روضہ منوره حضرت امام علی رضاؑ کی ویب سائٹ

1395/11/23 شنبه

رسول اکرم (صلی الله علیه و آله و سلم) کی رحلت کے بعد کے واقعات(دوسراحصہ)

.
رسول اکرم (صلی الله علیه و آله و سلم) کی رحلت کے بعد کے واقعات(دوسراحصہ)

رسول اکرم (صلی الله علیه و آله و سلم) کی رحلت کے بعد کے واقعات(دوسراحصہ)

زهرا صداقتی، خلیل آباد، محقق مدرسه علمیه حضرت خدیجه (سلام الله علیها)

ترجمه:سید لیاقت علی کاظمی
پیغمبر گرامی صلی اللہ علیہ وآلہ رحلت فرماجاتے ہیں جسکے غم میں حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہاسوگوار ہیں وہ بھی ایک ایسے باپ کے غم میں جسکی پوری زندگی سیر الی اللہ کا نمونہ تھی ، مدینہ کے لوگوں کی ساری ہمدردی حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے ساتھ ہے ، لیکن جیسا کہ گذشتہ مقالہ میں بیان کیا گیا کہ مدینہ کے کچھ لوگوں نے اپنے شرپسندانہ مقاصد کو پورا کرنے کے لئے سقیفہ میں ایک سازش رچی اور علی علیہ السلام جو خلافت کے اصلی حقدار تھے ان سے خلافت غصب کرلی گئی اور پھر بنت پیغمبر کے گھر کو آگ لگایا گیا جسکی وجہ سے آپکے فرزند محسن علیہ السلام سقط فرما گئے ،اب ہم اس مقالہ میں فدک کے ماجرے کی چھان بین کرینگے جو پیغمبر گرامی صلی اللہ علیہ وآلہ کی رحلت کے بعد کا ایک نہایت ناگوار واقعہ ہے جسمیں صحابہ کی امر پیغمبر گرامی صلی اللہ علیہ وآلہ سے سرپیچی صاف نظر آتی ہے۔

۱۔ فدک کا واقعہ:
ہجرت کے ساتویں سال اور پیغمبر گرامی صلی اللہ علیہ وآلہ کی رحلت سے چار سال پہلے کی ہی بات ہے کہ فدک والوں نے مسلمانوں سے لڑے بغیر پیغمبر گرامی صلی اللہ علیہ وآلہ کے سامنے سر تسلیم خم کردیا اور قرآن کی آیت کے مطابق کہ جسمیں ارشاد ہے : اور جو (مال) خدا نے اپنے پیغمبر کو ان لوگوں سے (بغیر لڑائی بھڑائی کے) دلوایا ہے اس میں تمہارا کچھ حق نہیں کیونکہ اس کے لئے نہ تم نے گھوڑے دوڑائے نہ اونٹ لیکن خدا اپنے پیغمبروں کو جن پر چاہتا ہے مسلط کردیتا ہے، اور خدا ہر چیز پر قادر ہے

جو مال خدا نے اپنے پیغمبر کو دیہات والوں سے دلوایا ہے وہ خدا کے اور پیغمبر کے اور (پیغمبر کے) قرابت والوں کے اور یتیموں کے اور حاجتمندوں کے اور مسافروں کے لئے ہے ۔۱
ان آیات پر عمل کرتے ہوئے پیغمبر گرامی صلی اللہ علیہ وآلہ نےفدک کی زمین فاطمہ زھرا سلام اللہ علیہا کے حوالے کردیا۔

قابل توجہ بات یہ بھی ہے کہ ’’غنیمت‘‘ فقہ کی اصطلاح میں اس مال کو کہا جاتا ہےجو جنگ کرنے کے بعد حاصل ہو جبکہ اسکے مقابلہ میں ’’فیء‘‘ ہے کہ جسے اصطلاح میں اس مال کو کہا جاتا ہے جو دشمن سے بغیر جنگ کئے حاصل ہو اور وہ فقط پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ کا ہی حق ہوتا  ہے۔2(ر.ک: تقریرات دروس حاج شیخ محمدجواد فاضل لنکرانی، ص26-30) اور فدک ایسی ہی سرزمین تھی جو مسلمانوں کی لشکر کشی کے بغیر حاصل ہوئی تھی جسکی وجہ سے یہ پیغمبر گرامی صلی اللہ علیہ وآلہ کی شخصی ملکیت میں شمار ہوتی ہے اسی بنا پر فوراً قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی: وَ آتِ ذَا اَلْقُرْبىٰ حَقَّهُ وَ اَلْمِسْکِینَ وَ اِبْنَ اَلسَّبِیلِ وَ لاٰ تُبَذِّرْ تَبْذِیراً  ﴿الإسراء، 26﴾اور رشتہ داروں اور محتاجوں اور مسافروں کو ان کا حق ادا کرواور فضول خرچی سے مال نہ اُڑاؤ ۔۳

جبرئیل نے اس آیت کے ضمن میں خدا کا یہ پیغام پہنچایا کہ: ’’فدک فاطمہ زھرا سلام اللہ علیہا کو دیا جائے‘‘ اس طرح فدک کو ایک باپ نے اپنی پیاری بیٹی کو عطا فرمادیاجسکی درآمد کوبنت رسول ہر سال فقراء میں تقسیم فرمادیا کرتی تھیں۔4( انصاری و رجایی، صدای فاطمی فدک، ص7)۔

پیغمبر گرامی صلی اللہ علیہ وآلہ کی رحلت ہوئےدس دن گذرچکے ہیں ،جسکے سوگ میں اور اسکے بعد ہونے والی نا انصافی سے پریشان نبی کی بیٹی مرثیہ خواں ہے ۔۔۔ مدینہ کے بہ ظاہر مسلمان لوگوں کی بے وفائی سےفاطمہ زھرا سلام اللہ علیہا حیرت زدہ ہیں ، علی علیہ السلام کے سوا جنکا کوئی ہمدرد نظر نہیں آتا ، ان دنوں فاطمہ زھرا سلام اللہ علیہاکی روح کو آرام پہچانے والی کوئی چیزنہیں تھی سوائے پیغمبر گرامی صلی اللہ علیہ وآلہ کی اس بشارت کے جسمیں پیغمبر گرامی صلی اللہ علیہ وآلہ نےاپنی وفات کے وقت ارشاد فرمایا تھا کہ تم سب سے پہلے مجھ سے آن ملو گی  جسکے انتظار میں فاطمہ علیہا السلام اپنے دن اور رات گذار رہی تھیں ۔5(بخاری، صحیح بخاری، ج 3، ص 1326)

پیغمبر گرامی صلی اللہ علیہ وآلہ کی رحلت کے دس دنوں کے اندر ہی نیا خلیفہ اپنے کارندوں کو فدک کی جانب راوانہ کرتا ہے اور وہاں موجود فاطمہ علیہا السلام کے نمائندہ کو نکال دیا جاتا اور اس سرزمین کو غصب کرلیا جاتا ہے اور اسکی درآمد کو اپنی ظالمانہ و جابرانہ حکومت کے اخراجات کو پورا کرنے میں لگا دیا جاتا ہے۔

۱۔۱۔ فاطمہ زھرا سلام اللہ علیہا سے فدک کی دستاویز کا مطالبہ

اب وہ وقت آن پہنچا کہ اپنے غاصبانہ اقدام پر حق کا لباس اڑھانے کی سعئ لا حاصل کی جانے لگی اسی لئے فاطمہ زھرا سلام اللہ علیہا سے فدک کی دستاویز کا مطالبہ کیا گیا ، فاطمہ زھرا سلام اللہ علیہا فدک کی دستاویز لائیں اور انہیں دکھایا اور فرمایا کہ یہ پیغمبر گرامی صلی اللہ علیہ وآلہ کی میرے اور میرے بچوں کے نام تحریر ہے لیکن انہوں نے نہ صرف یہ کہ اس دستاویز کو کوئی اہمیت نہیں دی بلکہ فدک کی دستاویز کو فاطمہ زھرا سلام اللہ علیہا سے لیکر لوگوں کے سامنے ہی اس پر تھوک دیا اور پھر پارہ پارہ کردیا اور علی الاعلان پیغمبر گرامی صلی اللہ علیہ وآلہ کے حکم کی مخالفت کا اعلان کردیا۔6(ر.ک: انصاری و رجایی، همان، ص 6)

۱۔۲۔جعلی دستاویز کی تیاری
دوسرا قدم جو فدک کے غصب کو صحیح ٹھہرانے کے لئے کیا گیا وہ ایک جعلی دستاویز کی تیاری ایک جعلی حدیث کے ذریعہ تھی جسکا مضمون کچھ یوں ہے: «نحن معاشر الأنبیاء لا نورث؛ ہم پیغمبر ارث نہیں چھوڑتے»؛جبکہ اصحاب پیغمبر میں سے کسی ایک نے بھی اس حدیث کی صحت کے بارے میں گواہی نہیں دی سوائے عائشہ ، حفصہ اور ایک عرب کے بدّو کے جسکا نام مالک بن اوس بن حدثان تھا ۔7(مجلسی، بحارالانوار، ج29، ص134، ص156)۔

حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہااس جعلی حدیث کے مقابلہ میں ارشاد فرماتی ہیں : ’’ یہ پہلی ناحق گوہی ہے ،فدک کو پیغمبر گرامی صلی اللہ علیہ وآلہ نے مجھے عطا فرمایا تھا اور میرے پاس گواہ بھی موجود ہیں‘‘ انہوں نے کہا: اپنی دلیل پیش کرو، حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے پیغمبر گرامی صلی اللہ علیہ وآلہ کے زمانہ میں اپنے مالکانہ تصرف کو بطور دلیل پیش کیا اور پھر فرمایا: ’’ایسا کیوں ہے کہ جو چیز خود میری ملکیت ہے اسکے بارے میں خود مجھ سےہی دلیل مانگی جارہی ہے؟‘‘8(انصاری و رجایی، وہی کتاب، ص7) سقیفہ کے لیڈروں نے حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی باتوں پر توجہ ہی نہیں دی اور کہنے لگے : چونکہ یہ مسلمانوں کے ’’غنیمت‘‘ میں سے ہے اسلئے دلیل لاؤ !! 9(مجلسی، بحارالانوار، ج29، ص134، 189، 194)
آخر کار حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی فریادوں اور دلیلوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا اور فدک جو حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کا حق تھا اسے زبردستی لے لیا گیا۔

حلبی اس بارے میں لکھتا ہے:جب خلیفہ فدک کو حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے ارث کے عنوان سے بھی دینے کو راضی نہ ہوا تو حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے ایک محیر العقول خطبہ ارشاد فرمایا جس میں انکی دلیلوں کو رسوا کر کے رکھ دیا حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے ان لوگوں سے پوچھا یہ بتاؤ تمہارے بعد تمہاری میراث کا حقدار کون ہوگا؟ انہوں نے کہا : بیوی اور ہمارے بچے ، حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے ارشاد فرمایا : یہ کیسے ممکن ہے کہ تمہاری بیٹی تو تمہاری میراث کی حقدار بنے لیکن مجھے میرے باپ کی میراث نہ ملے کیا ایسا کوئی حکم کتاب خدا میں موجود ہے؟یہاں پر خلیفہ مسجد میں بیٹھے لوگوں کی سوالیہ نگاہوں کی تاب نہ لاتے ہوئے فدک حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو دینے کا حکم جاری کردیتا ہے مگر اسی دوران ایک صحابی مسجد میں داخل ہوتا ہے اور اس حکم نامہ کو دیکھتے ہوئے کہتا ہے یہ کیا ہے؟ بتایا گیا کہ یہ وہ حکم نامہ ہے جسمیں لکھا گیا ہے کہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا اپنے باپ کی میراث میں تصرف کرنے کا حق رکھتی ہیں ، تو اس نے کہا اگر فدک ہاتھ سے چلا گیا تو تم اپنی حکومت کا خرچ کیسے ادا کروگے یہ کہتے ہوئے اس نے اس حکم نامہ کو پارہ پارہ کردیا۔10 (حلبی، سیره حلبیه، ج3، ص488)

جو چیز شیعہ اور سنی کتابوں سے مجموعی طور پر سمجھ میں آتی ہے وہ یہی ہے کہ فدک حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کا حق تھا جسمیں کسی شک و شبہہ کی کوئی گنجائش نہیں اور جسے ناحق غصب کرلیا گیا۔

۲۔ شہادت حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا
حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہاکی عمر اس وقت ۱۸ سال سے زیادہ نہیں ہے وفات پیغمبر گرامی صلی اللہ علیہ وآلہ کو ابھی زیادہ دن بھی نہیں گذرے ہیں ، پیغمبر گرامی صلی اللہ علیہ وآلہ کی رحلت کے بعد مدینہ عجیب سے حادثات کا شکار ہے اور حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہاان تلخ حوادث کی تاب نہ لاتے ہوئے بستر بیماری پر ہیں ، بہت دن ہوئے کہ اپنے بابا کے ان دونوں صحابیوں سے بات کرنا بند کردیا تھا جو انکی اس حالت کے ذمہ دار تھے۔

ابن حدید اور دوسرے افراد کی گواہی موجود ہے کہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہاجب تک زندہ تھیں ان دو صحابیوں سے ناراض رہیں اور بات نہیں کی۔11 «ابن ابی الحدید، شرح نهج البلاغه، ج4، ص81) یہ بھی قابل توجہ بات ہے کہ اہل سنت کے دو بہت بڑے محدث یعنی بخاری ان تمام تعصبات کے باوجود جو وہ رکھتے تھے اسی طرح مسلم نے اپنی کتاب میں حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی خلیفہ سے ناراضگی کے بارے میں ذکر کیا ہے ۔

بخاری عائشہ سے نقل کرتے ہوئے لکھتا ہے:’’نبی کی بیٹی فاطمہ خلیفۂ اول سے ناراض اور ان سے روگرداں رہیں اس ناراضگی کا سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ آپ کوچ فرماگئیں‘‘12(بخاری، صحیح بخاری، ج4، ص63)

’’آخر کار خلیفۂ وقت قسم اٹھاتا ہے کہ جب تک حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہاکو راضی نہیں کرلیتا کسی بھی چھت کے زیر سایہ نہیں بیٹھے گا‘‘۔13(شیخ صدوق، علل الشرایع، ج1، ص178)اسی لئے علی علیہ السلام کا دامن تھامتے ہیں ،اور کتنے عظیم انسان ہیں علی علیہ السلام کہ ان ظلم وستم اور ناانصافی کے باوجود وساطت کا کام انجام دے رہے ہیں اور حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا وہ عظیم خاتون ہیں جو بستر بیماری پر بھی اپنے شوہر کی اطاعت گذار ہیں۔

وہ دونوں صحابی حضرت کے بالیں کی طرف آتے ہیں مگر حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا تین بار اپنے رخ کو انکی طرف سے پھیر لیتی ہیں ، اور جب آخر کار بنت نبی کی رضایت حاصل کرنے کے لئے انکا اصرار بڑھتا ہی جاتا ہے تو نبی کی بیٹی ارشاد فرماتی ہیں:’’ میں تم سے اس وقت تک نہیں بولوں گی جب تک میرے سوال کا جواب نہیں دے لیتے اسکے بعد انکو قسم دلاتے ہوئے پوچھتی ہیں:’’تمہیں خدا کی قسم ہے کیا تمہیں صحیح سے یاد ہے اور تم نے سنا ہے کہ پیغمبر گرامی صلی اللہ علیہ وآلہ نے ارشاد فرمایا ہے کہ: فاطمہ میرا ٹکڑا ہے اور میں اس سے ہوں ،جو کوئی بھی فاطمہ کو تکلیف پہنچائے گا گویا اس نے مجھے تکلیف پہنچائی ہے اور جو کوئی مجھے تکلیف پہنچائے گویا ایسا ہے کہ اس نے خدا کو تکلیف پہنچائی، اور جو کوئی فاطمہ کو میری رحلت کے بعد ستائے وہ اسی طرح ہے جیسے اس نے میری حیات اور میری زندگی میں اسکو تکلیف پہنچایا اور ستایا ہے اور جو کوئی اسے میری حیات میں اسے ستائے وہ اسی طرح ہے کہ اس نے میری موت کے بعد اسے ستایا ہے؟‘‘ ان دونوں نے جواب دیا: ’’بالکل جی ہاں! خدا کی قسم ہے ہم نے پیغمبر گرامی صلی اللہ علیہ وآلہ کی یہ حدیث سنی ہے!‘‘ (رسولی محلاتی، زندگانی حضرت فاطمه (س)، ص161)۔

حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہانے ان سے انکا جب یہ اقرار سن لیا تو ارشاد فرمایا:’’پروردگارا تو گواہ رہنا اور اے وہ لوگوں جو میرے پاس ہو تم بھی گواہ رہنا کہ ان دو لوگوں نے مجھے ستایا اور تکلیف پہنچائی میری زندگی میں اور جب میں موت کے قریب ہوں تب بھی اور خدا کی قسم ہے کہ میں تم سے کوئی بات نہیں کرونگی یہاں تک کہ اپنے بابا کا دیدار کروں اور تم دونون کی شکایت انکے حضور پیش کروں‘‘۔

اسکے بعد خلیفہ بے تابی کے عالم میں رونے لگا اور اسکا ساتھی غصہ کے عالم میں اسے اس کام سے روک رہا تھا اور اسی طرح دونوں حضرت کی محفل سے باہر آگئے۔15 (رسولی محلاتی، وہی حوالہ)۔
حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی بیماری شدت پکڑتی جارہی ہے حضرت علی علیہ السلام سے وصیت فرماتی ہیں کہ ہوشیار رہیں کہ کہیں میرے حق کے  غاصب کہیں میرے محل دفن سے آگاہ نہ ہوجائیں اس طرح حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا اپنے اوپر ڈھائے گئے مظالم کو لوگوں کے سامنے آشکار اور اس کام کو انجام دینے والے افراد کے چہروں سے انکے نقاب نوچ پھینکنا چاہتی تھیں، اس سلسلے میں بخاری لکھتا ہے: ’’ جب فاطمہ اس دنیا سے کوچ فرما گئیں تو انکے شوہر علی نے انکو راتوں رات دفن کردیا اور خلیفہ کو خبر تک نہیں ہونے دی۔16 (بخاری، همان، ج5، ص139)۔

اور اس طرح پیغمبر گرامی صلی اللہ علیہ وآلہ کی پیاری بیٹی اپنے باپ کی رحلت کے کچھ دنوں بعد ہی غم و اندوہ سے لبریز دل لئےاپنے بابا کے پاس سرائے حق کو کوچ فرماجاتی ہیں۔

مصادر و ماخذ:
1- وَمَا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَیْهِ مِنْ خَیْلٍ وَلا رِکَابٍ وَلَکِنَّ اللهَ یُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلَى مَنْ یَشَاءُ وَاللهُ عَلَى کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ.
2- ر.ک: تقریرات دروس حاج شیخ محمدجواد فاضل لنکرانی، قاعده لاحرج، ص26-30.
3- وَ آتِ ذَا الْقُرْبى حَقَّهُ وَ الْمِسْکِینَ وَ ابْنَ السَّبِیلِ وَ لاتُبَذِّرْ تَبْذِیراً.
4- ر.ک: انصاری، محمدباقر و سیدحسین رجایی، صدای فاطمی فدک، قم، دلیل ما، 1381، ص7.
5- ۔بخاری، صحیح البخاری، سوم، بیروت، دار ابن کثیر، 1407ق، ج3، ص1326، ح3426.
6- صدای فاطمی فدک، ص6.
7- مجلسی، محمدباقر، بحارالانوار، تهران، اسلامیه، بی تا، ج29، ص134، ص156.
8- ر.ک: صدای فاطمی فدک، ص7.
9- بحارالانوار، ج29، ص134، 189، 194.
10- حلبی، علی ابن ابراهیم، السیره الحلبیه، بیروت، دارالکتب العلمیه، ج3، ص488.
11- ابن ابی الحدید، شرح نهج البلاغه، ج4، ص81.
12- فَغَضِبَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رسول اللهِ (ص) فَهَجَرَتْ أَبَابَکْرٍ فلم تَزَلْ مُهَاجِرَتَهُ حتى تُوُفِّیَتْ؛ بخاری، صحیح بخاری، ج4، ص63.
13- ابن بابویه، محمد بن علی (شیخ صدوق)، علل الشرایع، قم، داوری، بی تا، ج1، ص178.
14- رسولی محلاتی، سید هاشم، زندگانی حضرت فاطمه (س)، هفتم، بی جا، فرهنگ اسلامی، 1381، ص161.
15- زندگانی حضرت فاطمه (س)، ص161.
16- فلما تُوُفِّیَتْ دَفَنَهَا زَوْجُهَا عَلِیٌّ لَیْلاً ولم یُؤْذِنْ بها أَبَابَکْرٍ وَ صَلَّى علیها؛ صحیح بخاری، ج5، ص139.
 
 
 

 


 
امتیاز دهی
 
 

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر
 

اس بارے میں پڑہیں:
[Part_khabar]

امام رضا علیہ السلام کی ملکوتی بارگاہ ایک ایسا دروازہ ہے جوخدا کی طرف کھلتا ہے۔ یہ ملکوتی بارگاہ ہر اس شخص کے لئے پناہ گاہ ہے جو رازونیاز کرنے کے لئےاس کی طرف دوڑا چلا آتا ہے، امام علی ابن موسیٰ الرضا علیہ السلام نے اپنی آغوش رحمت کو اپنے چاہنے والوں کے لئے پھیلا رکھاہے اور توس کی سرزمین پر اپنے وجود کی خوشبوسے اپنے زائرین اور مجاورین کی روح اور جان کو محبت اور رأفت سے نوازتے ہیں۔ لیکن ایسے آسمانی اور ملکوتی گوھر کا مہمان اور میزبان ہونا بھی کوئی آسان کام نہیں ہے ۔اور ایک ایسی فضا اورماحول کو جو امام ھمام کی شأن و منزلت کے مطابق ہو ایجاد کرنے کے لئے مسئولیت کا قبول کرناایک مھم اور مشکل کام ہے ۔ اس مھم کام کی ذمہ داری ادارہ ’’آستان قدس رضوی‘‘ کے اوپر ہے۔ ’’آستان قدس رضوی‘‘ رسمی طور پر ایک ایسے مجموعہ ہے جو حرم امام رضا علیہ السلام  اور اس کی موقوفات اور جتنے بھی اس کے متعلقات ہیں ان کی سرپرستی اور مدیریت کرتا ہے۔ یہ ادارہ اپنی تمام تر تلاش کو بہ روئے کار لاتے ہوئے امام رضا علیہ السلام کے زائرین اور مجاورین کی ضروریات کو نذورات اور زائرین کی موقوفات پر تکیہ کرتے ہوئے پوری کرتا ہے۔ حریم مقدس حرم کی نوسازی ومرمّت  اور اس کی حفاظت اور زائرین کی میزبانی کے لئےمتبرک مقامات کی آمادہ سازی، معرفت اور آسانی سے زیارت کرنے کے لئے مختلف امکانات کا مھیا کرنا، زائرین کی راھنمائی اور۔۔۔ یہ چند ایک آستان قدس رضوی کی ایسی خدمات ہیں جن کو پہلی نگاہ میں مشاھدہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن آستان قدس رضوی کی فعالیتوں کی حد و حدود ،حرم مطہر کے وسیع وعریض ابعاد سے بھی فراتر ہے۔ میوزیم، لائبریریز، یونیورسٹیاں اور مدارس، میڈیکل سینٹر اور ہسپٹلز اور انڈسٹریز سینٹرز،آستان قدس رضوی کی چند ایک دوسری فعالیتیں ہیں۔ اس ادارے کے مھم اھداف سےمزید آشنا ہونے کے لئے آپ آستان قدس رضوی کی بیس سالہ کی گئی پلاننگ کے مجوزات کو دیکھ سکتے ہیں۔