روضہ منوره حضرت امام علی رضاؑ کی ویب سائٹ

1397/4/28 پنجشنبه

امام علی رضاؑ کی نظر میں خاندان کے ساتھ زندگی گزارنے کا انداز

.
امام علی رضاؑ کی نظر میں خاندان کے ساتھ زندگی گزارنے کا انداز

امام علی رضاؑ کی نظر میں خاندان کے ساتھ زندگی گزارنے کا انداز

تحریر: ظہیر عباس مدنی

کسی بھی معاشرے میں خاندان کلیدی کردار کا حامل ہوتا ہے۔ معاشرے کی مثال ایک دیوار کی مانند ہے جو ہزاروں اینٹوں سے مل کر بنتی ہے، معاشرہ بھی ہزاروں افراد اور خاندانوں سے مل کر بنتا ہے؛ جس طرح دیوار میں اگر کچھ اینٹیں ٹیڑھی اور بےترتیب لگ جائیں تو ساری کی ساری دیوار خراب ہو جاتی ہے، یہی حال معاشرے کا بھی ہے کہ جس میں موجود تمام افراد اور خاندان مل کر اگر صحیح طرزِ زندگی اپنائیں تو معاشرہ جنت نظیر کہلائے گا لیکن خدا نخواستہ اگر معاشرے میں کچھ خاندان اپنی ذمہ داریوں کو پسِ پشت ڈال دیں تو اِس کے اَثرات بھی تمام معاشرے پر مترتّب ہوتے ہیں۔

اسی وجہ سے دینِ اسلام میں معاشرے کی فلاح و بہبود اور اس میں موجود خاندانوں کی تربیت پر بہت زیادہ توجہ دی گئی ہے کیونکہ خاندان معاشرے کی وہ بنیادی اِکائی ہے، جس کو تعلیم و تربیت کے ذریعے پَروان چڑھایا جا سکتا ہے اور ائمہ اطہار علیہم السلام سے بہت سی احادیث اِس موضوع پر موجود ہیں لیکن ہم اختصار کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے، فقط امام علی رضا علیہ السلام کے فرمودات کی روشنی میں، خاندان کے ساتھ زندگی گزارنے کا سلیقہ پیش کریں گے۔

خاندان کے ساتھ اچھا سلوک

خاندان کے افراد کا باہمی رابطہ جس قدر مضبوط اور بہتر ہو گا، انسان کی زندگی اتنی ہی آسان اور بہتر ہو گی۔ امام علی رضا علیہ السلام نے اپنے جدّ بزرگوار حضرت محمد مصطفیٰ (ص) سے نقل کرتے ہوئے اُن عوامل کی طرف اشارہ فرمایا ہے جن سے خاندان کے افراد کے باہمی تعلقات مضبوط ہوتے ہیں اور نتیجے میں یہ تعلقات خود ایک معاشرے کی بہتری کا سبب بنتے ہیں۔ امام رضا علیہ السلام نقل کرتے ہیں کہ رسولِ خدا (ص) نے فرمایا: ’’أَحْسَنُ النَّاسِ إِیمَاناً أَحْسَنُهُمْ خُلُقاً وَ أَلْطَفُهُمْ بِأَهْلِهِ وَ أَنَا أَلْطَفُکمْ بِأَهْلِی‘‘[1]؛ ’’ایمان کے لحاظ سے بہترین شخص وہ ہے جس کا اخلاق سب سے اچھا ہو اور اپنے خاندان کے ساتھ سب سے زیادہ شفیق و مہربان ہو اور میں تم سب سے زیادہ اپنے اہل و عیال کے ساتھ شفیق و مہربان ہوں۔‘‘

امام علی رضا علیہ السلام ایک اور مقام پر رسولِ خدا (ص) سے نقل کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: ’’أَقْرَبُکمْ مِنِّی مَجْلِساً یوْمَ الْقِیامَةِ أَحْسَنُکمْ خُلُقاً وَ خَیرُکُمْ لِأَهْلِهِ‘‘[2]؛ ’’روزِ قیامت تم میں سے سب سے زیادہ میرے قریب وہ شخص ہو گا جس کا اخلاق سب سے اچھا ہو اور وہ اپنے اہل و عیال کے لیے تم میں سب سے اچھا ہو۔‘‘

گھر کے اندر اپنے آپ کو بنا سنوار کے رکھنا

ایک اور قابلِ توجہ نکتہ یہ ہے کہ مرد گھر میں اپنے آپ کو بنا سنوار کر رکھے، یعنی جس طرح مرد حضرات یہ توقع رکھتے ہیں کہ اُن کی زوجہ اپنے آپ کو بنا سنوار کر رکھے، بالکل اسی طرح مردوں کی بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ضروری حد تک صاف ستھرا اور مرتّب رکھیں تاکہ بیویوں کے دلوں میں اپنے شوہروں کی محبت راسخ ہو جائے۔ مردوں کا اپنے آپ کو سنوارنا، بیویوں کی پاکدامنی کا موجب بنتا ہے۔

حسن ابن جَہم روایت کرتے ہیں کہ میں ایک دن امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو امامؑ نے اپنے بالوں کو خضاب کیا ہوا تھا۔ میں نے عرض کی: مولاؑ میں آپؑ پر قربان جاؤں! آپؑ نے اپنے بالوں کو خضاب کیا ہوا ہے؟ آپؑ نے فرمایا: ’’بالوں کو خضاب کرنے کا بھی اَجر و پاداش ہے۔ بالوں کو خضاب کرنا اور ظاہری آراستگی، اُن چیزوں میں سے ہے جو عورتوں کی پاک دامنی میں اضافہ کرتی ہیں، جبکہ خواتین کے پاک دامن نہ رہنے کی وجہ، اُن کے شوہروں کا اپنے آپ کو آراستہ اور مرتّب نہ رکھنا ہے۔‘‘[3]

ذہنی سکون اور قلبی اطمینان

 میاں بیوی کا اپنے آپ کو ایک دوسرے کے لیے بنا سنوار کر رکھنا اور آپس میں قلبی لگاؤ کے علاوہ اخلاقِ حسنہ سے آراستہ ہونا، زوجین کے ذہنی سکون اور قلبی اطمینان کا موجب بنتا ہے، جس کے نتیجے میں نہ مرد غیر عورت کے بارے میں سوچے گا اور نہ ہی خاتون اپنے شوہر کے علاوہ کسی اور مرد کے بارے میں فکر کرے گی اور انسانی زندگی کے تمام گوشے اَمنیت کے حِصار میں گِھر جائیں گے جو کہ زوجین کے درمیان ہر قسم کی بدبینی اور بدنیتی کو محو کرنے کا سبب بنے گا۔ اس کی طرف قرآنِ کریم اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿... هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ ...[4] اسی ضمن میں شیخ کلینیؒ نے فروع کافی میں امام رضا علیہ السلام سے ایک روایت نقل کی ہے: ’’مَا أَفَادَ عَبْدٌ فَائِدَةً خَیْراً مِنْ زَوْجَةٍ صَالِحَةٍ إِذَا رَآهَا سَرَّتْهُ وَ إِذَا غَابَ عَنْهَا حَفِظَتْهُ فِی نَفْسِهَا وَ مَالِه‘‘[5]؛ ’’انسان کو نیک اور صالحہ بیوی سے بڑھ کر کوئی اور فائدہ مند چیز نہیں ملی کہ جب اس کی طرف دیکھے تو خوشحال و مسرور ہو اور جب شوہر موجود نہ ہو تو اپنے نفس کی اور شوہرکے مال کی حفاظت کرے۔‘‘

بیوی اور بیٹی کے ساتھ خصوصی محبت

اسلامی تعلیمات میں سے ایک، بیوی اور بیٹی کے ساتھ خصوصی اُنس اور محبت رکھنا ہے کہ جس پر بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے؛ کیونکہ خواتین مردوں کی نسبت زیادہ نرم دل اور حسّاس ہوتی ہیں۔ امام علی رضا علیہ السلام اِس نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، نبی مکرَّم (ص) سے حدیث نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’إِنَّ اللَّهَ تَبَارَک وَ تَعَالَی عَلَی الْإِنَاثِ أَرَقُّ مِنْهُ عَلَی الذُّکورِ وَ مَا مِنْ رَجُلٍ یَدْخِلُ فَرْحَةً عَلَی امْرَأَةٍ بَینَهُ وَ بَینَهَا حُرْمَةٌ إِلَّا فَرَّحَهُ اللَّهُ یوْمَ الْقِیامَةِ‘‘[6]؛ ’’خداوندِ کریم خواتین پر مردوں کی نسبت زیادہ مہربان ہے اور جب بھی کوئی مرد اپنی مَحرم خواتین میں سے کسی کو خوش کرتا ہے تو خداوندِ متعال روزِ قیامت اُسے خوشحال کر دے گا۔‘‘ لہٰذا جس گھر میں ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کو عزّت دی جاتی ہو تو یقیناً اُس معاشرے میں عورت کو بھی عزّت کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔

محترم قارئین کرام! اِس مختصر تحریر میں امام رضا علیہ السلام کے فرمودات کی روشنی میں ذکر کیے گئے وہ چند کلیدی نکات بیان کیے گئے ہیں کہ اگر خاندان کے تمام افراد اِن پر عمل پیرا ہوں تو وہ خاندان اور پورا معاشرہ جنت نظیر نظر آئے گا جس کو ’’مدینۂ فاضلہ‘‘ سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔

 

[1]. عیون اَخبار الرضا علیہ السلام، محمد ابن علی ابن بابویہ قمی (شیخ صدوقؒ)، ج۲، ص۳۸

[2]. سابقہ حوالہ

[3]. بحار الانوار، علّامہ محمد باقر مجلسیؒ، ج۷۳، ص۱۰۰

[4]. سورۂ بقرہ، آیت۱۸۷؛ ’’ ... تمہاری بیویاں تمہارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو ...‘‘

[5]. اصول کافی، محمد ابن یعقوب ابن اسحاق کلینیؒ، ج۵، ص۳۲۷

[6]. وسائل الشیعہ، شیخ محمد ابن حسن الحرّ العاملیؒ، ج۲۱، ص۳۶۷

دوروں کی تعداد : 128

 
امتیاز دهی
 
 

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر

اس بارے میں پڑہیں:
رسول اکرمؑ  نہج البلاغہ کی روشنی میں
  • 2017.11.14 вторник رسول اکرمؑ نہج البلاغہ کی روشنی میں
     معاشرے کو قابل عمل نمونے (آئیڈیل )کی ضرورت ہو تی ہے جس کی پہچان لازمی ہے, قرآن مجید اسلامی معاشرے کے لیے رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اعلیٰ ترین نمونہ (اسوہ) قراردیتا ہے, ارشاد ہو تا ہے ۔ لَکُمْ فِیْ رَسُولِ اللّٰه اُسْوَة حَسَنَة
سبق آموز مثالیں: چوتھا حصہ ۱۰
  • 2017.9.19 вторник سبق آموز مثالیں: چوتھا حصہ ۱۰
    سبق آموز مثالیں، آیت اللہ حائری شیرازی کی کتاب (مثلہا و پندہا ) کی مثالوں کا ترجمہ پیش خدمت کہ جسمیں تربیتی اور اخلاقی مثالوں کو پیش کیا گیا ہے ہمیں آپکے مفید مشوروں کا انتظار رہیگا
انتیسواں درس:رمضان ہمراہِ قرآن(خاندان)
  • 2016.7.5 вторник انتیسواں درس:رمضان ہمراہِ قرآن(خاندان)
    ہم روایات میں پڑھتے ہیں: ازدواج نصف دین محفوظ ہو جانے کا سبب ہے۔ شادی شدہ شخص کی دو رکعت نماز، غیرشادی شدہ افراد کی ستّر رکعت نماز سے بہتر ہے۔ متاہل اور شادی شدہ افراد کا سونا، غیرشادی شدہ افراد کے روزے کی حالت میں بیداری سے بہتر ہے۔۔۔
مختلف ادیان میں منجی بشریت کا تصور
  • 2016.5.21 суббота مختلف ادیان میں منجی بشریت کا تصور
    منجی موعود ، نجات دلانے والے کا تذکرہ مختلف اقوام و ملل میں جنکے رہن سہن کا طریقہ ایک دوسرے سے پوری طرح سے کاملا ً الگ بھی ہے پھر بھی کسی نہ کسی طرح انکے یہاں یہ عقیدہ پایا ہی جاتا۔۔۔ سید لیاقت علی کاظمی
اسلام میں گھرانہ اور خاندان کی اہمیت
[Part_khabar]

امام رضا علیہ السلام کی ملکوتی بارگاہ ایک ایسا دروازہ ہے جوخدا کی طرف کھلتا ہے۔ یہ ملکوتی بارگاہ ہر اس شخص کے لئے پناہ گاہ ہے جو رازونیاز کرنے کے لئےاس کی طرف دوڑا چلا آتا ہے، امام علی ابن موسیٰ الرضا علیہ السلام نے اپنی آغوش رحمت کو اپنے چاہنے والوں کے لئے پھیلا رکھاہے اور توس کی سرزمین پر اپنے وجود کی خوشبوسے اپنے زائرین اور مجاورین کی روح اور جان کو محبت اور رأفت سے نوازتے ہیں۔ لیکن ایسے آسمانی اور ملکوتی گوھر کا مہمان اور میزبان ہونا بھی کوئی آسان کام نہیں ہے ۔اور ایک ایسی فضا اورماحول کو جو امام ھمام کی شأن و منزلت کے مطابق ہو ایجاد کرنے کے لئے مسئولیت کا قبول کرناایک مھم اور مشکل کام ہے ۔ اس مھم کام کی ذمہ داری ادارہ ’’آستان قدس رضوی‘‘ کے اوپر ہے۔ ’’آستان قدس رضوی‘‘ رسمی طور پر ایک ایسے مجموعہ ہے جو حرم امام رضا علیہ السلام  اور اس کی موقوفات اور جتنے بھی اس کے متعلقات ہیں ان کی سرپرستی اور مدیریت کرتا ہے۔ یہ ادارہ اپنی تمام تر تلاش کو بہ روئے کار لاتے ہوئے امام رضا علیہ السلام کے زائرین اور مجاورین کی ضروریات کو نذورات اور زائرین کی موقوفات پر تکیہ کرتے ہوئے پوری کرتا ہے۔ حریم مقدس حرم کی نوسازی ومرمّت  اور اس کی حفاظت اور زائرین کی میزبانی کے لئےمتبرک مقامات کی آمادہ سازی، معرفت اور آسانی سے زیارت کرنے کے لئے مختلف امکانات کا مھیا کرنا، زائرین کی راھنمائی اور۔۔۔ یہ چند ایک آستان قدس رضوی کی ایسی خدمات ہیں جن کو پہلی نگاہ میں مشاھدہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن آستان قدس رضوی کی فعالیتوں کی حد و حدود ،حرم مطہر کے وسیع وعریض ابعاد سے بھی فراتر ہے۔ میوزیم، لائبریریز، یونیورسٹیاں اور مدارس، میڈیکل سینٹر اور ہسپٹلز اور انڈسٹریز سینٹرز،آستان قدس رضوی کی چند ایک دوسری فعالیتیں ہیں۔ اس ادارے کے مھم اھداف سےمزید آشنا ہونے کے لئے آپ آستان قدس رضوی کی بیس سالہ کی گئی پلاننگ کے مجوزات کو دیکھ سکتے ہیں۔