روضہ منوره حضرت امام علی رضاؑ کی ویب سائٹ

1397/10/2 يكشنبه

حضرت علی علیہ السلام اور دنیا

.
حضرت علی علیہ السلام اور دنیا

حضرت علی علیہ السلام اور دنیا

جناب سید آل ہاشم رضوی

امیر المومنین حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کے نثری کلام نہج البلاغہ میں ایسے کئی ارشادات اور خطابات موجود ہیں جس میں انہوں نے دنیا کو برا کہا ہے۔ نہج البلاغہ کے خطبہ نمبر ۱۱۱ میں حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: "میں تمہیں دنیا سے خبر دار کئے دیتا ہوں کہ یہ ایسے شخص کی منزل ہے جس کے لئے قرار نہیں اور ایسا گھر ہے جس میں آب و دانہ ڈھونڈھا جاسکتا ہے۔ یہ اپنے باطل سے آراستہ  ہے اور اپنی آرائشوں سے دھوکا دیتی ہے یہ ایک ایسا گھر ہے جو اپنے رب کی نظروں میں ذلیل و خوار ہے۔ "خطبہ نمبر؍۱۲۷میں کچھ اس طرح مولاؑ دنیا کی مذمت کرتے ہیں: "تم ایسا زمانہ میں ہو کہ جس میں بھلائی کے قدم پیچھے ہٹ رہے ہیں اور برائی آگے بڑھ رہی ہے اور لوگوں کو تباہ کرنے میں شیطان کی حرص تیز ہوتی جارہی ہے۔ خطبہ نمبر؍۲۲۳ میں حضرت علی علیہ السلام نے دنیا کے سلسلہ میں فرمایا ہے: "یہ دنیا ایک ایسا گھر ہے جو بلاؤں میں گھرا ہوا اور فریب کاریوں میں شہرت یافتہ ہے۔ اس کے حالات کبھی یکساں نہیں رہتے اور نہ اس میں رہنے والے صحیح و سالم رہ سکتے ہیں۔"دنیا کی مذمت میں حضرت علی علیہ السلام کے بہت سے ارشادات، اقوال و خطبات ملتے ہیں۔ ایک بار حضرت علی علیہ السلام اپنے کچھے اصحاب کے ساتھ جارہے تھے تبھی ان کو راستہ میں ایک مرا ہوا کتانظر آیا۔ مولا علی علیہ السلام نے اس مرے ہوئے نجس جانور کو دیکھ کر کہا کہ دنیا میرے نزدیک اس جانور کی لاش سے بدتر ہے۔ یہ سن کر ایک صحابی سے رہا نہیں گیا اور اس نے برجستہ سوال کرلیا۔ مولاؑ آپ ہمیشہ دنیا کی برائی کرتے رہتے ہیں اور اسے اپنی ناپسند جگہ بتاتے رہتے ہیں کیا آپ کو دنیا میں کوئی چیز پسند نہیں ہے؟ اس سوال کا جواب مولا علی علیہ السلام نے کچھ یوں دیا کہ مجھے اس دنیا میں چھ چیزیں بہت پسند ہیں۔ حضرتؑ کے اس جواب نے سبھی اصحاب کو حیرت میں ڈال دیا۔ ایک صحابی نے پوچھا کہ مولاؑ وہ چھ چیزیں کونسی ہیں؟ حضرت علی علیہ السلام نے اس سوال کا جواب بڑے عجیب انداز میں دیا۔وہ فرماتے ہیں کہ مجھے اس دنیا میں دو قدم، دو گھونٹ اور دو قطرے بہت پسند ہیں۔ مولاؑ کے اس جواب نے سبھی اصحاب کی حیرت اور بڑھادی۔ علی علیہ السلام نے اپنے جواب کی تشریح یوں فرمائی۔ دو قدم وہ ہیں جس میں پہلا کسی عبادت کو انجام دینے کے لئے اٹھایا جائے اور دوسرا قدم وہ ہے جو کسی رشتہ دار یا دوست کی خیریت جاننے اور اس کی مزاج پرسی کے لئے ملاقات کرنے کی غرض سے اٹھایا جاتا ہے۔ دو گھونٹ وہ ہیں جس میں پہلا وہ جو غصہ کو ٹالنے کے لئے پیا جاتا ہے اور دوسرا وہ ہے جو صبر کرتے ہوئے پیا جاتا ہے۔ اسی طرح دو قطرے وہ ہیں جس میں پہلا قطرہ جو کسی شہید کے جسم سے گرتا ہے۔ دوسرا قطرہ گناہ سے توبہ کرتے وقت پچھتاوے کے ساتھ آنکھ سے آنسو کی شکل میں گرتا ہے۔

          حضرت علی علیہ السلام کے اس جواب پر اگرغور و فکر کریں تو یہ بات صاف ابھر کر آتی ہے کہ مولاؑ کی نظر میں اللہ کی عبادت آپس میں محبت اور اخلاص، صبر و تحمل، گناہ سے توبہ کرنا اور اللہ کی راہ میں جان کی قربانی دینے کی بہت اہمیت ہے۔ اس کے ساتھ ہی اپنے غصہ پر قابو رکھنے کی عادت بھی مولا علی علیہ السلام کو بہت پسند ہے۔ جس دنیا کو حضرت علی علیہ السلام نے مرے ہوئے نجس جانور کی لاش سے بھی بدتر مانا اسی دنیا کو جن چیزوں کی وجہ سے پسند فرمایا ہے وہ چیزیں یقیناً ہمارے لئے بہت اہم  اور قابل التفات ہیں۔ امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کی محبت بہت اہم اور قیمتی ہے۔ لیکن محبت کے ساتھ ہی ان کی تعلیمات پر عمل، پیروی اور اتباع بہت ضروری ہے۔

دوروں کی تعداد : 38

 
امتیاز دهی
 
 

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر

اس بارے میں پڑہیں:
اَسمائے حُسنیٰ کے معانی اور خواص؛ امام علی رضاؑ کے کلام کی روشنی میں
زبان
  • 2018.12.23 воскресенье زبان
    انسان کے جسم میں بعض اعضاء بڑے ہیں اور بعض ان کے مقابلے میں چھوٹے ہیں لیکن ہر ایک اپنی جگہ پہ ایک الگ اہمیت کا حامل ہے، انہیں اعضاء میں سے ایک عضو زبان ہے،
    قرآن و عترت
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر
علم اور قدرتِ پروردگارِ عالَم؛ امام علی رضاؑ کے کلام کی روشنی میں
[Part_khabar]

امام رضا علیہ السلام کی ملکوتی بارگاہ ایک ایسا دروازہ ہے جوخدا کی طرف کھلتا ہے۔ یہ ملکوتی بارگاہ ہر اس شخص کے لئے پناہ گاہ ہے جو رازونیاز کرنے کے لئےاس کی طرف دوڑا چلا آتا ہے، امام علی ابن موسیٰ الرضا علیہ السلام نے اپنی آغوش رحمت کو اپنے چاہنے والوں کے لئے پھیلا رکھاہے اور توس کی سرزمین پر اپنے وجود کی خوشبوسے اپنے زائرین اور مجاورین کی روح اور جان کو محبت اور رأفت سے نوازتے ہیں۔ لیکن ایسے آسمانی اور ملکوتی گوھر کا مہمان اور میزبان ہونا بھی کوئی آسان کام نہیں ہے ۔اور ایک ایسی فضا اورماحول کو جو امام ھمام کی شأن و منزلت کے مطابق ہو ایجاد کرنے کے لئے مسئولیت کا قبول کرناایک مھم اور مشکل کام ہے ۔ اس مھم کام کی ذمہ داری ادارہ ’’آستان قدس رضوی‘‘ کے اوپر ہے۔ ’’آستان قدس رضوی‘‘ رسمی طور پر ایک ایسے مجموعہ ہے جو حرم امام رضا علیہ السلام  اور اس کی موقوفات اور جتنے بھی اس کے متعلقات ہیں ان کی سرپرستی اور مدیریت کرتا ہے۔ یہ ادارہ اپنی تمام تر تلاش کو بہ روئے کار لاتے ہوئے امام رضا علیہ السلام کے زائرین اور مجاورین کی ضروریات کو نذورات اور زائرین کی موقوفات پر تکیہ کرتے ہوئے پوری کرتا ہے۔ حریم مقدس حرم کی نوسازی ومرمّت  اور اس کی حفاظت اور زائرین کی میزبانی کے لئےمتبرک مقامات کی آمادہ سازی، معرفت اور آسانی سے زیارت کرنے کے لئے مختلف امکانات کا مھیا کرنا، زائرین کی راھنمائی اور۔۔۔ یہ چند ایک آستان قدس رضوی کی ایسی خدمات ہیں جن کو پہلی نگاہ میں مشاھدہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن آستان قدس رضوی کی فعالیتوں کی حد و حدود ،حرم مطہر کے وسیع وعریض ابعاد سے بھی فراتر ہے۔ میوزیم، لائبریریز، یونیورسٹیاں اور مدارس، میڈیکل سینٹر اور ہسپٹلز اور انڈسٹریز سینٹرز،آستان قدس رضوی کی چند ایک دوسری فعالیتیں ہیں۔ اس ادارے کے مھم اھداف سےمزید آشنا ہونے کے لئے آپ آستان قدس رضوی کی بیس سالہ کی گئی پلاننگ کے مجوزات کو دیکھ سکتے ہیں۔