روضہ منوره حضرت امام علی رضاؑ کی ویب سائٹ

1395/11/24 يكشنبه

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے متعلق چالیس حدیثیں

.
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے متعلق چالیس حدیثیں

 
بسم اللہ الرحمن الرحیم

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے متعلق چالیس حدیثیں


ترجمہ: سید روشن علی جعفری(مھا راشٹرا)

1: اہمیت معرفت فاطمہ سلام اللہ علیہا

امام صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
جس کسی نے فاطمہ سلام اللہ علیہا کی حقیقی معرفت حاصل کرلی گویا اس نے شب قدر کو درک کرلیا۔

2: فاطمہ سلام اللہ علیہا سے محبت کے آثار
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
جو کوئی میری بیٹی فاطمہ سلام اللہ علیہا سے محبت رکھے گا، وہ میرے ساتھ جنت میں ہوگا، اور جو کوئی میری بیٹی سے بغض رکھے گا اس کا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔

3: فاطمہ سلام اللہ علیہا کی اطاعت
امام باقر علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
فاطمہ سلام اللہ علیہا کی اطاعت تمام مخلوقات خدا پر واجب ہے۔ چاہے وہ جنات ہوں یا انسان، چرند ہوں یا پرند، ملائکہ ہوں یا انبیاء۔

4: پیروی ٔ فاطمہ سلام اللہ علیہا
رسول اکرم  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
اے علی ؑ! فاطمہ سلام اللہ علیہا جس بات کا حکم کرے اس پر عمل کرنا کیونکہ میں نے فاطمہ سلام اللہ علیہا کو ان چیزوں کا حکم دیا ہے جن چیزوں کا امر مجھے جبرئیل سے ملا ہے۔

5: خلقت فاطمہ سلام اللہ علیہا
نبی اکرم  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
بے شک فاطمہ سلام اللہ علیہا حور ہیں۔ جنھیں خدا نے انسان کی شکل میں خلق کیا ہے۔

6: نام فاطمہ سلام اللہ علیہا   ’’فاطمہ‘‘ کیوں؟
پیغمبر اکرم  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
میں نے اپنی بیٹی کا نام فاطمہ ،سلام اللہ علیہا رکھا، کیونکہ خدا وند عزو جل نے فاطمہ سلام اللہ علیہا  اور ان کے چاہنے والوں کو آتش جہنم سے محفوظ کردیا ہے۔

7: فاطمہ ،سلام اللہ علیہا،نام رکھنے کا اثر
امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
جن گھروں میں مردوں کے نام محمدؐ۔ احمدؐ۔ علی ؑ۔ حسنؑ۔ حسینؑ۔ جعفر ؑ۔ طالب ؑ۔ عبد اللہ ؑپر اور عورتوں کے نام فاطمہؐ پر ہوں، فقر (تنگدستی) ان گھروں میں داخل نہیں ہو سکتی۔

8: احترام فاطمہ سلام اللہ علیہا
امام صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
(ایک ایسے شخص سے جس نے اپنی بیٹی کا نام فاطمہ سلام اللہ پر رکھا تھا۔ اس سے امام صادق علیہ السلام نے فرمایا۔)
جب کہ تم نے اپنی بیٹی کا نام میری دادی کے نام پر رکھا ہے تو پھر کبھی اپنی بچی کو ناسزا نہ کہنا، نہ ہی اسے نفرین کرنا، اور نہ ہی کبھی اسے طمانچے مارنا۔

9: نمونہ زندگی
امام زمانہ عج اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف نے اپنی توقیع میں ارشاد فرمایا:
رسول اکرم  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بیٹی کی زندگی ہمارے لئے نمونہ عمل ہیں۔

10: بہترین یاور
رسول اکرم  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
رسول اکرم  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے علی علیہ السلام سے سوال کیا: اے علی ؑ! تم نے فاطمہ سلام اللہ کو کیسا پایا، جواب میں علی ؑ نے فرمایا: اطاعت و عبادت پروردگار میں بہترین مددگار پایا۔

11: عزیز پیغمبرؐ
پیغمبر اکرم  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
فاطمہ سلام اللہ علیہا  میرے نزدیک سب سے زیادہ عزیز ہیں۔

12: نور چشم و ثمرہ قلب رسول  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم
رسول اکرم  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
فاطمہ سلام اللہ علیہا میرے جگر کا ٹکڑا۔ آنکھوں کا نور اور دل کا سکون ہیں۔

13: رضایت و غضب فاطمہ سلام اللہ علیہا
پیغمبر اکرم  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
بے شک خداوند متعال فاطمہ سلام اللہ علیہا کی ناراضگی کے باعث غضب ناک ہوتاہے اور فاطمہ سلام اللہ علیہا کی رضایت کی بناء پر راضی ہوتا ہے۔

14: دشمن فاطمہ سلام اللہ علیہا کا ٹھکانہ جہنم
رسول اکرم  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
اے فاطمہؐ! خدا ایسے شخص کو ہرگز ہرگز آتش جہنم سے نجات نہیں دے گا جس کے دل میں تمہارے لئے بغض ہو، یا تمہارے حق کا غاصب ہو، گرچہ اس کی شفاعت خدا کی طرف سے مبعوث تمام انبیاء کرام اور خدا کے مقرب ملائکہ ہی کیوں نہ کریں۔

15: چمکدار ستارہ
امام صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
فاطمہ سلام اللہ علیہا دنیا کی عورتوں کے درمیان چمکدار ستارہ کی مانند ہیں۔

16: سیدۃ النساء العالمین
امام صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
فاطمہ سلام اللہ علیہا تمام کائنات کی عورتوں کی سردار ہیں۔

17: تسبیح حضرت زہراء سلام اللہ علیہا
امام باقر علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
خداوند متعال کی حمد و تسبیح میں فاطمہ سلام اللہ علیہا کی تسبیح سے بڑھ کر کوئی بھی عبادت نہیں ہوئی ہے۔

18: درود و سلام بر فاطمہ سلام اللہ علیہا
امام رضا علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
پہلی بار اگر کسی کے جنازہ کے لئے تابوت بنایا گیا، وہ ذات فاطمہ سلام اللہ علیہا دختر رسول  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہیں۔ درود و سلام خدا ہو ان پر ان کے والد بزرگوار اور ان کے شوہر نامدار اور ان کی اولاد پر۔

19: دشمن فاطمہ سلام اللہ علیہا مستحق لعنت خدا
نبی اکرم  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
ملعون ہے ملعون ہے ملعون ہے وہ شخص جو میرے بعد میری بیٹی فاطمہ سلام اللہ علیہا پر ظلم کرے اور اس کے حق کو غصب کرے اور اسے قتل کرے۔

20: فضیلت زیارت فاطمہ سلام اللہ علیہا
رسول اکرم  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
جس کسی نے فاطمہ سلام اللہ علیہا کی زیارت کی گویا اس نے میری زیارت کی۔

21: نماز مخصوص فاطمہ سلام اللہ علیہا
امام صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
نماز فاطمہ سلام اللہ علیہا چار رکعت ہے۔(دو دو رکعت کے ساتھ) اور ہر رکعت میں (سورۂ الحمد کے بعد) پچاس مرتبہ سورۂ توحید (قل ھو اللہ) کی تلاوت ہے۔ یہ ہے نماز فاطمہ سلام اللہ علیہا ، اگر کسی نے اس طرح نماز ادا کی گویااس نے نماز فاطمہ سلام اللہ ادا کی۔

22: میں تجھ سے ہوں
پیغمبر اکرم  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
اے فاطمہ ؐ! میں تجھ سے ہوں اور تو مجھ سے ہے۔

23: باپ قربان ہوجائے
رسول اکرم  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
اے فاطمہؐ! تمہارا باپ تم پر قربان ہوجائے۔

24: خشبوء بہشت
نبی اکرم  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
فاطمہ سلام اللہ علیہا انسان کی شکل میں حور ہیں۔ جب بھی مجھے خشوء بہشت کا اشتیاق ہوتا ہے۔ میں فاطمہ سلام اللہ علیہا کی خشبوء سونگھتا ہوں

25: فاطمہ سلام اللہ علیہا قلب محمد  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم
حضرت علی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
حسن ؑ و حسینؑ اس امت کے دو سبط ہیں۔ اور ان دونوں کا مقام محمد  ﷺ کے لئے اسی طرح ہے جس طرح سر کے لئے آنکھیں ہوتی ہیں۔ اور میری منزلت(محمد  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے لئے اس طرح ہے جس طرح بدن کے لئے ہاتھ ہوتے ہیں۔ جبکہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کی اہمیت(محمد  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے لئے) ویسی ہی ہے جس طرح بدن کے لئے دل کی ہوتی ہے۔

26: فاطمہ سلام اللہ علیہا باعث افتخار علی علیہ السلام
حضرت علی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
میں (علی ؑ) بتول کا شوہر ہوں۔ وہ (بتولؐ) کہ جو کونین کی عورتوں کی سردار ہیں۔

27: ستارۂ زھرہ
نبی اکرم  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
میں سورج ہوں، علی علیہ السلام چاند ہیں، اور فاطمہ سلام اللہ علیہا زھرہ (ستارہ) ہیں، اور حسن علیہ السلام و حسین علیہ السلام دو چمکدار ستارے ہیں۔

28: ایمان فاطمہ سلام اللہ علیہا
رسول اکرم  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
اے سلمان! یقینا خدا وند متعال نے فاطمہ سلام اللہ علیہا کے قلب و اعضاء وجوارح اور ہڈیوں کو ایمان و یقین سے پر کیا ہے۔ اس طرح کہ ہمیشہ اطاعت خداوندی میں مصروف رہیں۔

29: فاطمہ سلام اللہ علیہا و زیارت شہداء
امام صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
فاطمہ سلام اللہ علیہا ہر شنبہ (سنیچر) کو شہدا ء کی قبروں کی زیارت کو جاتی تھیں۔

30: خشبوء فاطمہ سلام اللہ علیہا
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
انبیاکی کی خشبوء بہ (ایک پھلquince jam) کی خشبوء ہے۔ حوران بہشت کی خشبوء گل جاسمین کی خشبوء ہے۔ملائکہ کی خشبوء سرخ گلاب کی خشبوء ہے۔ جبکہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کی خشبوء بہ پھل، گل یاس اور سرخ گلاب کی خشبوء ہے۔

31: علی علیہ السلام کفو فاطمہ سلام اللہ علیہا
امام صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
بے شک اگر علی علیہ السلام نہ ہوتے تو پھر تا روز قیامت زمین پر آدم سے لیکر آخر آدمی تک کوئی فاطمہ سلام اللہ علیہا کا کفو نہیں ہوتا۔

32: آسمانی جوڑا
رسول اکرم  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
میں نے فاطمہ سلام اللہ علیہا کا عقد (علی علیہ السلام سے) اللہ کے حکم سے انجام دیاہے۔

33: فاطمہ سلام اللہ علیہا و امور خانہ داری
علی علیہ السلام فاطمہ سلام اللہ علیہا کے متعلق فرماتے ہیں:
حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا نے اس قدر مشک سے پانی بھرا کہ اس کے آثار ان کے سینہ پر نمایاں ہوئے۔ اور اسقدر چکی چلائی کہ ہاتھوں میں چھالے پڑگئے۔ اور اس قدر گھر میں جاروب کشی کی کہ لباس گرد آلود ہوگئے۔ اور کھانے پکانے کی خاطر اس قدر چولہے کی آگ جلائی کہ جس کے سبب لباس دھوئیں میں سیاہ ہوگئے۔ ان تمام کاموں سے فاطمہ سلام اللہ علیہا نے اپنی زندگی میں بہت زیادہ سختی و رنج اٹھائے۔

34: فاطمہ سلام اللہ علیہا فرمانبردار زوجہ
حضرت علی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
قسم بہ خدا!۔۔۔۔۔ فاطمہ سلام اللہ علیہا نے مجھے کبھی رنج نہیں دیا اور نہ ہی کسی کام میں میری ان سے کبھی تکرار ہوئی اور میں جب بھی غمگین ہوتا تھا فاطمہ سلام اللہ علیہا کے چہرے کو دیکھ کر میرے سارے رنج و غم دور ہوجایا کرتے تھے۔

35: نور خدا سے نور فاطمہ سلام اللہ علیہا
رسول اکرم  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
میری بیٹی فاطمہ سلام اللہ علیہا کا نور خدا کے نور سے ہے اور میری بیٹی فاطمہ زمین و آسمان سے برتر و افضل ہے۔

36: سر بالین فاطمہ سلام اللہ علیہا
امام باقر و امام صادق علیہما السلام نے ارشاد فرمایا:
جب تک پنجتن پاک محمدؐ  علی ؑ  فاطمہؐ  حسن ؑ  حسین ؑ  کے چہروں کو نہ دیکھ لیں انسان کی روح پر بدن سے خارج ہونا حرام ہے۔ مگر یہ کہ دیکھنے والی آنکھیں انھیں دیکھنے سے یا تو روشن ہوجاتی ہیں یا پھر تاریک و محزون ہوجایا کرتی ہے۔

37: فاطمہ سلام اللہ علیہا اور درجہ شہادت
امام کاظم علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
یقینا فاطمہ سلام اللہ علیہا صیدیقہ شہیدہ ہیں۔

38: جنت مشتاق فاطمہ سلام اللہ علیہا
پیغمبر اکرم  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
جنت چار عورتوں کی مشتاق ہے۔۱۔ مریم بنت عمران۔ ۲۔آسیہ بنت مزاحم (زوجہ فرعون)۔ ۳۔ خدیجہ بنت خویلد۔ ۴۔ اور فاطمہ بنت محمد ؐ۔

39: فاطمہ سلام اللہ علیہا اور بچے
امام صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
بے شک ہمارے مومن شیعوں کے بچوں کی پرورش فاطمہ سلام اللہ علیہا کرتی ہیں۔

40: شفاعت فاطمہ سلام اللہ علیہا
رسول اکرم  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
اے فاطمہؐ! میں تمہیں بشارت دیتا ہوں کہ خدا کے نزدیک تمہیں محترم مقام عطا کیا گیا ہے جہاں سے تم اپنے چاہنے والوں اور شیعوں کی شفاعت کروگی۔

منابع:
(۱) بحارالانوار: ج۴۳، ص۶۵۔
(۲) بحار الانوار:ج۲۷، ص۱۱۶۔
(۳) دلائل الامامۃ، ص۲۸۔
(۴) بحار الانوار:ج۲۲، ص۴۸۴۔
(۵) بحار الانوار:ج۷۸،ص۱۱۲۔
(۶) عیون اخبار الرضا علیہ السلام: ج۲، ص۴۶۔
(۷) اصول کافی: ج۶، ص۱۹۔
(۸) اصول کافی: ج۴۸۔
(۹) بحار الانوار:ج۵۳، ص۱۸۰۔
(۱۰)بحار الانوار:ج۴۳، ص۱۱۷۔
(۱۱)امالی شیخ مفیدؒ :ص۲۵۹۔
(۱۲) امالی شیخ صدوقؒ :ص۴۸۶۔
(۱۳) امالی شیخ مفید:ؒ ص۹۴۔
(۱۴) بحار الانوار:ج ۷۶، ص۳۵۴۔
(۱۵) اصول کافی: ج۱، ص۱۹۵۔
(۱۶) معانی الاخبار: ص۱۰۷۔
(۱۷) اصول کافی: ج۳، ص۳۴۳۔
(۱۸) بحار الانوار:ج۷۸، ص۲۴۹۔
(۱۹) بحار الانوار:ج۷۳، ص۳۵۴۔
(۲۰)بحار الانوار:ج ۴۳،ص۵۸۔
(۲۱) من لا یحضر الفقیہ: ج۱، ص۵۶۴۔
(۲۲)بیت الاحزان: ص۱۹، بحار الانوار:ج۴۳، ص۳۲۔
(۲۳)بحار الانوار:ج۲۲،ص۴۹۰۔
(۲۴) التوحید: شیخ صدوقؒ: ص۱۱۷۔
(۲۵)بحار الانوار:ج۳۹، ص۳۵۲: کتاب سلیم بن قیس : ص۸۳۰۔
(۲۶) معانی الاخبار: ص۵۸۔
(۲۷) بحار الانوار:ج۲۴، ص۷۴: معانی الاخبار: ص۱۱۴۔
(۲۸)بحار الانوار:ج۴۳، ص۴۶: مناقب: ج۳، ص۳۳۷۔
(۲۹) وسائل الشیعہ: ج۲، ص۸۷۹۔
(۳۰) بحار الانوار:ج۶۶، ص۱۷۷۔
(۳۱) خصال: ج۲، ص۴۱۴۔
(۳۲) عیون الاخبار الرضا علیہ السلام: ج۲، ص۵۹۔
(۳۳)علل الشرائع: ج۲، ص۳۶۶۔
(۳۴) بحار الانوار:ج۴۳، ص۱۳۴۔
(۳۵) بحار الانوار:ج۱۵، ص۱۰۔
(۳۶) کشف الغمۃ: ج۱، ص۴۱۴۔
(۳۷)اصول کافی: ج۱، ص۴۵۸۔
(۳۸) بحار الانوار:ج۴۳، ص۵۳۔
(۳۹)بحار الانوار:ج۶، ص۲۲۹: تفسیر علی بن ابراہیم: ج۲، ص۳۳۲۔
(۴۰)بحار الانوار:ج۷۶، ص۳۵۹۔
 
 

 


 
امتیاز دهی
 
 

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر
 

اس بارے میں پڑہیں:
والدین کےبارے میں چالیس حدیثیں (پہلا حصہ)
  • 2017.11.13 понедельник والدین کےبارے میں چالیس حدیثیں (پہلا حصہ)
    اگرچہ ہمارا وجود خدا کی طرف سے ہے، لیکن ہماری زندگی کا سبب والدین ہیں اور ہم ان دو ہستیوں کے وجود کا شاخہ  اور ان کی بے نظیر مھر و محبت، تربیت ، عاطفہ  کے باغ کا ثمر ہیں۔ انسان جب قدرتمند ہو جاتا ہے  اور کسی منصب پر  پہنچ جاتا ہے تو وہ اپنا بچپنا اور اپنی ناتوانیوں کو بھلا دیتا ہے
عزاداری کے متعلق چالیس حدیثیں (دوسرا حصہ)
کربلا کے متعلق چالیس حدیثیں (دوسرا حصہ)
کربلا کے متعلق چالیس حدیثیں (پہلا حصہ)
امام رضا علیہ السلام کی چالیس حدیثیں(2)
  • 2016.8.2 вторник امام رضا علیہ السلام کی چالیس حدیثیں(2)
    امام رضا علیہ السلام کی چالیس حدیثیں مختلف موضوعات پر۔۔۔تم پر لازم ہے کہ اپنے دین و دنیا کے امور میں رازدار رہو، روایت ہوئی ہے کہ فاش کرنا کفر ہے، اور روایت ہوئی ہے کہ جو اسرار کو فاش کرتا ہے وہ قاتل کے ساتھ قتل میں شریک ہے، اور روایت ہوئی ہے کہ جس چیز کو تم دشمن سے خفیہ رکھتے ہو تمہارا دوست بھی اس سے واقف نہ ہونے پائے۔۔۔۔
[Part_khabar]

امام رضا علیہ السلام کی ملکوتی بارگاہ ایک ایسا دروازہ ہے جوخدا کی طرف کھلتا ہے۔ یہ ملکوتی بارگاہ ہر اس شخص کے لئے پناہ گاہ ہے جو رازونیاز کرنے کے لئےاس کی طرف دوڑا چلا آتا ہے، امام علی ابن موسیٰ الرضا علیہ السلام نے اپنی آغوش رحمت کو اپنے چاہنے والوں کے لئے پھیلا رکھاہے اور توس کی سرزمین پر اپنے وجود کی خوشبوسے اپنے زائرین اور مجاورین کی روح اور جان کو محبت اور رأفت سے نوازتے ہیں۔ لیکن ایسے آسمانی اور ملکوتی گوھر کا مہمان اور میزبان ہونا بھی کوئی آسان کام نہیں ہے ۔اور ایک ایسی فضا اورماحول کو جو امام ھمام کی شأن و منزلت کے مطابق ہو ایجاد کرنے کے لئے مسئولیت کا قبول کرناایک مھم اور مشکل کام ہے ۔ اس مھم کام کی ذمہ داری ادارہ ’’آستان قدس رضوی‘‘ کے اوپر ہے۔ ’’آستان قدس رضوی‘‘ رسمی طور پر ایک ایسے مجموعہ ہے جو حرم امام رضا علیہ السلام  اور اس کی موقوفات اور جتنے بھی اس کے متعلقات ہیں ان کی سرپرستی اور مدیریت کرتا ہے۔ یہ ادارہ اپنی تمام تر تلاش کو بہ روئے کار لاتے ہوئے امام رضا علیہ السلام کے زائرین اور مجاورین کی ضروریات کو نذورات اور زائرین کی موقوفات پر تکیہ کرتے ہوئے پوری کرتا ہے۔ حریم مقدس حرم کی نوسازی ومرمّت  اور اس کی حفاظت اور زائرین کی میزبانی کے لئےمتبرک مقامات کی آمادہ سازی، معرفت اور آسانی سے زیارت کرنے کے لئے مختلف امکانات کا مھیا کرنا، زائرین کی راھنمائی اور۔۔۔ یہ چند ایک آستان قدس رضوی کی ایسی خدمات ہیں جن کو پہلی نگاہ میں مشاھدہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن آستان قدس رضوی کی فعالیتوں کی حد و حدود ،حرم مطہر کے وسیع وعریض ابعاد سے بھی فراتر ہے۔ میوزیم، لائبریریز، یونیورسٹیاں اور مدارس، میڈیکل سینٹر اور ہسپٹلز اور انڈسٹریز سینٹرز،آستان قدس رضوی کی چند ایک دوسری فعالیتیں ہیں۔ اس ادارے کے مھم اھداف سےمزید آشنا ہونے کے لئے آپ آستان قدس رضوی کی بیس سالہ کی گئی پلاننگ کے مجوزات کو دیکھ سکتے ہیں۔