روضہ منوره حضرت امام علی رضاؑ کی ویب سائٹ

1397/9/20 سه‌شنبه

امام رضاؑ کی زیارت کی فضیلت

.
امام رضاؑ کی زیارت کی فضیلت

امام رضاؑ کی زیارت کی فضیلت

اہل سنت کی کتابوں میں قبر امام رضا علیہ السلام کی زیارت کی فضیلت میں روایتیں وارد ہوئی ہیں جن میں سے بعض کو ہم یہاں پر نقل کرتے ہیں :

١۔ سید علی بن شہاب الدین ہمدانی نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا: ستدفن بضعه منّى بخراسان، ما زار مکروب الاّ نفّس الله کربته، و لامذنب الاّ غفر الله له۔ (١)۔

بہت جلد میرے جسم کا ایک حصہ خراسان میں دفن ہوگا، جس کو بھی مغموم ہو اور وہ آپ کی زیارت کرے تو خداوند عالم اس کے غم کو دور کردے گا اور جو گنہگار بھی ان کی زیارت کرے گا خداوندعالم اس کے گناہوں کو بخش دے گا۔

٢۔ حموینی نے اپنی سند کے ساتھ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا: ستدفن بضعه منّى بخراسان، لایزورها مومن الاّ اوجب الله له الجنّه، و حرّم جسده على النار۔ (٢)۔

بہت جلد میرے جسم کے ایک حصہ کو خراسان میں دفن کیا جائے گا۔ جو مومن بھی ان کی زیارت کرے گا اس پر خداوند عالم بہشت کو واجب کردے گا اور اس کے جسم پر جہنم کی آگ کو حرام کردے گا۔

٣۔ ابوبکر محمد بن مومل کہتے ہیں: میں نے اہل حدیث کے امام، ابوبکر بن خزیمہ، ابن علی ثقفی اور اساتید کی ایک جماعت کے ساتھ علی بن موسی الرضا علیہ السلام کی زیارت کے قصد سے طوس کی طرف روانہ ہوا۔ میں نے ابن خزیمہ کو دیکھا کہ وہ اس ضریح کی اس قدر تعظیم کررہے تھے اور اس کے سامنے اس قدر تواضع اور تضرع و زاری کررہے تھے کہ ہم حیران رہ گئے (٣)۔

٤۔ ابن حبان نے اپنی کتابالثقات میں لکھا ہے: علی بن موسی الرضا کو طوس میں مامون نے ایک شربت دیا جس کو پیتے ہی آپ کی شہادت واقع ہوگئی ... آپ کی قبر سناباد میں نوقان کے باہر مشہور ہے، لوگ ان کی زیارت کے لئے آتے ہیں۔ میں نے بہت زیادہ ان کی زیارت کی ہے، جب تک میں طوس میں رہا مجھ پر کوئی مصیبت نہیں پڑی اور اگر کوئی مصیبت پڑتی تھی تو میں علی بن موسی الرضا (صلوات اللہ علی جدہ و علیہ) کی قبر کی زیارت کے لئے جاتا تھا اور خداوند متعال سے دعا کرتا تھا کہ میری مصیبت کو دور کرے، خداوند عالم بھی میری دعا کو مستجاب کرتا تھا اور وہ مصیبت مجھ سے دور ہوجاتی تھی اور یہ بات ایسی ہے جس کا میں نے بارہا تجربہ کیا ہے اور ہر مرتبہ میری مصیبت دور ہوئی ہے۔ خداوند عالم ہمیں مصطفی اور ان کے اہل بیت (صلی اللہ علیہ و علیہم اجمعین) کی محبت پر موت دے۔ (٤) (٥) ۔

حوالہ جات: ١۔ مودة القربى، ص 140; ینابیع المودة، ص 265.

٢۔ فرائد السمطین، ج 2، ص 188، رقم 465.

٣۔ تهذیب التهذیب، ج 7، ص 339.

٤۔ الثقات، ج 8، ص 456 و 457.

٥۔ اهل بیت از دیدگاه اهل سنت، على اصغر رضوانى، ص 137.

دوروں کی تعداد : 84

 
امتیاز دهی
 
 

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر

اس بارے میں پڑہیں:
اَسمائے حُسنیٰ کے معانی اور خواص؛ امام علی رضاؑ کے کلام کی روشنی میں
امام رضاؑ کے بعض مناظرے
  • 2018.12.11 вторник امام رضاؑ کے بعض مناظرے
    مامون رشید کے عہد میں نصاری کا ایک بہت بڑا عالم شہرت عامہ رکھتا تھا جس کانام ”جاثلیق“ تھا۔ مامون رشید کے اشارے پر ایک دن وہ حضرت امام رضاعلیہ السلام سے مناظرہ کیا۔
    امام رضا کی زندگی
حدیث سلسلۃالذہب ۔۔۔۔ایک جائزہ
مجلہ شمس الشموس 19
علم اور قدرتِ پروردگارِ عالَم؛ امام علی رضاؑ کے کلام کی روشنی میں
[Part_khabar]

امام رضا علیہ السلام کی ملکوتی بارگاہ ایک ایسا دروازہ ہے جوخدا کی طرف کھلتا ہے۔ یہ ملکوتی بارگاہ ہر اس شخص کے لئے پناہ گاہ ہے جو رازونیاز کرنے کے لئےاس کی طرف دوڑا چلا آتا ہے، امام علی ابن موسیٰ الرضا علیہ السلام نے اپنی آغوش رحمت کو اپنے چاہنے والوں کے لئے پھیلا رکھاہے اور توس کی سرزمین پر اپنے وجود کی خوشبوسے اپنے زائرین اور مجاورین کی روح اور جان کو محبت اور رأفت سے نوازتے ہیں۔ لیکن ایسے آسمانی اور ملکوتی گوھر کا مہمان اور میزبان ہونا بھی کوئی آسان کام نہیں ہے ۔اور ایک ایسی فضا اورماحول کو جو امام ھمام کی شأن و منزلت کے مطابق ہو ایجاد کرنے کے لئے مسئولیت کا قبول کرناایک مھم اور مشکل کام ہے ۔ اس مھم کام کی ذمہ داری ادارہ ’’آستان قدس رضوی‘‘ کے اوپر ہے۔ ’’آستان قدس رضوی‘‘ رسمی طور پر ایک ایسے مجموعہ ہے جو حرم امام رضا علیہ السلام  اور اس کی موقوفات اور جتنے بھی اس کے متعلقات ہیں ان کی سرپرستی اور مدیریت کرتا ہے۔ یہ ادارہ اپنی تمام تر تلاش کو بہ روئے کار لاتے ہوئے امام رضا علیہ السلام کے زائرین اور مجاورین کی ضروریات کو نذورات اور زائرین کی موقوفات پر تکیہ کرتے ہوئے پوری کرتا ہے۔ حریم مقدس حرم کی نوسازی ومرمّت  اور اس کی حفاظت اور زائرین کی میزبانی کے لئےمتبرک مقامات کی آمادہ سازی، معرفت اور آسانی سے زیارت کرنے کے لئے مختلف امکانات کا مھیا کرنا، زائرین کی راھنمائی اور۔۔۔ یہ چند ایک آستان قدس رضوی کی ایسی خدمات ہیں جن کو پہلی نگاہ میں مشاھدہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن آستان قدس رضوی کی فعالیتوں کی حد و حدود ،حرم مطہر کے وسیع وعریض ابعاد سے بھی فراتر ہے۔ میوزیم، لائبریریز، یونیورسٹیاں اور مدارس، میڈیکل سینٹر اور ہسپٹلز اور انڈسٹریز سینٹرز،آستان قدس رضوی کی چند ایک دوسری فعالیتیں ہیں۔ اس ادارے کے مھم اھداف سےمزید آشنا ہونے کے لئے آپ آستان قدس رضوی کی بیس سالہ کی گئی پلاننگ کے مجوزات کو دیکھ سکتے ہیں۔