمہ داری ادارہ ’’آستان قدس رضوی‘‘ کے اوپر ہے۔ ’’آستان قدس رضوی‘‘ رسمی طور پر ایک ایسے مجموعہ ہے جو حرم امام رضا علیہ السلام  اور اس کی موقوفات اور جتنے بھی اس کے متعلقات ہیں ان کی سرپرستی اور مدیریت کرتا ہے۔ یہ ادارہ اپنی تمام تر تلاش کو بہ روئے کار لاتے ہوئے امام رضا علیہ السلام کے زائرین اور مجاورین کی ضروریات کو نذورات اور زائرین کی موقوفات پر تکیہ کرتے ہوئے پوری کرتا ہے۔ حریم مقدس حرم کی نوسازی ومرمّت  اور اس کی حفاظت اور زائرین کی میزبانی کے لئےمتبرک مقامات کی آمادہ سازی، معرفت اور آسانی سے زیارت کرنے کے لئے مختلف امکانات کا مھیا کرنا، زائرین کی راھنمائی اور۔۔۔ یہ چند ایک آستان قدس رضوی کی ایسی خدمات ہیں جن کو پہلی نگاہ میں مشاھدہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن آستان قدس رضوی کی فعالیتوں کی حد و حدود ،حرم مطہر کے وسیع وعریض ابعاد سے بھی فراتر ہے۔ میوزیم، لائبریریز، یونیورسٹیاں اور مدارس، میڈیکل سینٹر اور ہسپٹلز اور انڈسٹریز سینٹرز،آستان قدس رضوی کی چند ایک دوسری فعالیتیں ہیں۔ اس ادارے کے مھم اھداف سےمزید آشنا ہونے کے لئے آپ آستان قدس رضوی کی بیس سالہ کی گئی پلاننگ کے مجوزات کو دیکھ سکتے ہیں۔