روضہ منوره حضرت امام علی رضاؑ کی ویب سائٹ

1394/7/7 سه شنبه

ولایت فقیہ قرآن اور حدیث کی روشنی میں

.
ولایت فقیہ قرآن اور حدیث کی روشنی میں

(خطیب: جناب حجت الاسلام والمسلین غلام محمد فخر الدین)

اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم۔
 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
 قال اللہ تبارک و تعالیٰ و قولہ الحق۔ اللہ ولیُّ الذین آمنوا یخرجہم من الظلمٰات الی النور۔ والذین کفروا اولیآئھم الطاغوت یخرجونہم من النور الی الظلمٰات اولآئک اصحاب النار ھم فیھا خالدون۔

میں آپ تمام زائرین حضرات کو حضرت ثامن الحجج حضرت علی ابن موسی الرضا علیہم السلام کی اس ملکوتی، معنوی اور نورانی بارگاہ میں خوش آمدید کہتا ہوں اور ساتھ ہی ساتھ خداوندعالم سے دعا گو ہوں کہ خدا وندا علام  آپ کے معنوی اور  نورانی سفر نیز اس عظیم امام  کوجس کے مرقد پہ آپ تشریف فرما ہیں خود انھیں امام روؤف کی برکت سے آپ کے لئے آخرت کا ذخیرہ قرار دے ۔

آج کا ہمارا موضوع  ولایتِ فقیہ ہے جس کا ہم  قرآن وحدیث کی روشنی میں جائزہ لیں گے۔ انشاء اللہ اس موضوع کے ذیل میں چند معروضات آپ کی خدمت میں عرض کروں ۔ قرآن مجید نے صاف صاف دو قسم کے ولایت کا اعلان کیا ہے ، ہم نے  جس آیت کی تلاوت کا  شرف حاصل کیا ہے اس میں دو ولایتوں کا اعلان ہورہا ہے
ایک  رب العالمین کی ولایت۔ اور
ایک طاغوت کی ولایت  ۔
 
ولایت کا سلیس  ترجمہ اور معنی سرپرستی کے  ہیں، سرپرستی یعنی ہماری جان، مال ، ناموس اور عزت ، سب اُس سرپرست کے حوالے ہے ۔ تو قرآن میں ایک ولایت اللہ کا تذکرہ ہےاور ایک ولایتِ طاغوت کا۔  مجموعی طور پر دو ولایتوں کا تذکرہ آیا ہے جیسا کہ اس آیت میں رب العالمین اشاد فرمارہا ہے ، اللہ ولیُّ الذین آمنوا۔ جو صاحب ایمان ہیں ، جو مؤمن ہیں اُن کا ولی اللہ ہے  کیونکہ اُنہوں نے اللہ کی ولایت کو قبول کرلیا ہے اب اُس کے مقابلہ میں کافر ہے ، والَّذین کفروا، اور جنہوں نے کفر اختیار کیا ہے ، اولیآئھم الطاغوت، اُن کا سرپرست اور ولی طاغوت ہے ۔ یعنی مراد یہ ہے کہ مؤمنین نے اللہ کو اپنا سرپرست بنایا ہے  اور کفار نے طاغوت کو اپنا سرپرست بنایا ہے ۔ اب اللہ کے مقابلے میں طاغوت ہے ، نظامِ خدا کے مقابلے میں نظامِ طاغوت ہے ، خدا کی سرپرستی کے مقابلے میں طاغوت کی سرپرستی ہے ، رحمٰن کی سرپرستی کے مقابلے میں شیطان کی سرپرستی ہے ،مجموعی طور پر دو ولایتوں کا تذکرہ ہے ، ایک ولایتِ اللہ ، اور ایک ولایتِ طاغوت۔ جو مؤمن ہے اللہ ولیُّ الذین آمنوا، صاحبانِ ایمان  کا ولی و سرپرست اللہ ہے ۔
    وہلوگ  جنہوں نے اللہ کو اپنا ولی قرار دیا ہے تو اللہ کا کام کیا ہے، اُس عظیم ولی کا کام کیا ہے ،  اللہ ولی الذین آمنوا یخرجھم من الظلمٰات الی النور۔ اس کا کام مؤمنین کو ظلمات سے ، تاریکی سے ، گمراہی سے نکال کر ہدایت  اور نور کے شاہراہ پر گامزن کرنا ہے۔ جو گمراہی میں ہیں اُنہیں ہدایت دینا ہے، جو ظلمات میں ہیں اُنہیں روشنی دیتا ہے ، جو بدبختی میں ہیں اُنھیں نیک بخت بنا دیتا ہے ، جو فسق و فجور میں غلطاں ہیں اُنہیں بندگی، عبادت، تقویٰ اور عبودیت کی منزل تک پہچاتا ہے۔ لیکن جنہوں نے شیطان کو ، طاغوت کو ، نظام فسق و فجور کو اپنا سرپرست بنایا ہے ، والَّذین کفروا اولیآئھم الطاغوت، جو لوگ کافر ہوچکے ہیں ، خدا کےمنکر ہوچکے ہیں  اُن کے اولیاء طاغوت ہیں۔ یخرجھم من النور الی الظلمٰات۔ جو اُنھیں نور سے نکال کر ظلمات اور گمراہی کے راستے پر ڈال دیتے ہیں ، ہدایت سے نکال کر گمراہی کے راستے پر ڈال دیتے ہیں ۔

      دو مجموعی ولایتوں کا تذکرہ ہوا ہے اب باقی جن ولایتوں کے تذکرہ ہے وہ انھیں کا شاخے ہیں ۔ مثلا خدا کی ولایت کے ساتھ ساتھ ولایت انبیاء کا بھی تذکرہ ہے ، ولایتِ ائمہ کا بھی ذکر ہے لہٰذا  قرآن میں اور شاد ہوتا ہے، انما ولیکم اللہ و رسولہ والذین آمنوا الذین  یقیمون الصلوٰۃ و یوتون الزکوٰۃ و ھم راکعون۔ یہاں پر بھی خدا نے تین ولایتوں کا تذکرہ کیا ہے ، خدا مؤمنین کا ولی ہے ، انما ولیکم اللہ ۔۔تمہارا ولی صرف اور صرف اللہ ہے ، سرپرست اللہ ہے ، ایک۔ و رسولہُ،اور اس کا رسول ؐ اللہ کے بعد تمہارے سرپرست ہیں ، اور تیسرا ولی ،  والذین آمنوا الذین  یقیمون الصلوٰۃ و یوتون الزکوٰۃ و ھم راکعون، وہ ذات جو صاحب ایمان بھی ہے ، نماز قائم کرتا ہے اور رکوع کی حالت میں زکات دیتا ہے ۔ جناب ابو عبد الرحمٰن جلال الدین سیوطی جو اہل سنت کے عظیم مفسرین اور علماء میں سے ہیں وہ کتاب ِ  دُرّالمثور فی تفسیرالماثور میں اس آیت کے ذیل میں فرماتے ہیں:  اس آیت کا مصداق  اتمّ ، جو صاحب ایمان بھی ہو، نماز قائم بھی کرتا ہو اور رکوع کی حالت میں سائل کو زکات بھی دیتا ہو ، وہ صرف اور صرف اس روئے زمین پر اس عالم ِ ہستی میں ایک ہی ہستی ہیں جو حضرت امیرا المؤمنین علی ابن ابیطالب علیہم السلام ہیں ۔ اب یہاں پر ولایتِ اللہ کے ساتھ ساتھ ولایتِ پیمبرؐ کا بھی تذکرہ ہوا ہے اور ولایتِ ائمہؑ کا بھی ذکر ہوا ہے۔ وہ ولایتِ اللہ کا سلسلہ ہے ، اب ہم جو ولایت فقیہ کا تذکرہ کرتے ہیں یہ بھی ولایت اللہ  و رسولؐ اور ولایتِ ائمہؑ کا سلسلہ ہے ۔ بعض لوگوں کا خیال اور سوچ یہ ہے کہ ولایتِ فقیہ کا جو نظام امام خمینیؒ نے پیش کیا ہے اِس سے پہلے فقہاء نے اس کا تذکرہ کیوں نہیں کیا؟ کیا قرآن کے ذریعے سے ولایتِ فقیہ ثابت ہے؟ کیا  حدیث پیمبرؐ کے ذریعے  ولایتِ فقیہ ثابت ہے ؟ کیا سیرتِ معصومینؑ کے ذریعے ولایتِ فقیہ ثابت ہے ؟ کیا ہمارے علمائے اسلاف کی سیرت  میں ولایتِ فقیہ ثابت ہے ؟  آپ ولایت فقیہ کہیں یاحکومتِ اسلامی کہیں ، طاغوتی نظام کے مقابلے میں ، فاسق نظام کے مقابلے میں ، فاجر نظام کے مقابلے میں ، خدا دشمن قوتوں کے مقابلے میں جس نظام کا تصور امام خمینیؒ نےپیش کیا ، جس نظام کو امام خمینیؒ  لے کر آئے ہیں ، جس نظام کا تعارف امام خمینیؒ نے کرایا ، جس اسلامی سیاسی نظام  کا امام خمینیؒ نے اعلان کیا ہے اُس سیاسی نظام کا نام ولایتِ فقیہ ہے۔

      آپ اسے نظام اللہ بھی کہہ سکتے ہیں اور اُسے نظام خدا بھی کہہ سکتے ہیں ، آپ اسی کو ولایتِ فقیہ بھی کہہ سکتے ہیں اور اسی کو حکومتِ اسلامی بھی کہہ سکتے ہیں ۔   ولایتِ فقیہ کا جو نظریہ امام خمینیؒ نےپیش کیا ہے یعنی امام معصومؑ کی غیر موجودگی میں  اسلامی امت کے لئے اور اسلامی معاشرے کے لئے فقیہ کی سرپرستی حاصل ہوجائے  یہ ولایتِ فقیہ کا نظریہ امام معصومؑ کی غیر موجودگی میں ۔ یعنی مراد یہ ہے کہ جب امام عصرؑ تشریف لائیں گے پھر ولایت فقیہ کا کوئی تصور نہیں ہے ، ولایتِ فقیہ کا عنوان ختم ،پھرامام کے معصوم کے ہوتے ہوئے کسی فقیہ کی ولایت کا تصور اسلام میں نہیں ہے ۔ ولایتِ فقیہ کا تصور اس وقت ہے جب اس ظاہری دنیا میں ظاہری طور پر امام معصوم ؑ موجود نہ ہوں ورنہ  خدا کی نیابت میں اور رسول اللہؐ کی نیابت میں روئے زمین پر جس ہستی کو حکومت کرنے کا حق ہے جس کو خدا نے انسانوں کے لئے حاکم بنادیا ہے سرپرست بنایا ہے ، ناظر بنایا ہے اور جس کو  ولایت حاصل ہے وہ امام معصومؑ ہیں ، امامِ معصومؑ کی موجودگی میں کسی بھی ولایتِ فقیہ کا کنسپٹ اسلام میں نہیں ہے ۔

       ولایتِ فقیہ یعنی فقیہ کی حکومت یعنی روئے زمین پروہ ہستی اور وہ ذات جس میں امام معصومؑ کی غیر موجودگی میں تھوڑا سا امام معصومؑ کا رنگ، ڈھنگ اُس میں پایا جاتا ہو ، تقویٰ کے اعتبار سے ، بصیرت کے اعتبار سے ، بندگی کے اعتبار سے اور اسی طرح پاکیزگی کے اعتبارے سے ، علم کے اعتبار سے سیاست کے اعتبار سے ، مدیریت کے اعتبار سے دوسرے انسانوں سے امام معصومؑ کے زیادہ قریب ہو اسی کا نام  ہے فقیہ اور اُس فقیہ کو یہ ولایت حاصل ہے اِسی کا نام ولایتِ فقیہ ہے ۔ 

      یہ کوئی بدعت نہیں ہے جو امام خمینیؒ لےکر آئے ہیں ۔ اب امام خمینیؒ کا فرمان ہے کہ اگر امام خمینیؒ سےپہلےکسی نےاس نظرئے کو پیش نہیں کیا ہے، اس کنسپٹ کو بیان نہیں کیا ہے، ولایت فقیہ کا اعلان نہیں کیا ہے وہ دو وجوہات  کی بنیاد پر ہے ۔ یا تو وہ اس کو نا ممکن سمجھتے تھے جیسے کہ بہت سارے فقہاء کے تصور میں ولایت فقیہ کا  نظر یہ تھالیکن ایک نظام طاغوت کو سرنگون کرکے ایک ریشہ دار ڈہائی ہزار سالوں پر مشتمل بادشاہی نظام کو ختم کرکے فقیہ کی حکومت علماءکی حکومت روحانیت کی حکومت  خدا والوں کی حکومت ہو وہ اسے  ناممکن سمجھتے تھے، اسی لئے بہت سارے علماء نے امام خمینیؒ سے  درخواست کی  کہ آپ ناممکنات کی طرف نہ جائیں ، ممکن کام  ہی نہیں ہے  یہ اتنی قدرت مند حکومت ہے ، پاورفُل گورنمنٹ ہے ، جاسوسی نیٹ ورک اِس کا اس قدر مضبوط ہے کہ کوئی آدمی حکومت کے خلاف سانس بھی نہیں  نکال  سکتا ہے ایسے میں آپ یہ چاہتے ہیں کہ ایک مولوی ، ایک عالمِ دین ایک مجتہد اس مضبوط حکومت کے خلاف قیام کرے، اور اس نظام کو سرنگون کرکے روحانی حکومت قائم کرے۔اس کو نااُمیدی کی نگاہ سے دیکھتے تھے نہ کہ ولایت فقیہ کے منکر تھے ،وہ اسے  ناممکن سمجھتے تھے اِس بنیاد پر امام سے کہا کہ  آپ اس میں ہاتھ نہ ڈالیں کیونکہ یہ کام  ناممکن کام ہے ایک یہ نظریہ ہے۔

      کچھ لوگ اصلاً اس تصور سے بالکل دور تھے وہ اس بنیاد پر ہے کہ اُن کاعقیدہ اور دینی بصیرت ہے ، کہ عصر غیبت میں اسلام میں کوئی  سیاسی نظامِ  نہیں ہے ، اسلام میں کوئی اقتصادی  نظام نہیں ہے ، اسلام میں کوئی اجتماعی نظام نہیں ہے ، اسلام میں کوئی حکومتی نظام نہیں ہے ، اُن کے اندر یقیناً بصیرت نہیں ہے، انہوں نے حقیقتِ اسلام کو نہیں سمجھا ہے ۔

       شہید باقر الصدرؒ فرماتے ہیں کہ جو یہ تصور کرتا ہے کہ عصر غیبت میں اسلام میں کوئی نظام سیاست اور نظام حکومت نہیں ہے اُنہوں نے اسلام کو سرے سے سمجھا ہی نہیں ہے ، مثال پیش کرتا ہوں کہ شہید ؒ فرماتے ہیں کہ ہر شئی کے لئے اس دنیا میں ایک فلسفئہ وجودی ہے ، اس منبر کا ایک فلسفئہ وجودی ہے وہ یہ کہ اس منبر کو کیوں وجود میں لایا گیا ؟ اس منبر کو اس لئے وجود میں لایا گیا تاکہ جو ذاکرین ہیں جو علماء ہیں وہ یہاں پہ آئیں اور  مداح سرائی  کریں یا خطابت کریں یا تقریریں کریں اس منبر کا ایک فلسفئہ وجود ی یہ ہے۔ ما من شئیٍ، کوئی شئی اس دنیا میں ایسی نہیں ہے جس کے وجود میں لانے کی کوئی علت اور فلسفہ نہ ہو۔ اسی طرح اسلام کا بھی ایک فلسفہ ہے ۔ فلسفئہ اسلام کیا ہے ؟ اسلام کا فلسفہ یہ ہے کہ لوگوں سے نماز پڑھوائے ، لوگ روزہ رکھیں ، لوگ جھوٹ نہ بولیں ، جھوٹ بولنا حرام ہے ، غیبت نہیں کرنا چاہئے ، لیکن کیا اسلام کو صرف اس لئے وجود میں لایا گیا کہ لوگ صرف نمازیں پڑھیں ،اور دیگر احکام بجا لائیں ،اور اس  فسلفئہ وجود اسلام کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اسلام کو کیوں وجود میں لایا گیا ہے ۔ اسلام کو خدا  اگر وجود میں لایا ہے اور شریعتِ محمدؐ کو ایک آئین کی شکل میں اگر خدا نے آسمان سے زمین کی جانب نازل فرمایا ہے تو اس کا ایک فلسفہ ہے اور وہ فلسفہ یہ ہے کہ روئے زمین پر خدا کی حکومت ہو۔ یہ فلسفئہ وجودِ اسلام ہے جیسے کہ قرآن مجید کی مختلف آیا ت میں ہے نا کہ اگر انبیاء کو بھیجا ہے تو اسی نے بھیجا ہے ، اگر ائمہؑ کو بھیجا ہے تو اسی ہی نے بھیجا ہے اگر خاتم النبینؐ کے سر پر تاجِ نبوت و امامت سجاکر بھیجا ہے تو اسی خدا نے بھیجا ہے ، اگر آسمان سے کسی نے صحف بھیجا ہے تو اسی نے بھیجا ہے انبیاء و مرسلین کو بھیجا ہے تو اسی نے بھیجا ہے ، دستورِ لازوال بھیجا ہے تو اسی نےبھیجا ہے کہ اس دنیا پر خدا کی حکومت قائم ہو یہ فلسفئہ وجودِ اسلام ہے ۔ اسلام میں اگر نظامِ حکومت نہ ہو، اسلام میں اگر نظام سیاست نہ ہو تو پھر کچھ باقی نہیں رہے گا پھر نمازوں کی روزوں کی ضرورت نہیں ہے اگر اس دنیا میں نظام ِخدا قائم نہ ہو۔ جیسا کہ زیارت جامعہ کبیرہ میں حضرت امام ھادیؑ کا ارشاد گرامی ہے کہ ، السلام علیک یا اہل بیت النبوۃ و موضع الرسالۃ و مختلفَ الملائکۃ و مھدِکَ الوحی و معدنُ الرحمۃ و خزّان العلم و منتھی الحلم و اصول الکرم و قادۃَ الامم و اولیآء النعم و عناصر الابرار و دعائم الاخیارو ساسۃَ العبادِ ۔ بہترین سیاست مدار کون ہیں ؟ آل محمدؑ ہیں۔ اسلام سے اگر نظامِ سیاست کو جدا کرلیا جائے  تو کوئی چیز باقی نہیں رہتی ۔ کیا امام حسینؑ کو یزید نے نمازوں سے روکا تھا؟ کیا روزے سے روکا تھا کہ آپ روزہ نہ رکھیں ؟ امام مجتبیٰ ؑ نے پچیس مرتبہ پیادہ حج ادا فرمایا تھا کیا کسی حکمراں نے روکا تھا ؟ کیا مسلمانوں کو نماز تہجد سے روکا تھا ؟ کیا مسلمانوں کو نماز، روزوں سے روکا تھا ؟ کیا  اسلام کی عبادات سے نماز روزے سے طاغوتی نظام کو کوئی خطر لاحق ہوتا تھا ؟ امام حسینؑ کو کس بات کی طرف دعوت دی گئی تھی؟ یہی اسلام کا سیاسی نظام ہے کہ طاغوت کی بیعت کرے طاغوتی حکومت کے اس نظام کو قبول کرے۔اس طاغوتی حکومت کو قبول کرنے اور اس کی بیعت کرنے سے امام حسینؑ نے انکار کیا ہے ۔ اسلام عینِ سیاست ہے بشرطیکہ دیانت کے تابع ہو ۔

       شہید قائدؒ علامہ عارف حسین الحسینیؒ کا فرمان ہے کہ ، ہمارے پاس مکتب اسلام میں مکتب تشیع میں جس چیز کو محوریت حاصل ہے وہ دیانت اور اسلام ہے اور سیاست ہمارے دیانت کے اردگرد چکر لگاتی ہے ۔ دیانت کے ساتھ ساتھ سیاست ضروری ہے اگر اسلام سے سیاست کو دور کرلیا جائے  اگر اسلام سے حکومت کو دور کر لیا جائے  تو طاغوتی حکومت تو یہی چاہتی ہے کہ آپ نمازیں پڑھتے رہیں ، روزے رکھتے رہیں ، حج ادا کرتے رہیں لیکن بے روح نماز ،بے روح روزے ، بے روح حج ۔ حج بھی ایک سیاسی عبادت ہے کیا واقعاً  منیٰ میں جاکے جو تین شیطانوں کو پھتر مارتے ہیں کیا واقعاً شیطان وہاں پہ کھڑا ہے ، ڈر محسوس کرتا ہے ، یہ ایک سیاسی عبادت ہے آپ کو طاغوتی نظام کو ٹھکرانا ہے آپ کو توحید کے گرد چکر لگانے کے بعد، طواف انجام دینے کے بعد منیٰ میں جاکے شیطان کو پتھر مارنے کا فلسفہ یہی ہے کہ ، امام زین العابدینؑ کے فرمان کے مطابق  یعنی خانہ خدا کے گرد چکر لگانا خدا کی توحید کے اقرار کے ساتھ ساتھ نظامِ خدا کو قبول کرنے کے ساتھ پھر منیٰ میں جاکے شیطانوں کو پتھر مارنا وقت کے ہر یزید اور طاغوتی نظام کو ٹھکرانے کا نام ہے ۔ وہاں بھی بندگی اور عبادت سیاسی  عبادت ہے ۔

       حج ایک  مکمل سیاسی عبادت ہے اس کو مکمل طریقے سے سمجھنے کی ضرورت ہے ، فلسفئہ حج کو سمجھنے کی ضرورت ہے ، فلسفئہ نماز کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ امام معصومؑ کے فرمان کے مطابق:کہ اگر تم ہماری عبادات کی طرف نگاہ کروگے تو  ہماری ہر عبادت  میں سیاسی پہلو پاوگے  ۔ نماز میں بھی ایک سیاسی پہلو ہے ، روزے میں بھی ایک سیاسی پہلو ہے ، حج کے اندر بھی ایک سیاسی پہلو ہے ، اگر سیاست کو نکال دیا جائے تو اسلام ایک جسمِ بے روح بن کررہ جائے گا۔ سیاست ضروری ہے ، نماز  روزہ حج و زکات اس وقت قائم رہ سکتا ہے کہ حکومت اسلام کا قائم ہوجائےاسلامی حکومت قائم ہوجائے ۔ نظام اللہ قائم ہوجائے ، نظام خدا قائم ہوجائے اگر حاکم صالح ہو حاکم متقی ہو تو  روئے زمین پر خدا کا نظام قائم ہوسکتا ہے ۔

       فلسفئہ اسلام حکومت ہے امام خمینیؒ نے فرمایا: کہ اگر ہم حکومتِ اسلامی کا نعرہ بلند نہ کریں ،اگر ہم ولایتِ فقیہ کا نعرہ بلند نہ کریں اگر ہم طاغوتی نظام کے خلاف اپنا احتجاج بلند نہ کریں تو سمجھ لیجئے کہ ہم نے اسلام کو نہیں سمجھا ہے ۔ شہید باقر الصدرؒ  فرماتے ہیں :کہ ایسا انسان فلسفئہ حقیقت اسلام سے آگاہ نہیں ہے ۔ہمیں اگر کوئی یہ کہے کہ آپ ولایتِ فقیہ کو قرآن سے ثابت کریں اسی لفظ کے ساتھ تو آپ اُن سے سوال کریں کہ بارہ امامؑ کےنام ہمیں قرآن میں دکھا دیں ۔ ایک بھی امام کا نام قرآن میں نہیں ہے۔ ائمہؑ کا نام قرآن میں آنا ضروری نہیں ہے؛ قرآن مجید میں اگر صرف ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کے نام ہی آجائیں تو اس قرآن کے دس برابر ہوجائے ۔ قرآن میں کلیات بیان ہوئے ہے ۔ اب تمام مسلمانوں کا ایمان ہے یا نہیں ہے ۔ ہم اور  اہل سنت برادران آپس  میں بھائی  بھائی کی طرح ہیں ہمیں اس دور میں اس ماحول میں جہاں طاغوتی نظام اسلام کو شکست دینے کے درپےہیں ہمیں شیعہ سنی برادران کو ملاکر طاغوتی نظام کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے؛ انتہائی محبت کے ساتھ اور دشمن یہی چاہتا ہے کہ شیعہ سنی آپس میں لڑیں ۔ لاہور میں ایک سنی برادر جو مجلس میں آتے تھے انھوں نے سوال کیا کہ ائمہؑ جو آپ کے بارہ امام ہیں اُن میں سے کسی ایک کا نام ہے قرآن میں ہے ؟ میں نے کہا کہ ہم تمام مسلمان ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء پر ایمان رکھتے ہیں یا نہیں رکھتے ؟ کوئی مسلمان ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء پر ایمان نہ رکھے تو وہ مسلمان نہیں ہے ، ملائکہ پر بھی ایمان رکھنا چاہئے ، خود اہل سنت حضرات کے کلمہ میں بھی ہے ، و کتبہ و رسلہ و ملائکتہ۔۔تمام ملائکہ کے نام قرآن میں  ہیں ؟ ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاءکے نام قرآن میں ہیں ؟ صرف ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کے نام قرآن میں آئیں تو موجودہ قرآن برابر ہوجائےگا ۔ تو کیا اس بنیاد پر کہ اگر ہمارے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کا نام قرآن میں نہیں ہیں تو کیا ہم انبیاء کو نہیں مانیں گے ؟ قرآن نےکلیات کو بیان کیا ہے ضروری نہیں ہے نام آئیں ۔ ضروری نہیں ہے کہ قرآن میں صراحتاً لفظ ولایتِ فقیہ آئے ۔ قرآن نے طاغوتی نظام کے خلاف ڈٹ جانے کا حکم دیا ہے قرآن نے الہی نظام قائم کرنے کا حکم دیا ہے ۔ یا داؤد انا جعلنٰک خلیفۃً فی الارض فاحکم بین الناس بالعدل۔ اے داؤد! ہم نے آپ کو زمین پر خدا کا خلیفہ بنادیا ہے پس آپ لوگوں کے درمیان عدالت کے ساتھ حکم کریں۔لوگوں کے درمیان عدالت کے ساتھ حکم کون کر سکتا ہے ؟ جس کے ہاتھ میں حکومت ہو۔ جس کے ہاتھ میں حکومت ہی نہ ہوتو کیا  وہ لوگوں کے درمیان عدالت کے ساتھ حکم کرسکتا ہے ؟ بھائی جب حکومت ہی نہ ہو تو بات مانے گاکون ؟ و لقد بعثنا فی کل امۃٍ و رسولاً انِ اعبدوا اللہ واجتبوا الطاغوت۔ ہر امت میں خدا نے کوئی نہ کوئی پیغمبر بھیجا ہے ، انبیاء کا کام کیا ہے ؟ انِ اعبدوا اللہ ، لوگوں کو خدا کی عبادت کی جانب دعوت دیں ، واجتنبوا الطاغوت، اور لوگوں کو طاغوت سے دور رکھیں ۔ لوگوں کو طاغوت سے دور رکھنے سے مراد یہ ہے کہ لوگوں کو طاغوت کے مقابلے میں کھڑا کریں۔ لوگ طاغوت کےمقابلے میں ڈٹ جائیں ، لوگ طاغوتی نظام کے خلاف بغاوت کریں ، لوگ طاغوتی نظام کو ٹھکرائیں ، طاغوتی نظام کو ٹھکرانا کافی نہیں ہے بلکہ طاغوتی نظام کو سرنگون کرکے ، طاغوتی نظام کو نابود کرکے طاغوتی نظام کو برباد کرکے پھر اس کے مقابلے میں ایک الٰہی نظام کا کنسپٹ جب تک نہ ہو تب تک جد و جہد کرتے رہیں ۔ تو خدا یہ چاہتا ہے کہ طاغوتی نظام کو گرا کر آپ پھر بیٹھ جائیں ؟ اسی نظام کو بدلنے کا اسی نظام کو گرانے کا کسی سسٹم کو ختم کرنے کا مفہوم و معنیٰ یہ ہے کہ اس نظام کے مقابلے میں کوئی بہترین نظام لے کر آئیں ۔ جب طاغوتی نظام کو توڑنے کا خدا نے حکم دیا ہے ، جب طاغوتی نظام کے ساتھ مقابلہ کرنے کا خدا نے حکم دیا ہےجب طاغوتی نظام کے ساتھ لڑنے کا خدا نے حکم دیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس طاغوتی نظام کے ساتھ ساتھ ایک الٰہی نظام ایک خدائی نظام قائم ہو۔اور  ایک ایسا  خدائی نظام کا کنسپٹ اسلام میں پایا جاتا ہے ۔

        طاغوتی نظام ، فاسق نظام، فاجر نظام ، جابر نظام ، شیطانی نظام غیرِ الٰہی نظام کے مقابلے میں جس نظامِ حکومت اور جس نظام سیاسیت کا اسلام نے نظریہ پیش کیا ہے وہ عصرِ غیبت کبریٰ میں نظام ولایتِ فقیہ ہے ، فقیہ کی حکومت۔ اب فقیہ کی حکومت کیوں ہو ؟ ایک عادل وکیل کی حکومت کیوں نہ ہو؟ ایک عادل سیاستمدار کی حکومت کیوں نہ ہو؟ ایک عادل جج کی حکومت کیوں نہ ہو ؟ کیوں فقیہ ہی کی حکومت ہو ؟ اس سوال کا جواب یوں دیا جاسکتا ہے کہ ، ہمارے عظیم فقیہ جس کا نام ہے صاحب جواہر شیخ محمد حسنِ نجفی کتاب جواہر ہے دس جلدوں پر مشتمل  ہے، ہمارے مراجع و مجتہدین میں سے جب تک کوئی اس کتاب کا مکمل دقیق مطالعہ  نہ کرے  اس کتاب کو  نہ سمجھے اس کو تنقیح کرکے اس کو ہضم نہ کرے اس کتاب کے بارے میں جب تک صاحبِ نظر نہ ہو جائے تب تک  وہ مجتہد نہیں بن سکتا ، کتاب ہے مجتہد ساز، جواہر ایک مکمل کورس ہے اجتہاد کا۔ ہمارے علماء فخر کرتے ہیں کہ ہمارے پاس فقہ جواہری ہے ۔

       شیخ محمد حسن نجفی جبل عامل  لبنان کے رہنے والے تھے اس عظیم مجتہد نے ایک کتاب لکھا ہے جواہر کے نام سے اور مجتہدین یہی کتاب پڑھ کے مقام اجتہاد پر فائز ہوتے ہیں ۔ وہ عقلی دلائل پیش کر تا ہے کہ مجتہد ہی کیوں ولایت فقیہ ہونا چاہیئے؟ اسلامی حکومت کا سرپرست مجتہد ہی کیوں ہونا چاہئیے ؟ وہ اس مسئلہ کو عقلی اعتبار سے استنباط کرتے ہیں اور استنباط کو مولا علیؑ کے فرمان سے شروع کرتے ہیں ۔ نہج البلاغہ میں مولا علیؑ فرماتے ہیں کہ ، لا بُدَّ مِن امامٍ برٍّ اوْ فاجرٍ۔ فرماتے ہیں کہ ایک حاکم ہونا ضروری ہے چاہے نیک ہویا فاسق یا  فاجر ۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ امام ؑ کے پاس فاسق حکمران اور فاجر حکمران میں کوئی فرق نہیں ہے ، حقیقت میں امامؑ یہاں اصل ضرورت حاکم  کو پیش فرماتے ہیں  کہ حکومت کے بغیر ہم زندگی نہیں کرسکتے حکومت ہونا چاہئے؛ حکومت نہ ہو تو  جس کی لاٹھی اس کی بھینس ہوجائےگی ، حکومت نہ ہو تو قتل و غارت ہو گی ، حکومت نہ ہو تو نظام خراب ہوجائے گا، حکومت نہ ہو تو نظام برباد ہوجائے گا، حکومت نہ ہو تو اس ملک کے جغرافیائی حدود کو توڑ کر لوگ اس ملک میں داخل ہوجائیں گے ؛تو کسی بھی صورت میں حکومت ہونا لازمی ہے ۔ اب حکومت عادل کی ہو تو بہت بہتر ، عادل کی حکومت اگر مؤثر نہ ہو تو حد اقل حکومت ہونا چاہئے نا۔ آپ پاکستان کی مثال لے لیں  اسلامی حکومت تو نہیں ہے نا، ولی فقیہ کی حکومت نہیں ہے لیکن حکومت نہ ہونے سے حکومت کا ہونا بہتر ہے یا نہیں ؟ حکومت نہ ہو تو  لوگ تباہ و برباد ہوجائیں گے ، نظام خراب ہوجائے گا ، حکومت نہ ہونے سے حکومت کا ہونابہتر اور واجب ہے ، اصل حکومت واجبات میں سے ہے ۔ اب صاحب جواہر کہتے ہیں  کہ عقل سے پوچھیں ، تو عقل   بتاتی ہے کہ حکومت ہو۔ اب پوچھیں کہ عادل کی حکومت ہو یا فاسق کی حکومت ہو ؟ تو آپ کو جواب ملے گا کہ اگر  عادل کی حکومت ہو تو بہتر ہے کیوں کہ عادل حکمراں لوگوں کے ساتھ عدل کے ساتھ برتاو کرتا ہے ، لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ سلوک  کرتا ہے ، لوگوں کے درمیان مساوات قائم کرتا ہے ، مظلوم کو اس کا حق دلاتا ہے ظالم کو اس کے فعل کی  سزا دیتا ہے ۔ عادل کی حکومت میسر ہو تو ہمیں عادل حکومت کی حکمرانی کے لئے کوشش کرنا چاہئے ، اب پھر صاحب جواہر فرماتے ہیں کہ پھر عقل سے پوچھتے  کہ لوگوں میں سے جس کے بارے میں یقین سے کہا جائے کہ یہ عادل ہے کون ہے ؟ وکیل ہے ؟ جج ہے ؟ سیاست مدار ہے ؟ جس کے بارے میں یقین سے کہا جائے انسانوں کے درمیان سب سے زیادہ عادل ہے وہ کون ہے ؟ مجتہد ہے جو جامع الشرائط ہو ۔ فقیہ کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان سب سے زیادہ عادل ہے ۔ پس اصل حکومت کو عقل نے ثابت کردیا ، عادل کی حکومت کو بھی عقل نے ثابت کردیا ، اب عقل سے پوچھیں کہ انسانوں کے درمیان سب سے زیادہ عادل کون ہے ، تو سب سے زیادہ عادل وہ دین شناس فقیہ ہے جو دوسروں کے نسبت میں امام معصومؑ سے زیادہ قریب ہو جس کا نام ہے مجتہدِ جامع الشرائط۔ لہٰذا عقل کی رو سے کہہ سکتے ہیں کہ عصر غیبت ِ کبریٰ میں امامِ عصر (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) جب تک ہمارے درمیان تشریف نہیں  رکھتے ہیں جس ولایت کا جس حکومت کا جس نظام کا جس سسٹم کا اسلام نے اعلان کیا ہے اُسی سسٹم اور نظام کا نام ہے ولایتِ فقیہ۔

      فقیہ کی حکومت، اگر چہ وہ   امام معصومؑ تو نہیں ہیں لیکن ہم اس شخص کی حکومت کو مانتے ہیں جو دوسروں کی بہ نسبت امام معصومؑ سے زیادہ قریب ہیں ، کس چیز میں قریب ؟ علم میں ، تقویٰ میں ، بصیرت میں ، آگاہی میں ، پس فقیہ کی حکومت یا فقہاء کی حکومت وہی اسلامی نظام ہے ۔ قرآن نے کلیات کو بیان کیا ہے کہ طاغوتی  نظام کے مقابلے میں اسلامی نظام کو قائم کرنا ہمارے اوپر واجب ہے ۔ اب عقل کی رو سے آیات کی رو سے  روایات کی رو سے سیرت کی رو سے اور انسانی بصیرت کی رو سے اگر ہم اس مصداق کو تلاش کرنا چاہیں اور ڈھونڈنا چاہیں کہ جب تک امام عصر ؑ ظہور نہیں فرمائیں گے اسلام کےلئے جس نظام کا اعلان کیا ہے اور جس سسٹم کا اعلان کیا ہے اُس نظام اور سسٹم کا نام ہے ولایتِ فقیہ۔  

     اگر آپ روایات میں جائیں تو ایک مسلم مسئلہ آپ حضرات کی خدمت میں ہم پیش کرتے ہیں کہ ائمہ معصومینؑ کے حضور میں  اُ ن کی موجودگی میں اس ظاہری دنیا میں امام معصومؑ ہر جگہ نہیں جاسکتے تھے تو کیا مختلف شہروں میں اور مختلف ملکوں میں امام اپنے نمائندئے نہیں بھیجتے تھے ؟ آپ قم جائیں حضرت معصومہ کے حرم کے اس طرف ایک مسجد ہے  جس کا نام مسجدِ امام حسن عسکریؑ  ہے، اور جناب اسحق قمی کے فرمان کے مطابق اس مسجد کو تعمیر کرایا گیا تھا۔ اُس زمانے میں جناب اسحاق قمی قم کی سرزمین پر امام حسن عسکریؑ کا نمائندہ ہوا کرتے تھے ۔ کیا امیر المؤمنین ؑ نے اپنے دور حکومت میں مختلف شہروں اور ملکوں میں آپنے نمائیدہ نہیں بھیجتے تھے ؟ کیا امام صادقؑ کے نمائیدے مختلف ملکوں اور شہروں میں نہیں تھے ؟ کیا امام رضاؑ کے دور میں دنیا کے مختلف شہروں میں جہاں شیعہ رہتے تھے کیا وہاں پہ امام ؑ کے نمائیدہ نہیں تھے ؟ جب امام صادق  ایک جگہ پر جناب زرازہ کو بھیجا ؑ نے ۔تو  کیا لوگوں سے نہیں کہا کہ آپ لوگ زرارہ کی طرف رجوع کریں ، جو زرارہ کہے گا وہی ہمارا حکم ہے ،جو محمد ابن مسلم کہے گاوہی ہمارا حکم ہے ، جو ابوحمزہ ثمالی کہے گا  وہ ہمارا حکم ہے ۔

        امام معصومؑ اپنی زندگی میں اپنی حیات میں جہاں پر امامؑ  خود بنفس نفیس نہیں جاسکتے تھے وہاں پر اپنا نمائندہ نہیں بھیجتے تھے ؟ کیا اُن کو امام معصومؑ کی طرف سے ولایت حاصل نہیں تھی ؟ اگر کوئی امامؑ کے نمائیدے کی مخالفت کرے تو کیا اسے  امام معصومؑ کی مخالفت نہیں سمجھا جائے گا ؟ اب عقل سے پوچھے جب امامؑ کےہوتے ہوئے جن شہروں میں امامؑ تشریف نہیں لے جا سکتے تھے وہاں پر امامؑ کے نمائندے کی ضرورت ہے تو اس زمانے میں امام ؑ غیبت میں ہیں ، امامؑ ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں ، تو کیا ہمارے درمیان امامؑ کا نمائندہ نہیں ہونا چاہئے ؟  جو امامؑ کی نیابت میں حکومت کرے ، جو امامؑ کی نیابت میں اس نظام کو چلائے ، جو امامؑ کی نیابت میں اس سسٹم کو آگے لے جائے جو امامؑ کی نیابت میں اسلامی معاشرے کی مدیریت کرے ، اب عقل سے پوچھے کہ امام معصومؑ کے ہوتے ہوئے جہاں امامؑ جن مقامات میں جن ملکوں میں جن شہروں میں نہیں جاسکتے تھے وہاں پر امامؑ کے نائب کی ضرورت ہے تو کیا عصر غیبت میں امامؑ تک جب ہماری رسائی نہیں ہے ،امامؑ کو ہم دیکھ نہیں سکتے ہیں امامؑ کے پاس ہم جا نہیں سکتے ہیں تو اس دور میں جہاں پر ہماری رسائی امامؑ تک نہیں ہیں وہاں پر امامؑ کی نیابت میں امامؑ کا ایک نمائندہ نہیں ہونا چاہئے ؟ ہونا چاہئے ! اسی کا نام ہے نظامِ ولایت فقیہ ۔

      جہاں پر اسلامی حکومت قائم ہوجائے البتہ جہاں پراسلامی حکومت قائم نہ ہوں تو فقیہ جامع الشرائط مرجع تقلید امام عصر ؑ کا نمائندہ ہے جہاں حکومت اسلامی قائم ہوجائے جہاں ا سلامی نظام قائم ہوجائے تو وہاں پر زمانہ کا ولی فقیہ امام زمانہ ؑ کا نمائندہ ہے ۔ بس آخر میں ایک حدیث پیش کرتا ہوں کہ توقیعات شیخ صدوق میں امام زمانہ ؑ نے فرمایا ہے کہ ، عصر غیبت کبریٰ میں( یعنی عصر غیبت صغریٰ میں تو چار نائب تھے امام کے )اب نائبینِ خاص کا سلسلہ ختم ہورہا ہے اب نائبین عام ہوں گے  اور نایبین عام کے لئے شرائط بیان ہوئے ہیں  کہ اِن شرائط کی بنیاد پر جو مجتہدین اس شرائط پر اُتریں گے وہ امام زمانہؑ کا نمائندے ہوں گے ۔حدیث انتہائی طویل ہے اس میں سے ایک جملہ پیش کرتا ہوں ، وَ قَدْ جعلتہ علیکُم حاکِماً،  امام معصومؑ کا فرمان ہے کہ جس مجتہد میں یہ شرائط  پائے جاتے ہوں اور جو مجتہد ان شرائط پرپورے اُترتےہوں ، وَ قَدْ جعلتہ علیکُم حاکِماً،  تواس کو میں نے تمہارے اوپر حاکم قرار دیا ہے ۔ اس کی مخالفت میری مخالفت ہے اور اس کی اطاعت میری اطاعت ہے ۔ پس جن شرائط کی بنیاد پر تقویٰ ، علم ،بصیرت، آگاہی ، مدیریت، خود شناسی ، خدا شناسی ، دشمن شناسی ، سیاست یہ تمام اسلامی حکومت کو چلانے کےلئے جس بابصیرت فقیہ اور جامع شرائط مجتہد کے پاس یہ خصوصیات موجود ہوں وہی اسلامی نظام کا سرپرست، سربراہ اور حاکم ہے جس کو امامِ خمینیؒ نے ولایتِ فقیہ سے تعیبر کیا ہے ۔
  والسلام علیکم ۔


 
امتیاز دهی
 
 

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر
 

اس بارے میں پڑہیں:
محبت اہل بیت علیہم السلام قرآن اور حدیث کی روشنی میں(5)
تقیہ کی شرعی حیثیت
  • 2016.7.9 суббота تقیہ کی شرعی حیثیت
    جنہوں نے اپنے قلم کو مسلمانوں پر کفر کا فتوا لگانے اور ان کی طرف بہتان اور خرافات وغیرہ کی نسبت دینے کےلئے وقف کر رکھا ہے اور اسی کے ساتھ وہ اس خوش فہمی میں بھی مبتلا ہیں کہ وہ بڑا اچھا کام انجام دے رہے ہیں مثال کے طور پر کچھ منافق اور مفاد پرست اہل تفرقہ وباطل افراد جنہوں نے شیعہ حضرات پر تہمتیں لگائیں ۔۔۔
گولیوں کا جواب پھولوں سے
  • 2016.2.2 вторник گولیوں کا جواب پھولوں سے
    ایک مسلسل اور طویل جدوجہد اور ایرانی عوام کی بے مثل قربانیوں کے بعد ایران میں خدا کے فضل و کرم سے جب امام خمینی جیسے عظیم رہنما کی قیادت میں ٢٢ بہمن ٧٥٣١ھ مطابق ١١ فروری٩٧٩١ء کو اسلامی انقلاب مکمل کامیابی۔۔۔
انقلاب ایران پر کربلا کے اثرات
  • 2016.2.2 вторник انقلاب ایران پر کربلا کے اثرات
    ١١فروری آزادیٔ ایران کا قومی دن ہے۔ ١٩٧٩ میں ایران شاہی میں حکومت کے جابرانہ نظام کے خلاف مذہبی اقدار پر مبنی ایک کامیاب عوامی انقلاب برپا کیا گیا جس نے ڈھائی ہزار سالہ شاہی نظام کو شکست فاش سے ۔۔۔
بہمن 1357(فروری 1979) کو صبح انقلاب کا طلوع
  • 2016.1.26 вторник بہمن 1357(فروری 1979) کو صبح انقلاب کا طلوع
    صوبائی اور ڈویژنل انجمنوں کے بل اور وہ کہ جسے شاہ ایران نے شاہ اور عوام کے سفید انقلاب سے تعبیر کیا تھا ، اس پر امام خمینیؒ اور بیدار مغز علما ٔ کے شدید اعتراض کے ساتھ ہی 1341 ہجری شمسی (1963ء) میں امام خمینیؒ کی عظیم انقلابی اور تاریخی تحریک کا آغاز ہوا...
[Part_khabar]

امام رضا علیہ السلام کی ملکوتی بارگاہ ایک ایسا دروازہ ہے جوخدا کی طرف کھلتا ہے۔ یہ ملکوتی بارگاہ ہر اس شخص کے لئے پناہ گاہ ہے جو رازونیاز کرنے کے لئےاس کی طرف دوڑا چلا آتا ہے، امام علی ابن موسیٰ الرضا علیہ السلام نے اپنی آغوش رحمت کو اپنے چاہنے والوں کے لئے پھیلا رکھاہے اور توس کی سرزمین پر اپنے وجود کی خوشبوسے اپنے زائرین اور مجاورین کی روح اور جان کو محبت اور رأفت سے نوازتے ہیں۔ لیکن ایسے آسمانی اور ملکوتی گوھر کا مہمان اور میزبان ہونا بھی کوئی آسان کام نہیں ہے ۔اور ایک ایسی فضا اورماحول کو جو امام ھمام کی شأن و منزلت کے مطابق ہو ایجاد کرنے کے لئے مسئولیت کا قبول کرناایک مھم اور مشکل کام ہے ۔ اس مھم کام کی ذمہ داری ادارہ ’’آستان قدس رضوی‘‘ کے اوپر ہے۔ ’’آستان قدس رضوی‘‘ رسمی طور پر ایک ایسے مجموعہ ہے جو حرم امام رضا علیہ السلام  اور اس کی موقوفات اور جتنے بھی اس کے متعلقات ہیں ان کی سرپرستی اور مدیریت کرتا ہے۔ یہ ادارہ اپنی تمام تر تلاش کو بہ روئے کار لاتے ہوئے امام رضا علیہ السلام کے زائرین اور مجاورین کی ضروریات کو نذورات اور زائرین کی موقوفات پر تکیہ کرتے ہوئے پوری کرتا ہے۔ حریم مقدس حرم کی نوسازی ومرمّت  اور اس کی حفاظت اور زائرین کی میزبانی کے لئےمتبرک مقامات کی آمادہ سازی، معرفت اور آسانی سے زیارت کرنے کے لئے مختلف امکانات کا مھیا کرنا، زائرین کی راھنمائی اور۔۔۔ یہ چند ایک آستان قدس رضوی کی ایسی خدمات ہیں جن کو پہلی نگاہ میں مشاھدہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن آستان قدس رضوی کی فعالیتوں کی حد و حدود ،حرم مطہر کے وسیع وعریض ابعاد سے بھی فراتر ہے۔ میوزیم، لائبریریز، یونیورسٹیاں اور مدارس، میڈیکل سینٹر اور ہسپٹلز اور انڈسٹریز سینٹرز،آستان قدس رضوی کی چند ایک دوسری فعالیتیں ہیں۔ اس ادارے کے مھم اھداف سےمزید آشنا ہونے کے لئے آپ آستان قدس رضوی کی بیس سالہ کی گئی پلاننگ کے مجوزات کو دیکھ سکتے ہیں۔