روضہ منوره حضرت امام علی رضاؑ کی ویب سائٹ

1395/3/22 شنبه

پانچواں درس: رمضان ہمراہِ قرآن(دعا)

.
پانچواں درس: رمضان ہمراہِ قرآن(دعا)

دعا کی اہمیت
قُلْ مَا یَعْبَأُ بِکُمْ رَبِّی لَوْلَا دُعَاؤُکُمْ فَقَدْ کَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ یَکُونُ لِزَاماً (الفرقان/)۷۷
"اے پیغمبرؐ) آپ کہہ دیجئے کہ اگر تمہاری دعائیں نہ ہوں تو میرے پروردگار کو بھی تمہاری کوئی پروا نہیں ہے (کیونکہ تمہارا ماضی اچھا نہیں ہے، اس کے رسولؐ کی) یقیناً تم نے تکذیب کی ہے، پس عنقریب تمہارے جھٹلانے کا عذاب تمہارے دامن گیر ہو گا۔"
کلمہ "عَبأ" ’’وزن اور سنگینی‘‘ کے معنی میں ہے اور جملہ "مَا یَعْبَأُ بِکُمْ رَبِّی" یعنی خداوند متعال تمہارے لیے کسی وزن اور ارزش کا قائل نہیں ہے، مگر تمہاری دعا اور عبادت کے سائے میں۔
البتہ کلمۂ "دُعَاؤُکُمْ" کے لیے دو طرح کے معنی بیان ہوئے ہیں: ایک تضرُّع و زاری، راز و نیاز اور دعا کرنا، جو خداوند عالَم کی عنایت اور لطفِ خاص ہے، جیسا کہ حدیث میں بیان ہوا ہے: ’’جو شخص اہلِ دعا اور راز و نیاز ہو، وہ ہلاک نہیں ہو گا۔‘‘ اس لیے اس گروہ سے جو اہلِ دعا اور اہلِ راز و نیاز نہیں ہیں، شکایت کرتا ہے کہ تم لوگوں نے حق کو جھٹلایا اور دعا و مناجات کرنے کے بجائے بُتوں، ہوائے نفسانی اور طاغوتوں کے پیچھے چلے گئے، پس اِس کا انجام ضرور دیکھو گے۔
دوسرا معنی پروردگارِ عالَم کا لوگوں کو بُلانا اور دعوت دینا ہے؛ کیونکہ سنتِ الہٰی لوگوں کو حق کی دعوت دینا اور اُن پر اتمامِ حجت کرنا ہے۔ وہ چیز جو انسان کو برتر اور ارزشمند موجود بناتی ہے، وہ خداوند متعال کی دعوت کا قبول کرنا ہے، لیکن تم لوگوں نے دعوت کو قبول نہیں کیا اور اِسے جھٹلایا، پس تم سے کسی خیر و نیکی کی کوئی اُمید نہیں ہے اور تم اپنے عمل کے انجام کو پہنچو گے۔
خداوند متعال ایک مقام پر فرماتا ہے: "وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْإِنسَ إِلَّا لِیَعْبُدُونِ" ’’اور میں نے جنّ و انس کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔‘‘ اور اِس آیتِ کریمہ میں فرماتا ہے: ’’اگر انسان کی دعا اور راز و نیاز نہ ہوتا، تو اس کی کوئی ارزش اور قدر و قیمت نہ تھی، اس بنا پر ’’دعا‘‘ عبادت کی روح اور جان ہے۔
جی ہاں! باوجود اِس کے کہ خداوند ہر چیز کو جانتا ہے، لیکن دعا کرنا ہمارا وظیفہ ہے۔ دعا جہاں بھی اور جس وقت بھی ہو، مفید ہے؛ کیونکہ خداوند عالم فرماتا ہے: ’’میں نزدیک ہوں‘‘: "فَإِنِّی قَرِیبٌ" اور اگر کبھی اُس کا قہر و غضب ہمارے دامن گیر ہوتا ہے تو یہ ہماری خداوند عالم سے دُوری کے سبب ہے کہ جو گناہوں کی وجہ سے وجود میں آئی ہے۔

دعا کرنے والے پر خداوند کی عنایت

وَ إِذَا سَأَلَکَ عِبَادِی عَنِّی فَإِنِّی قَرِیبٌ أُجِیبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْیَسْتَجِیبُواْ لِی وَ لْیُؤْمِنُواْ بِی لَعَلَّهُمْ یَرْشُدُونَ (البقرة/۱۸۶)
اور (اے پیغمبرﷺ!) جب میرے بندے آپؐ سے میرے بارے میں سوال کریں تو (آپؐ کہہ دیں:) یقیناً میں (اُن سے) قریب ہوں؛.دعا کرنے والے کی دعا کو، جب وہ مجھے پُکارتا ہے سنتا ہوں، پس مجھ سے ہی طلب قبولیت کریں اور مجھ پرایمان لے آئیں، شاید کہ وہ رُشد و ہدایت پا جائیں۔
دعا کرنے والا، اِس قدر پروردگارِ عالَم کا موردِ لطف و عنایت قرار پاتا ہے کہ اِس آیتِ کریمہ میں، خداوند اپنے بندے پر اپنے لطف و عنایت کے بارے میں، اپنے آپ سے سات مرتبہ تعبیر کرتا ہے: اور جب میرے بندے میرے بارے میں سوال کریں، تو آپؐ ان سے کہہ دیں: میں خود اُن سے قریب ہوں اور جب بھی وہ مجھے پُکارتے ہیں، میں خود اُن کی دعائیں (سنتا اور) مستجاب کرتا ہوں، پس وہ میری دعوت کو قبول کریں اور مجھ پر ایمان لے آئیں۔ یہ محبت آمیز تعلق اور ارتباط، اِس صورت میں ہے جب انسان خداوند عالَم کے ساتھ مناجات اور راز و نیاز کرنا چاہے۔
سوال: کیوں بعض اوقات ہماری دعائیں مستجاب نہیں ہوتی ہیں؟
جواب: ہم تفسیرِ میزان میں پڑھتے ہیں کہ خداوند عالم اِس آیتِ کریمہ میں فرماتا ہے: «أُجِیبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ» ’’میں خود دعا کرنے والے کی دعا کو قبول کرتا ہوں جب وہ فقط مجھ سے دعا مانگے اور مکمل اخلاص کے ساتھ، مجھ سے خیر طلب کرے۔‘‘ پس اگر ہماری دعائیں قبول نہ ہوں؛ تو یا اِس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے خداوند متعال سے خیر کی دعا نہیں مانگی ہے اور درحقیقت وہ ہمارے لیے شرّ ہے  یا اگر واقعاً خیر ہی ہے، تو ہم نے خداوند سے خالصانہ اور صادقانہ طور پر درخواست نہیں کی اور کسی دوسرے کے ساتھ مدد طلبی بھی شامل رہی ہے  یا ممکن ہے کہ ہماری دعا کا قبول کرنا، خود ہماری مصلحت میں نہ ہو، جیسا کہ روایات کے مطابق، اِس صورت میں اس دعا کے بجائے، بلائیں اور آفات ہم سے دُور ہو جاتی ہیں اور یا یہ دعا ہمارے مستقبل یا ہماری آنے والی نسل کے لیے ذخیرہ ہو جاتی ہے اور یا پھر آخرت میں اِس کا تدارُک و جبران کر دیا جائے گا۔
ہم اصول کافی میں پڑھتے ہیں: جو کوئی حرام غذا کھائے یا امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ انجام نہ دے یا غفلت و بےتوجہی سے دعا مانگے، تو اس کی دعا قبول نہیں ہوتی ہے۔
دعا کا معنی، ذریعہ معاش کو چھوڑ دینا نہیں ہے، بلکہ تلاش و کوشش کے ساتھ خداوند متعال پر توکُّل کرنا ہے۔ اس لیے حدیث میں آیا ہے کہ ’’بیکار شخص کی دعا قبول نہیں ہوتی ہے۔‘‘
اِس آیتِ دعا کا آیاتِ روزہ کے درمیان میں واقع ہونا، شاید اس گہری مناسبت کی وجہ سے ہے، جو ماہِ خدا کا دعا کے ساتھ ہے۔

سوال:
اگرخداوند عالَم کے تمام امور (افعال) قانون مند اور ثابت و استوار عوامل و سنتوں کی بنیاد پر قائم ہیں، تو پھر دعا کیا اثر رکھتی ہے؟
جواب: جس طرح مسافر شخص کے نماز و روزے کا حکم، وطن میں رہنے والے شخص سے جدا ہے، اسی طرح دعا کرنے والا شخص، خدا سے غافل شخص سے فرق رکھتا ہے اور خداوند عالَم کی سنّت پہلے شخص پر لطف کرنا ہے، نہ کہ دوسرے پر۔ جی ہاں! خداوند سے دعا کرنا اور ہم کلام ہونا، عنایات و الطافِ الہٰی حاصل کرنے کے لیے انسان کی ظرفیت کو بڑھا دیتا ہے۔ جس طرح اولیائے الہٰی سے توسُّل اور اُن کی زیارت، انسان کی وضیعت و شرائط کو تبدیل کر دیتے ہیں۔ جیسے اگر کوئی چھوٹا بچہ اپنے والد کے ساتھ کسی دعوت پر جائے تو اس کے ساتھ اظہارِ محبت، اس سے زیادہ ہو گا کہ اگر وہ اکیلا اِس دعوت میں شریک ہوتا۔ اس بناءپر دعا، زیارت اور توسُّل، وضیعت و شرائط تبدیل ہونے کا موجب بنتے ہیں، نہ کہ قطعی الہٰی سنّتوں کے توڑنے کا۔

دعا کے آداب

وَ قَالَ رَبُّکُمُ ادْعُونِی أَسْتَجِبْ لَکُمْ إِنَّ الَّذِینَ یَسْتَکْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِی سَیَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِینَ {غافر/۶۰}
اور تمہارے پروردگار نے فرمایا ہے: مجھ سے دعا کرو، تاکہ میں تمہارے لیے (تمہاری دعا کو) قبول کروں۔ بےشک جو لوگ میری عبادت کرنے سے تکبُّر کرتے ہیں وہ عنقریب ذلّت و خواری کے ساتھ جہنم میں داخل ہوں گے۔‘‘
دعا کے کچھ آداب و شرائط ہیں جو درج ذیل ہیں
۱۔ دعا، ایمان اور عملِ صالح کے ساتھ ہو: (وَ یَسْتَجِیبُ الَّذِینَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحَاتِ)
۲۔ دعا، اخلاص کے ساتھ ہو: (فَادْعُوا اللَّهَ مُخْلِصِینَ لَهُ الدِّینَ)
۳۔ دعا، تضرُّع و زاری کے ساتھ اور مخفیانہ طور پر ہو: (ُدْعُواْ رَبَّکُمْ تَضَرُّعاً وَ خُفْیَةً)
۴۔ دعا، خوف اور اُمید کے ساتھ ہو: (ادْعُوهُ خَوْفاً وَ طَمَعاً)
۵۔ دعا، مخصوص اوقات میں ہو: (یَدْعُونَ رَبَّهُم بِالْغَدَاةِ وَ الْعَشِیِّ)
۶۔ دعا کرنے والا پروردگارِ عالَم کے اسمائے حسنیٰ سے پُکارے: (وَ لِلّهِ الأَسْمَاء الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا)
البتہ اِس بات کی طرف توجّہ رکھنا ضروری ہے کہ بعض اعمال، جیسے گناہ، ظلم اور  معذرت خواہی کرنے والوں کو معاف نہ کرنا، دعا کے قبول ہونے میں رکاوٹ بن جاتے ہیں یا بعض اوقات ممکن ہے کہ دعا کی قبولیت، نظام خلقت و آفرینش کو مختل کرنے کا باعث ہو، جیسے وہ طالبِ علم جو جغرافیا کے امتحان میں اِس سوال کے جواب میں کہ آیا سطحِ سمندر بلندتر ہے یا پہاڑوں کی سطح؟ غلطی سے جواب میں یہ لکھ دے کہ سطحِ سمندر بلندتر ہے! اور بعد میں خداوند عالَم سے یہ چاہے کہ وہ اِن دونوں کو جا بجا کر دے، تاکہ وہ پاس ہو جائے! بہرحال خداوند جس طرح (ہر چیز پر) قادر ہے، حکیم بھی ہے۔
دعا کی قبولیت اور اجابت دو طرفہ ہے، یعنی اگر لوگ خداوند عالَم سے دعا کی قبولیت کے منتظر ہیں، تو ضروری ہے کہ وہ بھی خداوند عالم کی دعوت کو قبول کریں: (اسْتَجِیبُواْ لِلّهِ وَ لِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاکُم لِمَا یُحْیِیکُمْ) جب بھی خدا اور رسول اکرمؐ تمہیں حیاتِ بخش مکتب کی طرف دعوت دیں، تو مثبت جواب دو تاکہ خداوند بھی تمہاری دعاؤں کو قبول فرمائے۔

خداوند عالم کے اسمائے حسنیٰ

وَ لِلّهِ الأَسْمَاء الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا ...(الأعراف/۱۸۰)
’’اور اللہ ہی کے لئے بہترین نام ہیں، پس اُسے ان ہی ناموں سے پُکارو ۔ ۔ ۔‘‘
اگرچہ پروردگارِ عالَم کے تمام نام اور صفات اچھے ہیں اور خداوند اُن تمام کمالات کا مالک ہے کہ جن کو شمار نہیں کیا جا سکتا، لیکن روایات میں ننانوے (۹۹) ناموں پر اعتماد کیا گیا ہے اور جو شخص خداوند متعال کو اِن ناموں سے پُکارے تو اس کی دعا مستجاب ہوتی ہے، یہ ننانوے (۹۹) نام درج ذیل ہیں:
الله، اله، الواحد، الأحد، الصّمد، الأوّل، الآخر، السّمیع، البصیر، القدیر، القاهر، العلیّ، الاعلیٰ، الباقی، البدیع، البارّ، الأکرم، الظّاهر، الباطن، الحیّ، الحکیم، العلیم، الحلیم، الحفیظ، الحقّ، الحسیب، الحمید، الحفیّ، الربّ، الرّحمٰن، الرّحیم، الذّارء، الرازق، الرّقیب، الرّؤوف، الرّائی، السّلام، المُؤمن، المُهَیمِن، العزیز، الجبّار، المتکبّر، السّیّد، السُّبّوح، الشّهید، الصّادق، الصّانع، الطّاهر، العدل، العَفو، الغفور، الغنیّ، الغیاث، الفاطر، الفرد، الفتّاح، الفالق، القدیم، الملک، القدّوس، القویّ، القریب، القیّوم، القابض، الباسط، قاضی الحاجات، المجید، المولیٰ، المنّان، المحیط، المبین، المقیت، المُصوّر، الکریم، الکبیر، الکافی، کاشف الضرّ، الوتر، النّور، الوهّاب، النّاصر، الواسع، الودود، الهادی، الوفیّ، الوکیل، الوارث، البرّ، الباعث، التوّاب، الجلیل، الجواد، الخبیر، الخالق، خیر النّاصرین، الدّیّان، الشّکور، العظیم، اللطیف، الشّافی
قرآنِ کریم میں خداوند کے تقریبا ایک سو پینتالیس (۱۴۵)  نام ذکر ہوئے ہیں اور روایات میں ننانونے (۹۹) ناموں کا جو عدد بیان ہوا ہے وہ اس لیے ہے کہ اِن میں سے بعض نام، دوسرے ناموں میں ادغام اور تطبیق کی قابلیت رکھتے ہیں، یا مراد یہ ہے کہ یہ ننانوے (۹۹) نام قرآن میں بھی بیان ہوئے ہیں، نہ یہ کہ فقط ننانوے (۹۹) ہی نام ہوں۔ بعض روایات اور دعاؤں، جیسے دعائے جوشن کبیر میں، خداوند عالَم کے لیے دوسرے نام بھی ذکر ہوئے ہیں، البتہ پروردگارِ عالم کے بعض اسمائے حُسنیٰ، مخصوص آثار و برکات اور خصوصیات کے حامل ہیں۔
حضرت امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’خدا کی قسم! ہم اہلِ بیتؑ، خدا کے ایسے اسمائے حُسنیٰ ہیں کہ ہماری معرفت کے بغیر کسی کا بھی عمل قبول نہیں ہو گا۔‘‘: نَحْنُ وَ اللهِ اَلْاَسْمَاءُ الْحُسْنَی الَّذِیْ لَا یَقْبَلُ اللهُ مِنْ أَحَدٍ عَمَلاً اِلَّا بِمَعْرفَتِنَا
نیز اسی طرح فرماتے ہیں: ’’جب کبھی بھی تمہاری طرف مشکلات اور سختیاں رُخ کریں، تو ہمارے وسیلے سے خداوند عالَم سے مدد طلب کرو‘‘ اور پھر فرمایا: ""وَ لِلّهِ الأَسْمَاء الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا آپؑ سے ہی نقل ہوا ہے کہ فرمایا: اِنَّ الخَالِقَ لَا یُوصَفُ اِلَّا بِمَا وَصَفَ بِهِ نَفْسَهُ.. خالق کی توصیف سوائے ان چیزوں سے جن کے ذریعے اس نے خود اپنی توصیف و تعریف بیان کی ہےدوسری چیزوں سے اسکی  توصیف نہیں کی جا سکتی؛ یعنی ہم اپنی طرف سے خدا کا کوئی نام نہیں رکھ سکتے، مثلاً یہ کہ اُسے عفیف (پاکدامن)، شجاع یا اس کی مانند کوئی نام دیں۔

ماخذ:
1:۔کافی، ج۴، ص۲۲۸
2:۔ سورۂ الذاریات، آیت۵۶
3:۔ سورۂ شوریٰ، آیت۲۶
4:۔ سورۂ غافر (مومن)، آیت۱۴
5:۔ سورۂ اعراف، آیت۵۵
6:۔ سورۂ اعراف، آیت۵۶
7:۔سورۂ انعام، آیت۵۲
8:۔سورۂ اعراف، آیت۱۸۰
9:۔ سورۂ انفال، آیت۲۴
10:۔ توحید صدوقؒ؛ تفاسیر مجمع البیان و نور الثقلین
11:۔تفسیرِ اثنیٰ عشری
12:۔سورۂ اعراف، آیت۱۸۰
13:۔ تفسیرِ فرقان

دوروں کی تعداد : 381

 
امتیاز دهی
 
 

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر

اس بارے میں پڑہیں:
اپنے لئے اور اپنے مومن بھائیوں کے لئے دعا کرنا
  • 2017.9.21 четверг اپنے لئے اور اپنے مومن بھائیوں کے لئے دعا کرنا
    مومن بھائیوں اور دوستوں کے لئے دعا، آداب دعا اور اسباب قبولیت دعا کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے پر مسلم الثبوت حقوق میں سے بھی ہےو اپنے لئے اور اپنے مومن بھائیوں کے لئے دعا کرنا قرآن اور روایات سے ثابت پے
گناہوں کا اقرار دعا کے آداب میں سے ہے
  • 2017.9.21 четверг گناہوں کا اقرار دعا کے آداب میں سے ہے
    دعاایک ایسی عظیم نعمت ہے جسے خدا نے بندوں کے اختیار میں دیا ہے ،ظاہر سی بات ہے خدا کے حضور میں دعا ، رازونیاز اوراظہار بے بسی کے سوا انسان کے پاس کچھ نہیں ہے ؛البتہ یہ معلوم ہونا چاہیئے کہ گناہوں کا اقرار کرنا دعا کے آداب میں سے ہے
خدا وند متعال دعاؤں کا سننے والا ہے
  • 2017.9.21 четверг خدا وند متعال دعاؤں کا سننے والا ہے
    إِنَّ رَبِّي لسَمِيعُ الدُّعَاءِ بیشک میرا پروردگار دعاؤں کا سننے والا ہے ۔سمیع یعنی ہمیشہ اور بہت زیادہ سننے والا یہاں تک کہ چھپ کراور کانوں میں کی جانے والی گفتگو کوبھی وہ  سن لیتا ہے ،یعنی علی الاعلان  اور مخفی گفتگو اس کے نزدیک مساوی ہے ،خدا سننے والا ہے
ماہ رمضان کے  ستائیسویں دن کی دعا
ماہ رمضان کے چھبیسویں دن کی دعا
[Part_khabar]

امام رضا علیہ السلام کی ملکوتی بارگاہ ایک ایسا دروازہ ہے جوخدا کی طرف کھلتا ہے۔ یہ ملکوتی بارگاہ ہر اس شخص کے لئے پناہ گاہ ہے جو رازونیاز کرنے کے لئےاس کی طرف دوڑا چلا آتا ہے، امام علی ابن موسیٰ الرضا علیہ السلام نے اپنی آغوش رحمت کو اپنے چاہنے والوں کے لئے پھیلا رکھاہے اور توس کی سرزمین پر اپنے وجود کی خوشبوسے اپنے زائرین اور مجاورین کی روح اور جان کو محبت اور رأفت سے نوازتے ہیں۔ لیکن ایسے آسمانی اور ملکوتی گوھر کا مہمان اور میزبان ہونا بھی کوئی آسان کام نہیں ہے ۔اور ایک ایسی فضا اورماحول کو جو امام ھمام کی شأن و منزلت کے مطابق ہو ایجاد کرنے کے لئے مسئولیت کا قبول کرناایک مھم اور مشکل کام ہے ۔ اس مھم کام کی ذمہ داری ادارہ ’’آستان قدس رضوی‘‘ کے اوپر ہے۔ ’’آستان قدس رضوی‘‘ رسمی طور پر ایک ایسے مجموعہ ہے جو حرم امام رضا علیہ السلام  اور اس کی موقوفات اور جتنے بھی اس کے متعلقات ہیں ان کی سرپرستی اور مدیریت کرتا ہے۔ یہ ادارہ اپنی تمام تر تلاش کو بہ روئے کار لاتے ہوئے امام رضا علیہ السلام کے زائرین اور مجاورین کی ضروریات کو نذورات اور زائرین کی موقوفات پر تکیہ کرتے ہوئے پوری کرتا ہے۔ حریم مقدس حرم کی نوسازی ومرمّت  اور اس کی حفاظت اور زائرین کی میزبانی کے لئےمتبرک مقامات کی آمادہ سازی، معرفت اور آسانی سے زیارت کرنے کے لئے مختلف امکانات کا مھیا کرنا، زائرین کی راھنمائی اور۔۔۔ یہ چند ایک آستان قدس رضوی کی ایسی خدمات ہیں جن کو پہلی نگاہ میں مشاھدہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن آستان قدس رضوی کی فعالیتوں کی حد و حدود ،حرم مطہر کے وسیع وعریض ابعاد سے بھی فراتر ہے۔ میوزیم، لائبریریز، یونیورسٹیاں اور مدارس، میڈیکل سینٹر اور ہسپٹلز اور انڈسٹریز سینٹرز،آستان قدس رضوی کی چند ایک دوسری فعالیتیں ہیں۔ اس ادارے کے مھم اھداف سےمزید آشنا ہونے کے لئے آپ آستان قدس رضوی کی بیس سالہ کی گئی پلاننگ کے مجوزات کو دیکھ سکتے ہیں۔