روضہ منوره حضرت امام علی رضاؑ کی ویب سائٹ

1397/10/2 يكشنبه

زبان

.
زبان

زبان

حجۃ الاسلام مولانا سید ظفر عباس ، قم المقدسہ

انسان کے جسم میں جتنے بھی اعضاء و جوارح ہیں ان میں سے ہر ایک اپنی جگہ پہ ایک خاص اہمیت کا حامل ہے،اور ان میں سے کسی ایک کے بارے میں یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ اس سے زیادہ اہم ہے۔ اس لئے کہ جب سارے اعضاء صحیح و سالم رہتے ہیں تو ان کی اہمیت کا اندازہ نہیں ہوتا، لیکن جیسے ہی ذرا سا کچھ ہوتا ہے فوراً اہمیت کا اندازہ ہونے لگتا ہے۔اور اس چیز کا اندازہ اس کو شاید کم ہو،جس کے سارے اعضاء صحیح وسالم ہوں،لیکن جس کے بعض اعضاء و جوارح سالم نہ ہوں یا اصلا نہ ہوں،تو اس سے بہتر کوئی اور اس کی اہمیت کونہیں سمجھ سکتا،آنکھ کتنی عظیم نعمت کا نام ہے،یہ وہ بہتر سمجھے گا جس کی آنکھ میں کوئی مشکل ہو،یا اسی  طریقہ سے ہاتھ جیسی نعمت، پیر جیسی نعمت،کان جیسی نعمت وغیرہ جب تک سالم  رہتی ہے، اہمیت کا اندازہ نہیں ہوتا، انسان کے جسم میں بعض اعضاء بڑے ہیں اور بعض ان کے مقابلے میں چھوٹے ہیں لیکن ہر ایک اپنی جگہ پہ ایک الگ اہمیت کا حامل ہے، انہیں اعضاء میں سے ایک عضو زبان ہے، جو ظاہراً دیکھنے میں بہت بڑی نہیں ہے، لیکن پورے جسم انسانی میں زبان کا ایک الگ اور منفرد کردار ہے، زبان کی اہمیت کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہ جب چاہے لوگوں کو ایک کردے اور جب چاہے الگ۔ اپنے کو پرایا بنادے اور پرائے کو اپنا۔جب چاہے کسی گھر کو آباد کردے، اور جب چاہے ویران۔ جب چاہے جس کو آسمان پہ پہنچا دے اور جب چاہے زمین پہ،اگر کسی کی تعریف کرنے پہ آجائے تو اس سے اچھا کوئی نہیں اور اگر کسی کی برائی کرنے پہ آجائے تو اس سے برا کوئی نہیں، گویا کہ زبان کا بہت اہی اہم کردار ہے انسان کی زندگی میں، اگر ہم غور کریں تو ہم کو پتہ چلے گا کہ آیات و روایات میں زبان کے بارے میں کتنی تاکید کی گئی ہے۔ظاہر ی طور پر جو چیز انسان کی پہچان کا سبب اور ذریعہ ہے وہ اس کا چہرہ ہے۔ انسان اپنے چہرے اور شکل و صورت کے ذریعہ سے پہچانا جاتا ہے، لیکن انسان کے اندر کیا ہے اور وہ کتنے کمالات کا مالک ہے، یہ اس وقت تک سمجھ میں نہیں آسکتا جب تک وہ کلام اور گفتگو نہ کرے،جیسے ہی بولتا ہے، سامنے والا سمجھ جاتا ہے کہ اس کے اندر کیا ہے، اسی چیز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مولائے کائنات ؑ نے فرمایا:"اے انسان تو ایسی واضح کتاب ہے کہ جس کی گفتگو سے اس کی پوشیدہ چیزیں ظاہر ہوتی ہیں۔"(دیوان امیر المومنینؑ،ص؍۱۷۵،محقق مصطفیٰ زمان، ناشر دارندءالاسلام،قم)یعنی جیسے ہی بولتا ہے سمجھ میں آجاتا ہے کہ بحر ذخّار ہے یا قطرۂ بے کار ہے،دوسری جگہ پہ مولاؑ فرماتے ہیں کہ"بولو تاکہ پہچانے جاؤ اس لئے کہ انسان کی شخصیت اس کی زبان کے نیچے چھپی رہتی ہے۔(نہج البلاغہ،حکمت؍۳۹۲)قرآن مجید اور روایات میں جن چیزوں کے بارے میں زیادہ تاکید ہوئی ہے ان میں سے ایک زبان ہے بلکہ  زبان کے بارے میں کچھ زیادہ ہی تاکید ہوئی ہے۔خداوند عالم نے متعدد جگہوں پہ بیان فرمایا ہے کہ انسان کو کیسے کلام کرنا چاہیئے۔اس کی گفتگو کا انداز کیسا ہونا چاہیئے اور آج دنیا کا ہر آدمی یہی چاہتا ہے کہ لوگ اس کی باتیں مانیں، اس کی زبان میں اثر پیدا ہو، اس کی بات موقع ومحل کے اعتبار سے مناسب اور موزوں ہو، اس کے لئے لوگ روان شناسی کا درس پڑھتے ہیں اور بھی دوسرے درس پڑھتے ہیں، کافی محنت اور مشقت کرتے ہیں، تمرین کرتے ہیں،تو اس کے لئے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ صرف قرآن و اہل بیت علیہم السلام کے بتائے ہوئے فارمولے پہ عمل کرنے کی ضرورت ہے، قرآن مجیدنے گفتگو کے انداز کو مختلف طریقہ سے بیان کیا ہے،کہیں پہ قول معروف کا لفظ استعمال کیا ہے اور فرمایا:"ان سے مناسب اور نیک گفتگو کیا کرو"(سورۂ نساء؍۵؛سورۂ احزاب؍۳۳)کہیں پہ قول بلیغ کا لفظ استعمال کیا اور فرمایا:"اور ان کے دل پر  اثر کرنے والی موقع ومحل کے مطابق بات کریں"(نساء؍۶۳)،کہیں پہ قول سدید کا لفظ استعمال کیا اور فرمایا:"ایمان والواللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کرو تاکہ وہ تمہارے اعمال کی اصلاح کردے اور تمہارے گناہوں کو بخش دے"(سورۂ احزاب؍۷۰)،یعنی حق اور سچی بات کرو اور بے ہودہ گوئی سے پرہیز کرو۔ کہیں پہ قول کریم کا لفظ استعمال کیا اور فرمایا:"ان سے ہمیشہ شریفانہ گفتگو کرتے رہنا"(سورہ اسراء؍۲۳)کہیں پہ قول میسور کا لفظ استعمال کیا اور فرمایا:"ان سے نرم انداز سے گفتگو کرنا"(اسراء؍۲۸)اور کہیں پہ قول لین کا لفظ استعمال کیا اور فرمایا:"اس سے نرمی سے بات کرنا"(سورۂ طہٰ؍۴۴)اور کہیں پہ قول احسن کا لفظ استعمال کیا اور فرمایا:"اور میرے بندوں سے کہہ دیجئے کہ صرف اچھی باتیں کیا کریں"(اسراء؍۵۳)تواب اگر واقعاً کوئی یہ چاہتا ہے کہ اس کی گفتگو میں اثر رہے اور لوگ اس کی باتوں کو مانیں تو اسے چاہئے کہ قرآن کے بتائے ہوئے فارمولے پہ عمل کرے، اب ظاہر سی بات ہے کہ جب انسان گفتگو کرے گا اور موقع و محل کی نزاکت کو نہیں سمجھے گا کہ کون سی بات  کب اور کہاں کرنا ہے، تو فتنہ، فساد اور اختلاف پیدا ہوگا،قرآن نے تو بحث کرنے کے انداز کو بھی بیان کیا ہے اور فرمایا:"ان سے اس طریقہ سے بحث کریں جو بہترین طریقہ ہے"(سورۂ نحل؍۱۲۵)جب قرآن نے بحث کرنے کے بارے میں بھی اتنی رعایت کا حکم دیا ہے تو پھر عام گفتگو میں انسان کو کتنی رعایت کرنا چاہئے۔امام رضا علیہ السلام نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیا ہے کہ آپؐ نے فرمایا:"تم میں سے سب سے بہتر وہ ہے جو اپنی گفتگو کو پاکیزہ بنائے"(عیون اخبار الرضاؑ،ج؍۲،ص؍۶۵،ناشر المطبعۃ الحیدریۃ نجف)اور اگر ہم غور کریں تو ہم کو پتہ چلے گا کہ زبان اور عقل کا آپس میں بہت ہی گہرا تعلق ہے، زیادہ تر روایات میں عقل کے ساتھ زبان کا ذکر ہوا ہے، مولائے کائناتؑ فرماتے ہیں کہ:"جب عقل مکمل ہوتی ہے تو باتیں کم ہوجاتی ہیں"(حکمت؍۷۱)یعنی عاقل سوچ سمجھ کر بولتا ہے۔ اکثر ہم لوگ بغیر سوچے سمجھے جو چاہتے ہیں بول دیتے ہیں اور اس کے انجام اور نتیجہ کی پرواہ نہیں کرتے، بعد میں ذلیل و رسوا ہوتے ہیں۔

          مولائے کائنات ؑ نے دوسری جگہ پر فرمایا:"عقل مند کی زبان اس کے دل کے پیچھے رہتی ہے اور احمق کا دل اس کی زبان کے پیچھے رہتا ہے"(حکمت؍۴۰)سید رضی فرماتے ہیں:"یہ بڑی عجیب وغریب اور لطیف حکمت ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ عقل مند انسان غور وفکر کے بعد بولتا ہے اور احمق انسان بلا سوچے سمجھے کہہ ڈالتا ہے گویا عاقل کی زبان اس کے دن کی تابع ہے اور احمق کا دل اس کی زبان کا پابند ہے"اسی چیز کو امام علیہ السلام نے دوسرے طریقہ سے بیان فرمایا کہ:"احمق کا دل اس کے منہ کے اندر رہتا ہے اور عقل مند کی زبان اس کے دل کے اندر رہتی ہے۔(حکمت؍۴۱)،ایک دوسری جگہ پر امام علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں کہ:"گفتگو تمہارے قبضہ میں ہے جب تک اس کا اظہار نہ ہوجائے۔اس کے بعد پھر تم اس کے قبضہ میں چلے جاتے ہو۔لہٰذا اپنی زبان کو ویسے ہی محفوظ رکھو جیسے سونے چاندی کی حفاظت کرتے ہو کہ بعض کلمات نعمتوں کو سلب کرلیتے ہیں اور عذاب کو جذب کرلیتے ہیں۔(حکمت؍۳۸۱)دوسری جگہ پہ فرماتے ہیں:"جو بات نہیں جانتے ہو اسے زبان سے مت نکالو بلکہ ہر وہ بات جسے جانتے ہو اسے بھی مت بیان کرو کہ اللہ نے ہر عضو بدن کے کچھ فرائض قراردیئے ہیں اور انہیں کے ذریعہ روز قیامت حجت قائم کرنے والا ہے۔(حکمت؍۳۸۲)پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:"خاموشی، سونا ہے، گفتگو اور کلام چاندی ہے(مستدرک الوسائل،ج؍۹،ص؍۱۶،ح؍۱،ناشر موسسہ آل البیت الاحیاء التراث ،بیروت)امام زین العابدین علیہ السلام سے روایت ہے کہ:"ہر صبح انسان کی زبان تمام اعضاء و جوارح کی احوال پرسی کرتی ہے اور پوچھتی ہے کہ تم سب کیسے ہو؟سب مل کے جواب دیتے ہیں، اگر تم ہم لوگوں کو چھوڑ دو یعنی ہمارے حال پہ رحم کرو تو ہم خیریت سے رہیں گے اور اس کے بعد زبان کو خدا کا واسطہ اور قسم دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تمہاری وجہ سے ثواب و عقاب پائیں گے"(اصول کافی،ج؍۲کتاب الایمان والکفر،ص؍۹۴،ناشر المکتبۃ الاسلامیہ تہران)رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:"خدا زبان کو ایسا عذاب دے گا جو دوسرے اعضاء کو نہیں دے گا۔زبان کہے گی میرے اللہ تونے مجھے ایسا عذاب دیا ہے ، جو دوسرے اعضاء کو نہیں دیا؟اس سے کہا جائے گا کہ تونے ایک جملہ کہا جو زمین کے مشرق و مغرب میں پہنچا اور اس کی وجہ سے محترم خون بہایا گیا،محترم مال لوٹا گیا اور ناموس کی حرمت کو پائمال کیا گیا،اپنی عزت و جلالت کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تجھے ایسا عذاب دوں گا جو اعضاء میں سے کسی اور عضو کو نہیں دوں گا۔(اصول کافی،ج؍۲،کتاب الایمان و الکفر،ص؍۹۵،ناشر المکتبۃ الاسلامیہ تہران)لہٰذا آیات و روایات کو پڑھنے کے بعد یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ انسان کے جسم میں جس چیز کو قابو اور کنٹرول کرنے کے بارے میں سب سے زیادہ توجہ دلائی گئی ہے وہ اس کی زبان ہے۔ انسان جب بولے تو بات کرنے کا انداز بہت ہی بہتر اور مناسب ہو، اور ضروری نہیں ہے کہ ہر جگہ بولے ہی، بعض جگہوں پہ نہ بولنا بھی ایک طرح کی بصیرت اور عقلمندی ہے۔ اگر ہر آدمی اس کا لحاظ کرے تو ہمارے سماج اور معاشرے میں، فتنہ و فساد کم ہوجائے۔ آج کی موجودہ صورت حال کا اگر ہم جائزہ لیں تو ہم کو پتہ چلے گا کہ جو ہرطرف فتنہ و فساد اور قتل و غارت گری ہورہی ہے اس کی سب سے بڑی وجہ، اشتعال انگیزی زہر افشانی، اور بغیر سوچے سمجھے بولنا ہے۔ چاہے وہ دین اور مذہب کے نام پہ ہو یا پھر ذات پات کے نام پر ہو۔

          ہماری اور ہمارے سماج و معاشرے کی بھلائی اسی میں ہے کہ جب ہم بولیں تو دیکھ لیں کہ کیا بول رہے ہیں اور اس کا نتیجہ بعدمیں کیا ہوگا۔ ہوسکتا ہے کہ شاید بولنے ہی کی ضرورت نہ ہو خاموش رہنے ہی میں مصلحت اور بھلائی ہو۔

          آخر میں خداوند عالم سے یہی دعاہے کہ خدا ہمیں محمد آل محمد علیہم السلام کے صدقہ میں توفیق عنایت فرمائے کہ ہمارے اندر اتنا شعور پیدا ہوجائے کہ ہم سمجھ سکیں کہ کہاں پہ کیا بولنا ہے اور کیسے بولنا ہے۔ تاکہ زبان کے ذریعہ سے ہونے والے فتنہ وفساد سے محفوظ رہ سکیں۔

دوروں کی تعداد : 36

 
امتیاز دهی
 
 

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر

اس بارے میں پڑہیں:
اَسمائے حُسنیٰ کے معانی اور خواص؛ امام علی رضاؑ کے کلام کی روشنی میں
حضرت علی علیہ السلام اور دنیا
منّ و سلویٰ
  • 2018.12.22 суббота منّ و سلویٰ
    مجھے امید ہے کہ آپ نے قرآن مجید میں من و سلویٰ کے بارے میں پڑھا ہوگا یا پھر علماء سے سنا ہوگا۔ اگر نہیں تو کوئی بات نہیں ہم آپ کو من وسلویٰ کے بارے میں بتاتے ہیں۔
    قرآن و عترت
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر
[Part_khabar]

امام رضا علیہ السلام کی ملکوتی بارگاہ ایک ایسا دروازہ ہے جوخدا کی طرف کھلتا ہے۔ یہ ملکوتی بارگاہ ہر اس شخص کے لئے پناہ گاہ ہے جو رازونیاز کرنے کے لئےاس کی طرف دوڑا چلا آتا ہے، امام علی ابن موسیٰ الرضا علیہ السلام نے اپنی آغوش رحمت کو اپنے چاہنے والوں کے لئے پھیلا رکھاہے اور توس کی سرزمین پر اپنے وجود کی خوشبوسے اپنے زائرین اور مجاورین کی روح اور جان کو محبت اور رأفت سے نوازتے ہیں۔ لیکن ایسے آسمانی اور ملکوتی گوھر کا مہمان اور میزبان ہونا بھی کوئی آسان کام نہیں ہے ۔اور ایک ایسی فضا اورماحول کو جو امام ھمام کی شأن و منزلت کے مطابق ہو ایجاد کرنے کے لئے مسئولیت کا قبول کرناایک مھم اور مشکل کام ہے ۔ اس مھم کام کی ذمہ داری ادارہ ’’آستان قدس رضوی‘‘ کے اوپر ہے۔ ’’آستان قدس رضوی‘‘ رسمی طور پر ایک ایسے مجموعہ ہے جو حرم امام رضا علیہ السلام  اور اس کی موقوفات اور جتنے بھی اس کے متعلقات ہیں ان کی سرپرستی اور مدیریت کرتا ہے۔ یہ ادارہ اپنی تمام تر تلاش کو بہ روئے کار لاتے ہوئے امام رضا علیہ السلام کے زائرین اور مجاورین کی ضروریات کو نذورات اور زائرین کی موقوفات پر تکیہ کرتے ہوئے پوری کرتا ہے۔ حریم مقدس حرم کی نوسازی ومرمّت  اور اس کی حفاظت اور زائرین کی میزبانی کے لئےمتبرک مقامات کی آمادہ سازی، معرفت اور آسانی سے زیارت کرنے کے لئے مختلف امکانات کا مھیا کرنا، زائرین کی راھنمائی اور۔۔۔ یہ چند ایک آستان قدس رضوی کی ایسی خدمات ہیں جن کو پہلی نگاہ میں مشاھدہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن آستان قدس رضوی کی فعالیتوں کی حد و حدود ،حرم مطہر کے وسیع وعریض ابعاد سے بھی فراتر ہے۔ میوزیم، لائبریریز، یونیورسٹیاں اور مدارس، میڈیکل سینٹر اور ہسپٹلز اور انڈسٹریز سینٹرز،آستان قدس رضوی کی چند ایک دوسری فعالیتیں ہیں۔ اس ادارے کے مھم اھداف سےمزید آشنا ہونے کے لئے آپ آستان قدس رضوی کی بیس سالہ کی گئی پلاننگ کے مجوزات کو دیکھ سکتے ہیں۔