روضہ منوره حضرت امام علی رضاؑ کی ویب سائٹ

1395/11/23 شنبه

رسول اکرم (صلی الله علیه و آله و سلم) کی رحلت کے بعد کے واقعات (پہلا حصہ)

.
رسول اکرم (صلی الله علیه و آله و سلم) کی رحلت کے بعد کے واقعات (پہلا حصہ)

رسول اکرم (صلی الله علیه و آله و سلم) کی رحلت کے بعد کے واقعات

زهرا صداقتی، خلیل آباد، محقق مدرسه علمیه حضرت خدیجه (سلام الله علیها)

 ترجمہ: سید لیاقت علی کاظمی
خلاصہ:
حضرت زهرا (سلام الله علیها)کی شہادت کا موضوع ہمیشہ سے ہی اختلافی بحث کے گوشوں کو اجاگر کر جاتا ہے، اس تحقیق میں ہماری کوشش ہے کہ رسول اکرم (صلی الله علیه و آله و سلم)کی رحلت کے بعد پیش آنے والے واقعات کا اہل تشیع اور اہل تسنن کی معتبر کتابوں میں مندرج حقائق کے تناظر میں جائزہ لیں ۔

مقدمہ:
پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)کی رحلت کے بعد حضرت زهرا (سلام الله علیها) اور انکے شوہر علی بن ابیطالب (علیه السلام)کی زندگی عجیب و غریب حادثات کا شکار نظر آتی ہے؛ ہم اس مقالہ میں ان ساری تاریخی رودادوں کو جو پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)کی رحلت کے بعد سے لیکر حضرت زهرا (سلام الله علیها)کی شہادت تک پیش آئی ہیں،ان سبکو، اہل سنت اور شیعہ نقطۂ نظر کو محوریت قرار دیتے ہوئے قلمبندکرینگے،مجموعی طور پر اگر دیکھیں اور روایات کا جائزہ لیں تو یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)کی پارۂ جگر، انہیں واقعات کی تاب نہ لاتے ہوئے بیماری اور کمزوری اور پھر شہادت کی منزلیں طئے کرنے پر مجبور ہوجاتی ہیں، مندرجہ ذیل نکات پر توجہ فرمائیں:

۱:  اہل سنت کے نقطۂ نگاہ سے،سقیفۂ بنی ساعدہ کی خلافت اور بنت نبی(صلی الله علیه و آله)کی دعوت ولایت 
پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)وفات پاتے ہیں ، علی ابن ابیطالب علیہ السلام اور کچھ دوسرے بزرگان اسلام آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ کے گھر میں رسولخدا صلی اللہ علیہ و آلہ کے بدن مطہر کو غسل و کفن کے لئے آمادہ کرنے میں مشغول تھےاور دوسری طرف فاطمہ زھرا سلام اللہ علیہا اپنے پیارے بابا کے غم میں ڈوبی ہوئی ہیں،جبکہ کچھ صحابہ ایک سوچی سمجھی سازش اور پہلے سے بچھائے ہوئے اپنے نقشہ پر عمل کرتے ہوئے ابھی پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ کے جنازہ کو کفن بھی نہیں پہنایا گیا تھا کہ جلدی جلدی سقیفہ بنی ساعدہ پہنچ گئے اور بہت جلدی میں ایک گمراہ کن ماحول بناتے ہوئے ایک خودساختہ خلیفہ کو مسند نشین کردیا جاتا ہے۔

مرحوم ابن آشوب، مناقب میں ام سلمہ سے نقل کرتے ہیں کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ کی رحلت کے بعد فاطمہ سلام اللہ علیہا کے پاس تعزیت کے لئے آئیں اور کہا: ’’اے بنت پیغمبر آپکے روز و شب کیسے گذر رہے ہیں؟حضرت فاطمہ علیہا السلام نے فرمایا: میری صبح ایسی ہوتی ہے کہ غم و اندوہ کے اندھیرے مجھے چاروں طرف سے گھیرے ہوتے ہیں ، پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ کو میں نے کھو دیا اور انکے وصی مظلومیت کی زندگی گذارنے پر مجبور ہیں حریم و حرمت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ کوپائمال کردیا گیا ہے ۔ ۱  (ابن شهر آشوب، مناقب آل ابىطالب، ج2، ص205)

سقیفہ کے واقعہ کے بعد فاطمہ سلام اللہ علیہا علی علیہ السلام کی ولایت کے دفاع میں اور اپنے شوہر کے خلاف رچی گئی سازش کو بے نقاب کرنے کے لئے جگہ جگہ جاکر حقیقت پر سے پردہ اٹھانے کی کوشش فرماتی ہیں، ابن قتیبہ اہل سنت کے مشہور مؤرخ و مصنف لکھتے ہیں:

جب رات ہوجاتی، علی ابن ابیطالب (علیه السلام) فاطمه (سلام الله علیها)کو ایک مرکب پر سوار فرماتے اور مدینہ کے انصار کی مجلسوں میں لیکر جاتے اور فاطمه (سلام الله علیها)انہیں اپنے شوہر کی مدد کی دعوت دیتیں اور ان سے مدد کی درخواست فرماتیں لیکن وہ فاطمه (سلام الله علیها)کے جواب میں کہتے:اے دختر رسولخداہماری بیعت اس شخص (خلیفہ اول)کے ساتھ ہوچکی ہے ، اگر آپکے شوہر اورآپ کے چچازاد اس سے پہلے ہمارے پاس آتے تو ہم کسی اور کو ان پر ہرگز ترجیح نہ دیتے اور انکی ہی بیعت کرتے !جب علی ابن ابیطالب (علیه السلام)یہ باتیں سنتے تو ان سے فرماتے: کیا یہ اچھا ہوتا کہ میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ کے جنازہ کو انکے گھر میں زمین پر پڑا رہنے دیتا اور دفن نہ کرتا اور خلافت کے مسئلہ کو لیکر لڑائی کرنے پر تُل جاتا؟( کیا آپ حضرات کی مجھ سے  یہی توقع تھی؟)جب بات یہاں تک پہنچتی فاطمہ سلام اللہ علیہا فرماتیں: ابوالحسن نے وہی کام کیا جو مناسب تھالیکن ان لوگوں نے ایسا کام کیا جو خداوند متعال کی بازپرس اور اسکے غضب کا سبب قرار پائیگا۔۲  (ابن قتیبه، الامامه و السیاسه، ج1، ص12)

جیسا کہ خود اہل سنت کے بیانات سے روشن ہوجاتا ہے کہ سقیفہ کا ماجرا ایسے وقت میں پیش آیا جب پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ کا جنازہ بھی دفن نہیں ہوپایا تھا۔۔۔

۲۔ حضرت زهرا (سلام الله علیها) کے گھر کو نظر آتش کرنا
سقیفہ کا واقعہ پیش آتا ہے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ کا ایک صحابی خلافت کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں سنبھالتا ہے اور اب بیعت لینے کا بازار گرم ہے ،جنہوں نے سقیفہ کی سازش رچی تھی وہ علی علیہ السلام کی بیعت لیکر اپنی خلافت پر مہر تائید لگانے کے فِراق میں تھے اور اپنی غیر موجہ حکومت کو موجّہ کرنے کے درپئے تھے ،علی علیہ السلام کو بیعت کے لئے دوبار بلا چکے تھے لیکن ہر بار منفی جواب پاتے ، تیسری بار سقیفہ کے ماجرےکے پیشوا نے قنفذ نامی ایک سخت دل آدمی کو بیعت لینے کی غرض سے بنت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ  کے گھر کی طرف روانہ کیا لیکن علی علیہ السلام انہیں گھر میں آنے کی اجازت نہیں دیتے،

وہ اپنے لیڈروں کے پاس واپس آتے ہیں جو مسجد میں بیٹھے ہوتے ہیں اور ان سے سارے واقعات بیان کرتے ہیں اسی اثناء میں ایک آدمی بولتا ہے:’’واپس پلٹ جاؤ اگر وہ گھر میں آنے کی اجازت نہیں دیتے تو بغیر اجازت کے ہی انکے گھر پر ٹوٹ پڑو اور انہیں یہاں لیکر آؤ‘‘ اس بار بھی جب قنفذاور اسکے ساتھی آئےتو حضرت زهرا (سلام الله علیها)درمیان میں حائل ہوگئیں اور گھر میں آنے سے روک دیا جس بنا پر سب واپس لوٹ گئے سوائے قنفذ کے ،سقیفہ کا لیڈر دوسری بار بھی لوگوں کو واپس آتا دیکھ کر غصہ سے تلملاتے ہوئے کہتاہے: ’’ہمارے مسائل سے عورتوں کا کیا لینا دینا؟‘‘اور یہ کہتے ہوئے حضرت زهرا (سلام الله علیها) کے گھر کی طرف چل پڑتا ہے اور لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دیتا ہے، فاطمه، علی و حسنین (علیهم السلام) کے گھر کے چاروں طرف لکڑیا ں لگا دی جاتی ہیں اور وہ شخص چلاتے ہوئے کہتا ہے:اے علی ! خدا کی قسم یا تو گھر سے باہر نکلو اور خلیفۂ رسول اللہ کی بیعت کرو ورنہ پھر میں تمہارے گھر کو آگ لگا دونگا!۔

فاطمه (سلام الله علیها) دروازہ کے پیچھے سے شکایت بھرے لہجے میں فرماتی ہیں کیا تمہیں خدا کا خوف نہیں رہ گیا ؟
بنت رسول الله کے گھر کے دروازہ میں آگ لگادی گئی اور زبردستی دروازہ کو دھکا دیکر کھولا گیا اور وہ اپنے ساتھیوں سمیت گھر میں گھس آیا بنت رسول الله جو یہ سارا منظر دیکھ رہی تھیں ایک فریاد بلند کرتی ہیں (وا ابتاه!! یا رسول الله!!)جسکا جواب سقیفہ کے لیڈر نے کچھ یوں دیا کہ نیام میں لپٹی تلوار حضرت زهرا (سلام الله علیها)کے پہلو پر دے مارا۔۔۔۔۔3(ر.ک: رسولی محلاتی، زندگانی حضرت فاطمه (سلام الله علیها)، ص154)

وہ سب امیر المؤمنین کو تلاش کرتے ہوئے انکے پیچھے گئے علی (علیه السلام) اپنی جگہ سے اٹھے اور اپنے سامنے آنے والے شخص کا گریبان پکڑ کر زمین پر دے مارااور پھر قتل کرنا ہی چاہ رہے تھے کہ اچانک پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ کی وصیت یاد آگئی اور  پھر زمین پر پڑے شخص کا رونادھونا دیکھ کر اس کام سے اپنے ہاتھوں کو کھینچ لیا ، امام علی (علیه السلام)کو قیدی بناکر لے جایا جانے لگا، زهرای اطهر (سلام الله علیها) نے جب یہ ماجرا دیکھا تو کمال شجاعت کے ساتھ آگے بڑھیں اور راستہ روک کر کھڑی ہوگئیں لیکن قنفذ کے تازیانہ اور لوگوں کی بھیڑ نے فاطمه اطهر (سلام الله علیها)کو زمین پر گرا دیا جسکی وجہ سے وہ بچہ جو شکم میں تھا سقط کر گیا۔۔۔۔4 (ر.ک: رسولی محلاتی، همان، ص155)

امام علی (علیه السلام) سے بیعت لینے کے ماجرے میں حضرت فاطمه اطهر (سلام الله علیها)کے فرزند محسن علیہ السلام کی سقط ہونے کا معاملہ ایک ایسا واقعہ ہے جو نہ صرف شیعی روایات میں بلکہ اہل سنت کی کتابوں میں بھی مذکور ہے جیسا کہ شہرستانی ابن نظام اہل سنت کے بہت بڑے دانشور سے نقل کرتا ہے انکا کہنا ہے کہ بیعت لینے کے وقت سقیفہ کے ایک لیڈر نے فاطمه (سلام الله علیها)کے پہلو پر اس قدر مارا کہ آپ کا محسن سقط کرگیا اور ساتھ ہی وہ بولتا جا رہا تھا کہ گھر میں جو کوئی بھی ہو آگ لگا دو جبکہ گھر کے اندر سوائے علی و فاطمه و حسن و حسین (علیهم السلام)کے کوئی اور نہیں تھا۔۔۔۔۔5(ر.ک: شهرستانی، ملل و نحل، ج1 ص77)

علی (علیه السلام) دستگیر کرلئے جاتے ہیں،اور گریبان پکڑے ہوئے بیعت کی خاطر سقیفہ کی طرف لے جائے جاتے ہیں حضرت زهرا (سلام الله علیها) جو پہلے سے ہی باپ کے غم میں نڈھال ہیں اپنے شوہر کی حالت دیکھ کر بے تاب ہو اٹھتی ہیں اور گھر سے باہر نکل آتی ہیں اور ایک صحابی سے بد دعا کردینے کی بات کہتی ہیں۔

علی (علیه السلام) اس ڈر سے کہ کہیں حضرت زهرا (سلام الله علیها)کی بد دعا شہر مدینہ کو نیست و نابود نہ کردے فوراً سلمان کو حضرت زهرا (سلام الله علیها) کے پاس اس پیغام کے ساتھ بھیجتے ہیں کہ گھر میں واپس چلی جائیں!! حضرت زهرا (سلام الله علیها)  جواپنے شوہر کی فرمانبردار اطاعت گذار اپنے مولا کی آواز پر لبیک کہنے والی،جنکا اخلاق اور رفتار و کردار و ایمان و شوہرداری سب رضائے خدا کے لئے تھاسر تسلیم خم کرلیتی ہیں۔

علی (علیه السلام) خلیفۂ اول کی بیعت کرنے سے منع کردیتے ہیں لیکن عباس بن عبد المطلب بیچ میں واسطہ بنتے ہوئے علی (علیه السلام) کے ہاتھ کو خلیفۂ اول کے ہاتھ پر لگا بھر دیتے ہیں جس سے غاصبین خلافت اسی مقدار کی بیعت پر راضی ہوجاتے ہیں۔۔۔۔6 (ر.ک: رسولی محلاتی، همان، ص79)

۳۔ غصب فدک
پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ کی رحلت کے بعد کا ایک اور واقعہ سرزمین فدک کا غصب کیا جانا ہے جو کہ ایک باپ کا اپنی بیٹی کو دی گئی میراث تھی۔
غصب فدک کے واقعہ کی جانچ پڑتال کیونکہ مفصل وضاحت کی طلبگار ہے کہ کیسے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ نے اسے حضرت زهرا (سلام الله علیها) کو عطا فرمایا تھا اسلئے ہم اسے آئندہ مقالہ میں پیش کرینگے۔

نتیجہ:
پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ کی رحلت کے بعد حضرت زهرا (سلام الله علیها) کی زندگی مصائب و آلام کی شکار ہوگئی جسمیں سے سقیفہ کا واقعہ اور آپکے کے گھر کو آگ لگایا جانا اور فدک کو غصب کئے جانے کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے اور جو چیز مختلف فرقوں کے بیانات کی روشنی میں حاصل ہوتی ہے وہ یہی ہے کہ آپکی بیماری جو آپکی شہادت کا باعث بنی یہی سارے ناگفتہ بہ حادثات تھے۔
 
منابع و ماخذ:
1- کَیفَ أَصبَحتِ عَن لَیلَتَکِ یا بِنتَ رَسُولِ الله صلى الله علیه و آله؟ قالَتْ: اَصْبَحْتُ بَیْنَ کَمَدٍ وَکَرْبٍ، فُقِدَ النَّبِىُّ وَظُلِمَ الْوَصِىُّ، هُتِکَ وَاللهِ حِجابُهُ ... ؛ ابن شهر آشوب، مناقب آل ابىطالب، تهران، علامه، ۱۳۷۹ق، ج2، ص205.
2- ابن قتیبه، عبدالله بن مسلم، الامامه و السیاسه، محقق علی شیری، بیروت، دار الاضواء، بی تا، ج1، ص12.
3- ر.ک: رسولی محلاتی، سید هاشم، زندگانی حضرت فاطمه (سلام الله علیها)، هفتم، بی جا، فرهنگ اسلامی، 1381، ص154.
4- ر.ک: زندگانی حضرت فاطمه (سلام الله علیها)، ص 155.
5- ر.ک: شهرستانی، محمد عبدالکریم، ملل و نحل، ترجمه‌ افضل الدین صدر ترکۀ اصفهانی،تهران، چاپ محمدرضا جلالی نائینی، ۱۳۳۵، ج1، ص77.
6- ر.ک: زندگانی حضرت فاطمه (سلام الله علیها)، ص79.
 


 
امتیاز دهی
 
 

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر
 

اس بارے میں پڑہیں:
[Part_khabar]

امام رضا علیہ السلام کی ملکوتی بارگاہ ایک ایسا دروازہ ہے جوخدا کی طرف کھلتا ہے۔ یہ ملکوتی بارگاہ ہر اس شخص کے لئے پناہ گاہ ہے جو رازونیاز کرنے کے لئےاس کی طرف دوڑا چلا آتا ہے، امام علی ابن موسیٰ الرضا علیہ السلام نے اپنی آغوش رحمت کو اپنے چاہنے والوں کے لئے پھیلا رکھاہے اور توس کی سرزمین پر اپنے وجود کی خوشبوسے اپنے زائرین اور مجاورین کی روح اور جان کو محبت اور رأفت سے نوازتے ہیں۔ لیکن ایسے آسمانی اور ملکوتی گوھر کا مہمان اور میزبان ہونا بھی کوئی آسان کام نہیں ہے ۔اور ایک ایسی فضا اورماحول کو جو امام ھمام کی شأن و منزلت کے مطابق ہو ایجاد کرنے کے لئے مسئولیت کا قبول کرناایک مھم اور مشکل کام ہے ۔ اس مھم کام کی ذمہ داری ادارہ ’’آستان قدس رضوی‘‘ کے اوپر ہے۔ ’’آستان قدس رضوی‘‘ رسمی طور پر ایک ایسے مجموعہ ہے جو حرم امام رضا علیہ السلام  اور اس کی موقوفات اور جتنے بھی اس کے متعلقات ہیں ان کی سرپرستی اور مدیریت کرتا ہے۔ یہ ادارہ اپنی تمام تر تلاش کو بہ روئے کار لاتے ہوئے امام رضا علیہ السلام کے زائرین اور مجاورین کی ضروریات کو نذورات اور زائرین کی موقوفات پر تکیہ کرتے ہوئے پوری کرتا ہے۔ حریم مقدس حرم کی نوسازی ومرمّت  اور اس کی حفاظت اور زائرین کی میزبانی کے لئےمتبرک مقامات کی آمادہ سازی، معرفت اور آسانی سے زیارت کرنے کے لئے مختلف امکانات کا مھیا کرنا، زائرین کی راھنمائی اور۔۔۔ یہ چند ایک آستان قدس رضوی کی ایسی خدمات ہیں جن کو پہلی نگاہ میں مشاھدہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن آستان قدس رضوی کی فعالیتوں کی حد و حدود ،حرم مطہر کے وسیع وعریض ابعاد سے بھی فراتر ہے۔ میوزیم، لائبریریز، یونیورسٹیاں اور مدارس، میڈیکل سینٹر اور ہسپٹلز اور انڈسٹریز سینٹرز،آستان قدس رضوی کی چند ایک دوسری فعالیتیں ہیں۔ اس ادارے کے مھم اھداف سےمزید آشنا ہونے کے لئے آپ آستان قدس رضوی کی بیس سالہ کی گئی پلاننگ کے مجوزات کو دیکھ سکتے ہیں۔