روضہ منوره حضرت امام علی رضاؑ کی ویب سائٹ

1395/11/25 دوشنبه

پسندیدہ اورناپسنداعمال کے تشخیص کا معیارحضرت فاطمہ زہرعلیہاالسلام کی نظرمیں

.
پسندیدہ اورناپسنداعمال کے تشخیص کا معیارحضرت فاطمہ زہرعلیہاالسلام کی نظرمیں

پسندیدہ اورناپسنداعمال کے تشخیص کا معیارحضرت فاطمہ زہرعلیہاالسلام کی نظرمیں
 
خلاصہ:
مہم ترین قدم حق کی راہ میں اور مرضی الہی کے حصول کے لئے پسندیدہ اور نا پسند اعمال کے درمیان تشخیص دینا ہے روایات میں ملتا ہے کہ اس موضوع کے لئے اصلی معیار اہل بیت علیہم السلام کی پیروی کرنے میں ہے اور اہل بیت علیہم السلام کی ذات ہی حق اور باطل میں تشخیص کا مرکزی معیار ہے اور وہ نظریہ جو کہ تشخیص اعمال کے معیارکو فردی سمجھتا ہے باطل ہے۔

حق اور باطل کے تشخیص کا معیار فردی نہیں ہے لہذا اس راہ میں ضروری ہے کہ دین کے ماہرین کی طرف رجوع کیا جائے۔

1: وضاحت مطلب:
دین کو سمجھنے کے سلسلہ میں مہم ترین مسائل میں سے اہم مسئلہ پسندیدہ اور نا پسند اعمال کو پہچانناہے،کیونکہ عبادت کا مقصد خدا کی رضایت حاصل کرنا اور یہ کو شش کرنا کہ خدا وند متعال کے فرامین کی اطاعت کرتے ہوئے کمال کی منزل تک پہونچے اور محبت کے درجہ سے عبور کرتے ہوئے حقیقی شیعہ کے مقام کو حاصل کر لے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کس طرح ایک مومن بندہ اس رضایت کو حاصل کرے اور معبود کی اطاعت کی راہ میں قدم بڑھائے؟ اس سوال کے جواب میں جوکہ روایات اور قرآنی نصوص میںوارد ہوا ہے واضح ہوتاہے کہ مومن بندہ پر واجب ہے کہ وہ اللہ کے فرامین کوجوکہ رسولۖاوراہل بیت رسول علیہم السلام کے توسط سے نقل ہوئے ہیںاس پرعمل کرتے ہوئے اپنے امورکو رسولۖ اور اہل بیت علیہم السلا م کے سپرد کردے۔

یہی وجہ ہے کہ اس تحریر کا مقصد پسندیدہ اور نا پسند اعمال کی تشخیص کا حصول ہے۔مفروضہ تحقیق یہ ہے کہ حق اور باطل کے درمیان تشخیص کا معیار فردی نقطہ نظر نہیں ہے اس راہ میں ہمیں ماہرین دین کی طرف رجوع کرنا چاہیئے  اس امر کی ضرورت اس وجہ سے ہے کہ اہل بیت علیہم السلام سے محبت کرنے والے کو اہل بیت علیہم السلام کی ذات سے ہم رنگ ہونے کے لئے لا محالہ اہل بیت علیہم السلام کے فرامین کو عملی جامہ پہنانا ہوگا لہذا ہم کو چاہیئے کہ ایک ایسے معیار کو اختیار کریں کہ جو ہماری سچی اور حقیقی اطاعت کو ثابت کرسکے۔اس لئے کہ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:لو کان حبک صادقا لاطعتہ ۔۔۔۔ان المحب لمن یحب مطیع۔

''اگرتمہاری محبت سچی ہوگی تو تم اس کی اطاعت کروگے جس سے محبت کرتے ہو کیونکہ اگر کوئی کسی سے محبت کرتا ہے تو اس کی اطاعت کریگا''(آمالی شیخ صدوق ص ٤٨٩)

اس مضمون کے تشکیل کی اصل وجہ یہ ہے کہ ایام سوگواری فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے موقعہ پر ایک حدیث جوکہ فاطمہ زہرا علیہا السلام سے منقول ہے جس میں پسندیدہ اور نا پسند اعمال کے درمیان تشخیص کے معیار کو بیان کیاگیا ہے اور یہ روایت اس تفسیر میں جوکہ امام حسن عسکری علیہ السلام سے منسوب ہے اس طرح نقل ہوئی ہے کہ ایک شخص نے اپنی زوجہ سے کہا:حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے حضور میں جاؤ اور میری طرف سے ان سے عرض کرنا کہ  میں آپ کے شیعوں میں سے ہوں،کیا آپ بھی مجھے اپنے شیعوں میں سے شمار کرتی ہیں؟اس شخص کی زوجہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی خدمت میں آئی اور اپنے شوہر کے پیغام کو فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا تک پہونچایا۔حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے اس شخص کی زوجہ سے فرمایا:اپنے شوہر سے کہنا کہ جو کچھ بھی ہم اہل بیت عصمت و طہارت نے فرمایا ہے اگر اس پر عمل کرتے ہو اور جس چیز سے ہم نے منع کیا ہے  اس سے دور رہتے ہو تو تم ہمارے شیعوں میں سے ہو، ورنہ نہیں۔

زوجہ اپنے شوہر کے پاس آئی اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے قول کو اپنے شوہر سے بیان کیا وہ یہ سن کر رونے لگا اور آہ و بکا کرتا اور کہتا :میرے لئے یہ مصیبت اور افسوس کا مقام ہے ،کون ہے جو گناہوں میں آلودہ نہ ہو اگر میں گناہوں سے پاک نہ ہو سکا تو میں شیعہ نہ کہلا سکونگا اور جب میں شیعہ نہ رہاتو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم میں رہونگا اب میں کیا کروں یہ میرے لئے مصیبت کا مقام ہے!جب زوجہ نے اپنے شوہر کو اس طرح پرشان دیکھا تو حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا  کی خدمت میں حاضر ہوئی اور پورے ماجرے کوآپ سے عرض کیا،حضرت فاطمہ علیہا السلام نے اس خاتون سے فرمایا: اپنے خاوند سے کہنا ایسا نہیں ہے جیساکہ تم سوچ رہے ہو ہمارے نیک شیعہ اہل بہشت ہیں لیکن اگر وہ گناہ گار ہیں تو ان کے گناہ جومصیبتیں اور پریشانیاں ان پرصحرائے محشر اور یا وہ عذاب جو دوزخ کے اوپری حصہ میںان پر ہوتا ہے ان سب کی وجہ سے وہ گناہوں سے پاک ہو جاتے ہیں،اور جب وہ گناہوں سے پاک ہو جائیگے تو پھر ہم اہل بیت  ان کو جنت میں لے جائیں گے۔ (تفسیر امام حسن عسکری علیہ السلام ص ٣٠٨) (1)

2: تجزیہ حدیث

٢۔١ شیعہ اور محب میں فرق روایات اہل بیت علیہم السلام کی زبانی:
 اہل بیت علیہم السلام کی روایات میں حقیقی شیعوں کی کچھ خاص صفات بیان ہوئی ہیں اور انہی صفات سے شیعہ پہچانے جاتے ہیں لہذا صرف اہل بیت سے محبت کرنا شیعہ ہونے کے لئے کافی نہیں،اس لئے کہ بہت سے ایسے افراد بھی ہیں جو اہل بیت  سے محبت کا دعوی توکرتے ہیں لیکن وہ حقیقت مین شیعہ نہیں ہیں!جس طرح سے خودحضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام کی گزشتہ روایت میں اشارہ ہوا ہے۔

حقیقی شیعہ کو چاہیئے کہ وہ اہل بیت  کی اطاعت کرے اور ان کو دل و جان ، زبان ،عمل ، عبادت سےاپنی زندگی کے تمام امور میں نمونہ عمل قرار دے اور انکی عملی سیرت سے متصل رہے۔

حضرت فاطمہ علیہا السلام کی گزشتہ روایت کی طرح دیگر ائمہ  سے بھی اس موضوع پرروایات نقل ہوئی ہیں۔بطور مثال امام رضا علیہ السلام سے ایک روایت نقل ہوئی ہے ایک ایسی جماعت کی درخواست کے سلسلہ میں جوکہ سچے شیعہ ہونے کا دعوی کرتے  تھے ،جنکو شروع میں تو امام  نے ملاقات سے منع کیا اور اس طرح فرمایا:تم لوگوں نے اپنے شیعہ ہونے کا  یہ بہت بڑا دعوی کیا ہے اور تم نے اظہار کیا ہے کہ حضرت امیر المومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کے شیعہ ہو تمہارے لئے یہ افسوس کا مقام ہے ۔کیا تم اس کا مطلب جانتے ہو؟پھر اس کے بعد آپ نے فرمایا:حضرت علی علیہ السلام کے حقیقی شیعہ امام حسن  اور امام حسین  سلمان فارسی،ابوذر غفاری،عمار یاسر،اور محمد بن ابی بکر ہیں کہ جنہونے امام علی علیہ السلام کے فرامین کو انجام دینے میں ذرا سی بھی کوتاہی نہیں کی،لیکن تم واجبات کو انجام دینے میں کوتاہی کرتے ہو اور اپنے ایمانی بھایئوں کے حقوق کی ادائیگی میں بے پرواہ اور بے توجہ ہو جن امور میں تقیہ نہیں کرنا چاہیے تم اس میں تقیہ کرتے ہو،تم اپنے ایسے اعمال کے باوجود امام علی  کے شیعہ ہونے کا دعوی کرتے ہو! تم لوگوں نے اگر یہ کہا ہوتا کہ ہم امام علی  کے محب اور ان کے چاہنے والے ہیں اوران کے دشمنوں سے بیذاری کرتے ہیں،تو میں تمکو اپنے حضور میں قبول کر لیتا اور تم ان مشکلات اور پریشانیوں کو تحمل نہ کرتے  جو تم نے تحمل کی ہیں۔ تم لوگوں نے ایک عظیم دعوی کیا ہے اگر تم اپنے قول و فعل میں سچے نہ ہو گے تو ہلاک ہو جاؤ گے مگر یہ کہ اللہ تعالی کے فضل و کرم کے حامل قرار پاؤ اور اللہ کا لطف و کرم تمہارے شامل حال رہے۔
(تفسیر امام حسن عسکری علیہ السلام ص ٣١٤)

اس طرح کی اہل بیت سے نقل روایتوں میں شیعہ ہونے کے دعووں کو محب ہونے کے دعووں سے تعبیر کی گئی ہے۔کیونکہ شیعہ ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی طرف سے نہایت کوشش کرے تاکہ تقوی کے عالی ترین مقام تک رسائی ہو اور گناہان کبیرہ سے بلکہ صغیرہ گناہوں سے دوری کرے۔لیکن مقام  محب میں انسان سے گناہ سرزد ہوتے ہیں جبکہ وہ انہیں انجام سے نادم ہوتا ہے۔اسی وجہ سے توجہ کرنی چاہیئے کہ صرف محبت اہل بیتؑ  بہشتی ہونے کے لئے کافی نہیں ہے وہ چیزجو انسان کو کامیاب بناتی ہے وہ محبت ہے جو کہ ایمان قلبی اور عمل کے ہمراہ ہو جیساکہ قرآن کریم میں متعدد مقام پر ایمان اور عمل صالح ایک دوسرے کے ساتھ ذکر ہوئے ہیں ،اور ایک کی جدائی دوسرے کے نقصان کا باعث ہوگی ۔(2)

2-2: پسندیدہ اور نا پسند اعمال کی تشخیص کا معیار
مومن بندہ اگر چاہتا ہے کہ حق کی راہ میں قدم اتھائے تو وہ مجبور ہے کہ نیک اعمال انجام دے حب تک نیک عمل صحیح معنی میں انجام نہ دے گا تب تک وہ اس قابل نہ ہوگا کہ اسکو صحیح معنی میں شیعہ کہا جائے۔لہذا پہلا قدم نیک اعمال کو انجام دینے کے لئے پسندیدہ اور نا پسند اعمال میں پہچان حاصل کرنا ہے گزشتہ روایت کے مضمون سے جو اخذ ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ خوداہل بیتؑ کی ذات ،صحیح و غلط کی تشخیص کا معیار ہے ۔
صدر اسلام سے جو حدیثیں پیغمبر اسلام کی زبانی نقل ہوئی ہیں وہ اس بات پر گواہ ہیں کہ قول اور فعل اہل بیتؑ حق ہے۔ اور امر و نہی میں ان کی اطاعت انسان کو صراط مستقیم پرگامزن کر تی ہے۔
اہل بیت  کی ذات خود حق کا معیار اور صحیح و غلط کے درمیان تشخیص کا میزان ہے۔
امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ وہ ہمارے شیعوں  میں سے نہیں ہے جو زبان سے تو ہمارے شیعہ ہونے کا اظہار کرے لیکن عمل سے ہمارا مخالف ہو ،شیعہ وہ ہے جوکہ دل و زبان سے ہماری پیروی کرے اور ہمارے عمل کے مطابق عمل کرے،جو لوگ ایسے ہوں، وہ ہمارے شیعہ ہیں. (وسایل الشیعہ ج ١٥ ص ٢٤٧) (3)
 
دوسری جگہ امام صادقؑ فرماتے ہیں: کہ لوگوں کی ایک جماعت یہ گمان کرتی ہے کہ میں ان کا امام ہوں خداکی قسم میں انکا امام نہیں ہوں ان پر اللہ کی لعنت ہو کیونکہ جب بھی میں کسی راز کو مخفی کرتا ہوں وہ اس کو آشکار کرتے ہیں ،میں کہتا ہوں اس طرح ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے اس طرح قصد کیا ہے۔بیشک میں ان کا امام ہوں جو میری اطاعت کرتے ہیں. (الغیبة نعمانی ص٣٧) (4)

 اور اسی طرح سے ان لوگوں کے ردّ میں جو حق کو اہل بیت  کے بجاے دوسروں کے پاس تلاش کرتے ہیں  فرمایا:''جھوٹ کہتا ہے وہ شخص جو یہ خیال کرتاہے کہ ہمارے شیعوں میں سے  ہے لیکن ہمارے سوا کسی اور کی پیروی کرتاہے۔(صفات الشیعة شیخ صدوق ص ٣)(5) 

لہذا وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ انسان کا بس دل صاف ہو کافی ہے یا وہ جو دین کے سلسلہ میں بے پرواہی کے قایل ہیں انکو متنبہ کیا جائے کہ شیعہ امیر المومنین علی علیہ السلام وہ ہے جیسا کہ اہل بیت عصمت و طہارت علیہم السلام نے فرمایا کہ جو محبت کو عمل سے جدا نہ ہونے دے تواس وقت وہ یہ دعوی کر سکتا ہے کہ اہل بیت  کا مطیع اور پیرو ہے۔(6)

پیغمبرؐ کے زمانے سے لیکر دور حاضر تک کچھ نا سمجھ جماعتیں اپنے آپ کو قرآن کی تعلیمات کو سمجھنے کا دعوا کرتے ہوئے''حسبنا کتاب اللہ '(7) کے نعرے لگاتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ خودحکم دین اور تعلیمات دین کو قرآن اور حدیث سے اخذ کر سکتے ہیں ،اس بات سے غافل کہ  تفہیم قرآن و حدیث اور اعمال کی تشخیص ان کے بس کی بات نہیں جو دین کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

اہل بیت  کے زمانہ میں خود اہل بیتؑ لوگوں کے رجوع کا مرکز تھے لیکن اہل بیتؑ  کی غیبت کے زمانہ میں ہمیں چاہیئے کہ علماء دین کی طرف رجوع کریں ، حیسا کہ امام عصرعجل اللہ تعالی فرجہ الشریف سے روایت میں وارد ہوا ہے:''اما الحوادث الواقع فارجعوا فیہا الیٰ رواۃ احادیثنا فہم حجتی علیکم و انا حج اللہ علیہم'' جدید رونما ہونے والے مسائل میں ہمارے علماء دین کی طرف رجوع کرنا کیونکہ وہ تم پر حجت ہیں اور میں ان پر اللہ کی حجت ہوں؛(کمال الدین تمام النعمة شیخ صدوق ج ٢ ص ٤٨٤) ۔

3: پسندیدہ اور نا پسند اعمال کی تشخیص کا معیار روایات معصومینؑ میں۔
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض روایات میں نیک اعمال کے مصادیق بیان ہوئے ہیں اگر چہ یہ موقع وضاحت کا نہیں ہے لیکن بطور خلاصہ کچھ ان میں سے یہ ہیں :تواضع، خشوع، امانت کا اداکرنا، وعدہ کو پوراکرنا، زہد ،پانچوں وقت کی نماز پڑھنا،نماز شب، روزے رکھنا، زکات دینا، حج انجام دینا، گناہوں سے بچنا، زبان کی محافظت کرنا، لوگوں سے اچھی باتیں کرنا، تقوی اختیارکرنا،سچ بولنا، رازوںکو فاش نہ کرنا،پاک دامنی اور پیٹ کو حرام سے محفوظ کرنا۔مرحوم شیخ صدوق  کی صفات الشیعہ جیسی کتابوں میں رجوع کرنے سے اس موضوع پر بہت سی روایات مل جائیں گی۔

4۔نتیجہ
معرفتی نقطہ نظر اور علمی نتیجے کے طور پر اس چیز کو ذہن میں رکھتے ہوئے کہ روایات کے نقطہ نظر سے محب اور شیعہ میں فرق ہے، اہل بیت  سے محبت کرنے والوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ تقوی کے بلند مقام پر پہونچنے کے بعد شیعیت کے عالی مرتبہ پر فائز ہوں کیونکہ صرف محبت کافی نہیں، دل کے صاف ہونے کے علاوہ اور اہل بیت  پر دل سے اعتقاد کے ساتھ ضروری ہے کہ زندگی میں نیک عمل  سر لوحہ اعمال رہیں تاکہ حقیقی شیعہ کے اعزازی تمغہ کے لایق بن سکیں۔

حوالے۔
1: الامالی، محمد بن علی بن بابویہ (شیخ صدوق)، کتابچی، تہران، 1376ش۔
2: تصحیح الاعتقاد، محمد بن محمد بن نعمان (شیخ مفید)، کنگرہ شیخ مفید، قم، 1413ق.
3: تفسیر المنسوب الی الامام الحسن العسکری علیہ السلام، الامام الحسن العسکری علیہ السلام، مدرسہ الامام المہدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف، قم، 1409ق.
4: صحیح البخاری، محمد بن اسماعیل بخاری، دارالفکر، بیروت، 1401ق.
5: صفات الشیعہ، محمد بن علی بن بابویہ (شیخ صدوق)، اعلمی، تہران، 1362.
6:  الغیبہ، محمد بن ابراہیم بن ابی زینب، نشر صدوق، تہران، 1397ق.6
7: الفصول المختارہ، محمد بن محمد بن نعمان (شیخ مفید)، کنگرہ شیخ مفید، قم، 1413ق.
 
         
 
 
 
   
  
 
 

 


 
امتیاز دهی
 
 

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر
 

اس بارے میں پڑہیں:
امام حسین علیہ السلام اور اصحاب
اقوال زرین معصومین علیہم السلام
رہبر انقلاب اسلامی کا پالیسی خطاب، مزاحمتی معیشت اور امریکی سیاست سے متعلق رہنما ہدایات
امت واحد کے شیرازہ بکھیرنے کا پروجیکٹ
  • 2016.2.13 суббота امت واحد کے شیرازہ بکھیرنے کا پروجیکٹ
    یہ دیکھنا بیحد ضروری ہے کہ عالم اسلام کے باہر اس نظریہ کو کیسے دیکھا جاتا ہے۔ مسلمانوں کے سلسلہ میں ان کا منصوبہ کیا ہے اور انہوں نے اپنا منصوبہ کامیاب بنانے کے لئے کن چیزوں سے امیدیں وابستہ کررکھی ہیں۔ دشمن نے دو صدیوں پہلے سے ...
حضرت امام علی رضا علیہ السلام علاقہ میں اتحاد کا عظیم سبب
  • 2015.12.28 понедельник حضرت امام علی رضا علیہ السلام علاقہ میں اتحاد کا عظیم سبب
    حضرت امام علی رضا علیہ السلام اور تمام اہل بیت علیہم السلام کا مقام تمام مسلمانوں اور اہل سنت حتی غیر مسلم افراد کی نظر میں اور یہ کہ یہ عظمت و مقام کیسے وجود میں آیا، ابتداء اس مختصر مقدمہ کو بیان کیا جائے کہ ان بزرگوں کی عظمت اور مقام بطور کلی اس علم کی وجہ سے ہے کہ جو خداوندعالم نے اس کو عنایت فرمایا ہے ۔ وہ علم کہ جو پیغمبر اکرم (ص) سے امیر المومنین تک پہونچا اور آپ سے دوسرے آئمہ طاہرین علیہم السلام تک منتقل ہواہے۔
[Part_khabar]

امام رضا علیہ السلام کی ملکوتی بارگاہ ایک ایسا دروازہ ہے جوخدا کی طرف کھلتا ہے۔ یہ ملکوتی بارگاہ ہر اس شخص کے لئے پناہ گاہ ہے جو رازونیاز کرنے کے لئےاس کی طرف دوڑا چلا آتا ہے، امام علی ابن موسیٰ الرضا علیہ السلام نے اپنی آغوش رحمت کو اپنے چاہنے والوں کے لئے پھیلا رکھاہے اور توس کی سرزمین پر اپنے وجود کی خوشبوسے اپنے زائرین اور مجاورین کی روح اور جان کو محبت اور رأفت سے نوازتے ہیں۔ لیکن ایسے آسمانی اور ملکوتی گوھر کا مہمان اور میزبان ہونا بھی کوئی آسان کام نہیں ہے ۔اور ایک ایسی فضا اورماحول کو جو امام ھمام کی شأن و منزلت کے مطابق ہو ایجاد کرنے کے لئے مسئولیت کا قبول کرناایک مھم اور مشکل کام ہے ۔ اس مھم کام کی ذمہ داری ادارہ ’’آستان قدس رضوی‘‘ کے اوپر ہے۔ ’’آستان قدس رضوی‘‘ رسمی طور پر ایک ایسے مجموعہ ہے جو حرم امام رضا علیہ السلام  اور اس کی موقوفات اور جتنے بھی اس کے متعلقات ہیں ان کی سرپرستی اور مدیریت کرتا ہے۔ یہ ادارہ اپنی تمام تر تلاش کو بہ روئے کار لاتے ہوئے امام رضا علیہ السلام کے زائرین اور مجاورین کی ضروریات کو نذورات اور زائرین کی موقوفات پر تکیہ کرتے ہوئے پوری کرتا ہے۔ حریم مقدس حرم کی نوسازی ومرمّت  اور اس کی حفاظت اور زائرین کی میزبانی کے لئےمتبرک مقامات کی آمادہ سازی، معرفت اور آسانی سے زیارت کرنے کے لئے مختلف امکانات کا مھیا کرنا، زائرین کی راھنمائی اور۔۔۔ یہ چند ایک آستان قدس رضوی کی ایسی خدمات ہیں جن کو پہلی نگاہ میں مشاھدہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن آستان قدس رضوی کی فعالیتوں کی حد و حدود ،حرم مطہر کے وسیع وعریض ابعاد سے بھی فراتر ہے۔ میوزیم، لائبریریز، یونیورسٹیاں اور مدارس، میڈیکل سینٹر اور ہسپٹلز اور انڈسٹریز سینٹرز،آستان قدس رضوی کی چند ایک دوسری فعالیتیں ہیں۔ اس ادارے کے مھم اھداف سےمزید آشنا ہونے کے لئے آپ آستان قدس رضوی کی بیس سالہ کی گئی پلاننگ کے مجوزات کو دیکھ سکتے ہیں۔